اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیوغطریس کے مطابق نیا سال امن لائے گا یا اس میں مزید مایوسی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
EPAPER
Updated: February 05, 2026, 1:14 PM IST | New York
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیوغطریس کے مطابق نیا سال امن لائے گا یا اس میں مزید مایوسی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
فلسطینی عوام کے ناقابل تنسیخ حقوق یقینی بنانے سے متعلق اقوام متحدہ کی کمیٹی نے غزہ میں غیر مستحکم جنگ بندی اور مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل توسیع کے تناظر میں مسئلے کا دو ریاستی حل نکالنے کے مطالبے کا اعادہ کیا ہےاور علاحدہ فلسطینی ریاست پر زور دیا۔کمیٹی کے اجلاس میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیوغطریس نے فلسطینی مسئلے کے سیاسی حل کی تلاش کا عمل آگے بڑھانے کی فوری ضرورت پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا کہ زمینی حالات بدستور انتہائی نازک ہیں اور یہ سوال درپیش ہے کہ نیا سال امن لائے گا یا اس میں مزید مایوسی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
انہوں نے غزہ میں شہریوں کی مسلسل تکالیف، بڑھتی ہوئی نقل مکانی اور مغربی کنارے میں آبادکاروں کے تشدد اور فلسطینیوں کے گھروں کی مسماری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال ۳۷؍ہزار سے زیادہ فلسطینی اپنے گھروں سے بے دخل کئے گئے۔
سیکریٹری جنرل نے فلسطینی پناہ گزینوں کیلئے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے (انروا) کی حمایت کا اعادہ بھی کیا اور مقبوضہ علاقوں میں اقوام متحدہ کے دفاتر کی حفاظت اور عملہ کے تحفظ پر زور دیا۔ان کا کہنا تھا کہ دو ریاستی حل ہی اسرائیل-فلسطین تنازع کے حل کا واحد قابل عمل راستہ ہے۔سیکریٹری جنرل نے کہا کہ دو ریاستی حل کے تحت اسرائیل اور ایک مکمل طور پر آزاد، جمہوری، جغرافیائی طور پر مربوط، قابل عمل اور خودمختار فلسطینی ریاست ۱۹۶۷ءسے پہلے کی حالت میں محفوظ اور تسلیم شدہ سرحدوں کے اندر پرامن طور سے رہیں گے اور یروشلم دونوں ریاستوں کا مشترکہ دارالحکومت ہو گا۔
نومنتخب چیئرمین کولی سیک نے مسئلہ فلسطین کے سیاسی تصفیے کی جانب تیزرفتار سے کام کرنے اور انسانی و قانونی اصولوں کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کمیٹی ذمہ داری اور ثابت قدمی سے اپنا کام جاری رکھے گی۔ان کا کہنا تھا کہ اس کمیٹی کا کام جاری رہنا اس کے اراکین اور مبصرین کی حمایت کا نتیجہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران نے جوہری پروگرام دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کی: ٹرمپ کا دعویٰ
اقوام متحدہ میں فلسطینی مبصر ریاست کے مستقل مندوب ریاض منصور نے کمیٹی کے کام کا خیر مقدم کیا اور مستقل جنگ بندی، انسانی امداد کی غزہ میں بلا رکاوٹ رسائی اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی پر جوابدہی کے مطالبات دہرائے۔انہوں نے کہا کہ فلسطینی قوم اس کمیٹی اور ان حکومتوں کے کام کو کبھی فراموش نہیں کرے گی جو ان کے ناقابل تنسیخ حقوق کے حصول کی جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑی رہیں۔
یہ کمیٹی۱۹۷۵ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے قائم کی تھی جو فلسطینی عوام کے ناقابل تنسیخ حقوق بشمول حق خود ارادیت، قومی خودمختاری اور ان کی اپنے علاقوں اور گھروں کو واپسی کے حق کے لئے کام کرتی ہے۔
کمیٹی ہر سال جنرل اسمبلی کو رپورٹ پیش کرتی ہے اور اقوام متحدہ کے ڈویژن برائے فلسطینی حقوق کے ذریعے وکالت، بین الاقوامی اجلاسوں اور استعداد سازی کی سرگرمیوں کو مربوط کرتی ہے۔کمیٹی کے چیئرمین کولی سیک اقوام متحدہ میں پرتگال کے مستقل سفیر ہیں جنہوں نے حالیہ اجلاس میں ذمہ داریاں سنبھالی ہیں۔