نیتن یاہو نے عہدکیا کہ جب تک وہ وزیر اعظم رہیں گے فلسطینی ریاست قائم نہیں ہوگی ، جبکہ تمام سروے بتا رہے ہیں کہ ان کی اتحادی حکومت پارلیمانی انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہے گی۔
EPAPER
Updated: August 23, 2026, 3:59 PM IST | Tel Aviv
نیتن یاہو نے عہدکیا کہ جب تک وہ وزیر اعظم رہیں گے فلسطینی ریاست قائم نہیں ہوگی ، جبکہ تمام سروے بتا رہے ہیں کہ ان کی اتحادی حکومت پارلیمانی انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہے گی۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے عہد کیا ہے کہ جب تک وہ اپنے عہدے پر فائز ہیں، غزہ یا مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی ریاست کے قیام کو روکیں گے۔ان کے یہ تبصرے متحدہ عرب لسٹ کے لیڈر منصور عباس کے جواب میں تھے، جنہوں نے کہا کہ فلسطین بطور ریاست پہلے سے موجود ہے اور دنیا کی اکثریت اسے تسلیم کرتی ہے۔عباس نے اسرائیل اور امریکہ سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ فلسطین کو تسلیم کریں۔ نیتن یاہو نے کہا، ’’جب تک میں وزیراعظم ہوں، ایران کے زیرِ کنٹرول کوئی فلسطینی ریاست نہیں ہوگی۔‘‘اس سے قبل سنیچر کو عرب شہر طیبہ میں اپنی پارٹی کی عمومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عباس نے کہا کہ ان کی پارٹی اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن کے لیے کوشاں ہے۔ بعد ازاں عباس نے کہا، ’’فلسطینی ریاست موجود ہے اور دنیا اسے تسلیم کرتی ہے،‘‘ انہوں نے واشنگٹن اور تل ابیب سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اسے تسلیم کریں۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی فوجی افسروں کو انتخابات میں تاخیر کیلئے نیتن یاہو کے جنگ چھیڑنے کا خدشہ
واضح رہے کہ نیتن یاہو کے یہ تبصرے ۲۷؍ اکتوبر کو ہونے والے کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمان) کے انتخابات سے قبل سامنے آئے ہیں، جبکہ رائے شماری سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی جماعت لیکوڈ اور اس کے اتحادی شراکت دار حکومت بنانے کے لیے درکار۶۱؍ نشستوں سے محروم رہیں گے۔لیکوڈ، جس کے پاس فی الحال۳۲؍ نشستیں ہیں، حالیہ سروے میں زوال کا شکار ہوئی ہے، جمعہ کو ہونے والے ایک سروے میں اسے۲۰؍ نشستیں ملنے کا اندازہ لگایا گیا۔ تاہم۱۹؍ اگست کو شائع ہونے والے چینل۱۳؍ کے سروے میں پیش گوئی کی گئی کہ نیتن یاہو کی لیکوڈ اور اس کے انتہائی دائیں بازو اور انتہائیبنیاد پرست اتحادیوں کو مجموعی طور پر۵۱؍ نشستیں ملیں گی، جو پارلیمانی اکثریت سے۱۰؍ کم ہیں۔