صنعت و تجارت کے مرکزی وزیر پیوش گوئل نے ملک کے صنعتی منظرنامے کو تبدیل کرنے کے لیے مصنوعات کے معیار، بڑے پیمانے پر پیداوار، عالمی منڈیوں تک رسائی اور شمولیت پر مبنی حکمت عملی اپنانے پر زور دیا ہے۔
EPAPER
Updated: October 29, 2026, 7:00 PM IST | New Delhi
صنعت و تجارت کے مرکزی وزیر پیوش گوئل نے ملک کے صنعتی منظرنامے کو تبدیل کرنے کے لیے مصنوعات کے معیار، بڑے پیمانے پر پیداوار، عالمی منڈیوں تک رسائی اور شمولیت پر مبنی حکمت عملی اپنانے پر زور دیا ہے۔
صنعت و تجارت کے مرکزی وزیر پیوش گوئل نے ملک کے صنعتی منظرنامے کو تبدیل کرنے کے لیے مصنوعات کے معیار، بڑے پیمانے پر پیداوار، عالمی منڈیوں تک رسائی اور شمولیت پر مبنی حکمت عملی اپنانے پر زور دیا ہے۔گوئل نے کہا کہ اختراع کے فروغ کے لیے حکومت، نجی شعبے اور تعلیمی اداروں کے درمیان تعاون کو بڑھایا جانا چاہیے۔ وہ انسٹی ٹیوٹ آف اسٹڈیز ان انڈسٹریل ڈیولپمنٹ (آئی ایس آئی ڈی) اور انڈیا ڈیٹا ریسرچ اکیڈمی (آئی ڈی آر اے) کے زیر اہتمام صنعتی تبدیلی سے متعلق چوتھی قومی کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو عالمی سطح پر تسلیم شدہ مینوفیکچرنگ ملک بننے کا ہدف مقرر کرنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھئے:تمنا بھاٹیہ نے انو کپور کے’’دودھیا بدن‘‘ والے تبصرے پر خاموشی توڑی
وزیر تجارت نے معیار، عالمی منڈیوں تک رسائی، بڑے پیمانے پر پیداوار اور شمولیت کو چار اہم خصوصیات قرار دیا جو ملک کے صنعتی منظرنامے میں تبدیلی کی رفتار تیز کرسکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معیار اولین ترجیح ہے اور اس سلسلے میں وزیراعظم نریندر مودی کے `زیرو ڈیفیکٹ، زیرو ایفیکٹ کے اصول پر توجہ دی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ آزاد تجارتی معاہدوں کے ذریعے دنیا بھر کے بازاروں کے کھلنے کے ساتھ ہندوستان کو مارکیٹ شیئر حاصل کرنے، عالمی موجودگی بڑھانے اور ترجیحی بازار تک رسائی سے فائدہ اٹھانے کے لیے مسابقت کرنی چاہیے۔ انہوں نے پائیدار اور جامع ترقی کو تمام ہندوستانیوں کے لیے وسیع خوشحالی یقینی بنانے کے لیے ضروری قرار دیا۔
ہندوستان کی تجارتی پالیسی کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر گوئل نے کہا کہ تجارتی معاہدے صرف محصولات میں کمی، قواعدِ منشاطے کرنے یا مارکیٹ تک رسائی یقینی بنانے تک محدود نہیں ہیں بلکہ یہ وسیع شراکت داری پر مبنی ہوتے ہیں۔ ان میں ہندوستان کی مسابقتی صلاحیتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے برآمدی مواقع کی نشاندہی، حساس شعبوں کا تحفظ اور اعلیٰ ٹیکنالوجی کی مصنوعات، گرافکس پروسیسنگ یونٹس (جی پی یو)، میموری ٹیکنالوجی، طبی ٹیکنالوجی اور دیگر ضروری اشیا تک رسائی کو آسان بنانا شامل ہے۔
یہ بھی پڑھئے:نوواک جوکووچ کی باسل میں واپسی، مشکل حالات کا سامنا کرتے ہوئے کورٹ پر اترے
صنعت و تجارت کے وزیر نے کہا کہ ہندوستان کی تجارتی بات چیت میں خدمات، سرمایہ کاری، تعلیم، ہنرمندی کے فروغ، ٹیکنالوجی شراکت داری، موسمیاتی اہداف کے حصول میں تعاون اور ممالک کے قومی سطح پر طے شدہ تعاون جیسے موضوعات بھی شامل ہیں۔ ان وسیع تجارتی، اقتصادی اور سرمایہ کاری معاہدوں کے ذریعے ہندوستان کے عالمی معیشت کے ساتھ انضمام کی بنیاد رکھی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی معاہدے کو حتمی شکل دینے سے پہلے مختلف متعلقہ فریقوں کے ساتھ وسیع پیمانے پر مشاورت کی جاتی ہے، تاکہ ہندوستان کے حساس مفادات اور تحفظ سے متعلق ترجیحات کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے۔