Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایلون مسک کی دولت ۷۰۰؍ ارب ڈالر سے نیچے، اسپیس ایکس کے شیئرز بھی گرے

Updated: August 23, 2026, 3:59 PM IST | Washington

دنیا کے امیر ترین افراد میں شمار ہونے والے ایلون مسک کی مجموعی دولت میں اسپیس ایکس کے حصص میں شدید گراوٹ کے باعث بڑی کمی ہوئی ہے۔ فوربز کے مطابق جولائی کے آخر میں مسک کی دولت پہلی بار دوبارہ ۷۰۰؍ارب ڈالر سے نیچے گر کر تقریباً۷ء۶۹۵؍ ارب ڈالرس رہ گئی۔

Elon Musk.Photo:INN
ایلون مسک۔ تصویر:آئی این این

دنیا کے امیر ترین افراد میں شمار ہونے والے ایلون مسک کی مجموعی دولت میں اسپیس ایکس کے حصص میں شدید گراوٹ کے باعث بڑی کمی ہوئی ہے۔ فوربز کے مطابق جولائی کے آخر میں مسک کی دولت پہلی بار دوبارہ ۷۰۰؍ارب ڈالر سے نیچے گر کر تقریباً۷ء۶۹۵؍ ارب ڈالرس رہ گئی۔  اسپیس ایکس کے شیئرز اپنی جون کی بلند ترین سطح سے تقریباً ۵۰؍ فیصد نیچے  آ گئے۔۱۶؍ جون کو حصص تقریباً  ۲۰۲؍ ڈالر کی بلند ترین سطح تک پہنچے تھے، لیکن اس کے بعد مسلسل فروخت کے دباؤ نے کمپنی کی مارکیٹ ویلیو اور مسک کی دولت دونوں کو متاثر کیا۔ 

یہ بھی پڑھئے:ایک کہانی پر ۴؍مختلف زبانوں میں فلم بنائی گئی، چاروں سپر ہٹ ثابت ہوئیں

۲۷؍جولائی کو اسپیس ایکس کے حصص مزید ۸ء۴؍ فیصد گر کر تقریباً ۵۰ء۱۰۹؍ ڈالر پر آ گئے۔ اس ایک دن کی گراوٹ کے نتیجے میں مسک کی دولت میں تقریباً  ۵ء۲۹؍ ارب ڈالرس کی کمی ہوئی اور یہ ۷ء۶۹۵؍ ارب ڈالر رہ گئی۔ مسک کی دولت میں کمی کا حجم غیر معمولی ہے۔ فوربز کے مطابق ۱۶؍ جون کو ان کی دولت تقریباً  ۴۵ء۱؍ ٹریلین ڈالرس کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی تھی۔ اس کے بعد تقریباً چھ ہفتوں میں ان کی کاغذی دولت میں ۷۵۰؍ ارب ڈالر کے قریب کمی  ہوئی۔  بلومبرگ کے اعداد و شمار کے مطابق یکم اگست تک مسک کی دولت تقریباً ۶۸۴؍ ارب ڈالرس تک بھی پہنچ گئی تھی، یعنی وہ اسپیس ایکس کے آئی پی او سے پہلے کی دولت کی سطح سے بھی نیچے چلے گئے تھے۔ اس گراوٹ کے پیچھے کئی عوامل بتائے جا رہے ہیں۔ سرمایہ کار اسپیس ایکس کی موجودہ قیمت، کمپنی کے بڑے اخراجات، مستقبل کے کاروباری امکانات اور اسٹار شپ  پروگرام کی رفتار کو لے کر محتاط ہیں۔ اس کے علاوہ آئی پی او کے بعد کمپنی کے ابتدائی سرمایہ کاروں اور اندرونی شیئر ہولڈرز کے لیے’لاک اپ‘ پابندیاں ختم ہونے سے مارکیٹ میں مزید حصص آنے کا خدشہ بھی قیمت پر دباؤ ڈال رہا ہے۔ اگست میں لاکھوں شیئرز کے مرحلہ واران لاک   ہونے کی توقع نے سرمایہ کاروں کی تشویش بڑھائی ہے۔  

یہ بھی پڑھئے:روزانہ شکر آمیز سوڈا پینا، معدے کے کینسر کا خطرہ ڈھائی گنا بڑھا دیتا ہے: تحقیق

اسپیس ایکس کے مستقبل کا بڑا حصہ اسٹار شپ  راکٹ سے جڑا ہوا ہے۔ کمپنی دوبارہ استعمال ہونے والے راکٹ کے ذریعے خلائی سفر، سیٹیلائٹ نیٹ ورک اور مستقبل کے مریخ مشن سمیت کئی بڑے منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔ تاہم ایلون مسک نے حال ہی میں اسٹار شپ  کے اگلے اہم مرحلے کے حوالے سے ٹائم لائن میں تاخیر کا اشارہ دیا، جس کے بعد ۲۰؍ اگست کو اسپیس ایکس کے شیئرز تقریباً ۴؍فیصد  گر گئے۔  دولت میں زبردست کمی کے باوجود مسک دنیا کے امیر ترین شخص ہیں۔ فوربز کے مطابق۷ء۶۹۵؍ ارب ڈالر کی دولت کے ساتھ بھی وہ دیگر بڑے ارب پتیوں سے بہت آگے تھے۔ اسپیس ایکس کے شیئرز میں حالیہ اتار چڑھاؤ سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسک کی دولت کا بڑا حصہ اب مارکیٹ کی حرکت سے براہِ راست متاثر ہو رہا ہے۔ بعد میں اسپیس ایکس کے حصص میں بحالی بھی دیکھی گئی؛ اگست کے وسط میں اسٹاک میں تیزی کے باعث مسک کی دولت دوبارہ نمایاں طور پر بڑھی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK