• Thu, 29 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اوباما نے ٹرمپ کی ایران جنگ کو امریکی سلامتی کیلئے خطرہ قرار دیا

Updated: October 29, 2026, 7:00 PM IST | Detroit

سابق امریکی صدر بارک اوباما نے ایران کے خلاف جاری جنگ پر صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی حکمت عملی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ سات ماہ کی جنگ کے بعد امریکہ پہلے سے زیادہ کمزور اسٹریٹجک پوزیشن میں کھڑا ہے۔ ان کے مطابق امریکی اتحادیوں اور فوجی اڈوں پر حملے ہوئے، امریکی فوجی ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے، میزائلوں کے ذخائر خطرناک حد تک گھٹ گئے اور آبنائے ہرمز میں ایران کا اثر و رسوخ بڑھ گیا ہے۔ اوباما نے جنگ کو تیل اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے بھی جوڑا ہے۔

Barack Obama and Donald Trump. Photo: INN
بارک اوباما اور ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: آئی این این

امریکہ کے سابق صدر بارک اوباما نے ایران کے ساتھ جاری جنگ کے نتائج پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ جس فوجی کارروائی کا مقصد تہران کو اپنے جوہری پروگرام پر جھکنے کے لیے مجبور کرنا بتایا گیا تھا، اس نے الٹا ایران کی اسٹریٹجک پوزیشن مضبوط کردی ہے۔ اوباما نے یہ بات ۲۴؍ اکتوبر کو اوہائیو اور ۲۵؍ اکتوبر کو مشی گن میں ڈیموکریٹک امیدواروں کی انتخابی مہم کے دوران کہی۔ ڈیٹرائٹ کی ریلی میں انہوں نے جنگ کے سات ماہ بعد اس کے نتائج کا جائزہ لینے کی اپیل کرتے ہوئے امریکی انتظامیہ کے دعوؤں کو چیلنج کیا۔ اوباما نے ایران جنگ کے بارے میں کہا، ’’ذرا اس جنگ کے بارے میں سوچیے۔ ابتدا میں کہا گیا تھا کہ ہم وہاں جائیں گے اور ایران کو گھٹنے ٹیکنے اور اپنے جوہری پروگرام سے دستبردار ہونے پر مجبور کردیں گے۔‘‘ انہوں نے اپنے دورِ صدارت میں طے پانے والے ۲۰۱۵ء کے جوہری معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے نے ایران کے جوہری پروگرام پر پابندیاں عائد کرکے اسے محدود کیا تھا اور اس مقصد کے لیے امریکہ کو میزائل داغنے کے بجائے سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنا پڑا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کا نوبیل انعام نہ ملنے پر ناروے کو’’ فضلہ خانہ‘‘کہنے پروزارت کا زبردست جواب

اوباما نے دعویٰ کیا کہ موجودہ جنگ کے دوران امریکی اتحادیوں اور فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکی فوجی ہلاک ہوئے اور سیکڑوں امریکی زخمی ہوئے۔ ان کے الفاظ میں، ’’ہمارے میزائلوں کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہوگئے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز پر ایران کو اب ایسا اثر و رسوخ حاصل ہوگیا ہے کہ وہ عالمی تیل کی ترسیل کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اوباما کے مطابق، ’’اب ایران آبنائے ہرمز پر ویٹو کا اختیار رکھتا ہے، جہاں سے تیل دنیا تک پہنچتا ہے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ جنگ شروع ہونے سے پہلے کے مقابلے میں ایران اب زیادہ مضبوط اسٹریٹجک پوزیشن میں ہے۔ اوباما نے جنگ کو توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے بھی جوڑا۔ ان کے مطابق تیل اور ڈیزل مہنگا ہونے کی ایک بڑی وجہ انتظامیہ کے جنگ سے متعلق فیصلے ہیں۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ صرف امریکی صارفین کا مسئلہ نہیں، بلکہ عالمی منڈی، مال برداری، صنعت اور درآمدی ایندھن پر انحصار کرنے والی معیشتوں کے لیے بھی اہم ہے۔ آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرۂ عرب سے ملانے والا ایک اہم بحری راستہ ہے۔ جنگ سے پہلے دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل اور گیس کی ترسیل اس گزرگاہ سے وابستہ تھی۔ اس لیے یہاں جہاز رانی میں خلل عالمی توانائی کی سپلائی اور قیمتوں پر فوری اثر ڈال سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: گجرات: گائے ذبح کرنے کے مبینہ جرم میں تین مسلم افراد کو عمر قید

یہ تنقید ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ میں ۳؍ نومبر کو وسط مدتی انتخابات ہونے والے ہیں۔ اوباما ان انتخابی ریلیوں میں ڈیموکریٹک امیدواروں کی حمایت کررہے ہیں اور ایران جنگ کو ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کی ناکامی کے طور پر پیش کررہے ہیں۔ ڈیٹرائٹ میں انہوں نے مشی گن سے سینیٹ کے امیدوار عبدل السید اور گورنر کے عہدے کی امیدوار جوسلین بینسن کی حمایت میں خطاب کیا۔ اس سے پہلے اوہائیو میں بھی انہوں نے جنگ اور بڑھتی ہوئی مہنگائی پر صدر ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ ٹرمپ نے اوباما کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے انہیں ’’انتہائی نااہل‘‘ قرار دیا اور ان کے دور میں ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے پر بھی حملہ کیا۔ آسٹریلین براڈکاسٹنگ کارپوریشن کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر الزام لگایا کہ اوباما نے ایران کو اربوں ڈالر ادا کیے اور اسے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا راستہ دیا۔ اس طرح ایران جنگ امریکی سیاست میں دونوں جماعتوں کے درمیان ایک اہم انتخابی تنازع بن گئی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: یو اےای کے صدر کا فلائی دبئی کےکپتان مچھار اور پورےعملے کو دلی پیغام: ’یہاں بھی آپ کا ایک خاندان ہے‘

تاہم آبنائے ہرمز پر ایران کے ’’ویٹو اختیار‘‘ سے متعلق اوباما کا بیان ان کا سیاسی اور اسٹریٹجک تجزیہ ہے، اسے قانونی یا مکمل کنٹرول کے ثابت شدہ دعوے کے طور پر نہیں پڑھا جانا چاہیے۔ اس کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ایران اس گزرگاہ میں جہاز رانی کو خطرے میں ڈالنے یا محدود کرنے کی صلاحیت کے ذریعے عالمی توانائی کی منڈی پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔ اس سے قبل امریکی حکام بھی آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملے روکنے اور تمام بحری راستے کھلے رکھنے کا مطالبہ کرچکے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK