Inquilab Logo Happiest Places to Work

شدید گرمی کی لہر کے سبب امریکہ کے مختلف شہروں میں توانائی کا بحران

Updated: July 05, 2026, 12:01 PM IST | Washington

اے آئی کے ڈیٹا سینٹر سوالات کے گھیرے میں جو امریکہ کی مجموعی بجلی کا ۴؍ فیصد استعمال کرتے ہیں، سینٹروں کیلئے نئی ہدایات۔

The data center consumes both electricity and water. Photo: INN
ڈیٹا سینٹر پر بجلی اور پانی دونوں صرف ہوتا ہے۔ تصویر: آئی این این

امریکہ میں جاری شدید گرمی کی لہر نے بجلی اور پانی کے نظام پر دباؤ بڑھا دیا ہے جبکہ مصنوعی ذہانت کے ڈاٹا سینٹرز کی تیزی سے بڑھتی ہوئی تعداد کو بھی شدید تنقید کا سامنا ہے۔ اطلاع کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مراکز بڑی مقدار میں بجلی اور پانی استعمال کر رہے ہیں جس سے پہلے سے دباؤ کا شکار انفرااسٹرکچر مزید متاثر ہو رہا ہے۔ 
رپورٹ کے مطابق امریکہ میں ڈیٹا سینٹر ملک کی مجموعی بجلی کا ٰتقریباً ۴؍ فیصد استعمال کرتے ہیں اور اندازہ ہے کہ یہ شرح۲۰۳۰ء تک بڑھ کر ۹؍ فیصد تک پہنچ سکتی ہے، اس وقت ملک میں ہزاروں نئے مراکز قائم کئے جا رہے ہیں تاکہ مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کی جا سکے۔ گرمی کی شدت کے دوران بجلی کے نظام پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے، مشرقی ریاستوں میں بجلی فراہم کرنے والے ادارے نے ہنگامی صورتِ حال میں ڈ یٹاسینٹر سے کہا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے بیک اپ جنریٹرز استعمال کریں تاکہ عام صارفین کو بجلی دستیاب ہو سکے۔

یہ بھی پڑھئے: نیو جرسی: ہندوستانی گروسری اسٹور کے افتتاح پر بھگدڑ، سوشل میڈیا پر گرما گرم بحث

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سیاسی سطح پر بھی اس معاملے پر بحث تیز ہو گئی ہے۔ ٹیکساس کے گورنر نے دیہی علاقوں میں نئے ڈاٹا سینٹرز کی تعمیر پر پابندی کی تجویز دی ہے جبکہ بعض سینیٹرز اور اراکین کانگریس نے نئے منصوبوں پر عارضی پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔ عوامی رائے بھی اس حوالے سے منفی دکھائی دیتی ہے۔ ایک سروے کے مطابق ۱۰؍ میں سے۷؍امریکی اپنے علاقوں میں ڈاٹا سینٹرز کی تعمیر کے خلاف ہیں جن کی بڑی وجہ بجلی اور پانی کا زیادہ استعمال بتایا گیا ہے۔ رپورٹ میں شامل کی گئی ماہرین کی رائے کے مطابق گرمی کے دوران ڈاٹا سینٹرز کے کولنگ سسٹمز کے لیے بجلی کی کھپت ۴۰؍ فیصد تک بڑھ سکتی ہے جبکہ پانی کے استعمال میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔ ایک بڑے ڈاٹا سینٹر میں روزانہ لاکھوں گیلن پانی استعمال ہونے کی اطلاعات ہیں جس سے خشک سالی کے شکار علاقوں میں صورتِ حال مزید خراب ہو رہی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ میں متعدد ریاستیں پہلے ہی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث بجلی کے نظام پر دباؤ کا سامنا کر رہی ہیں اور بعض علاقوں میں صارفین کو متبادل بجلی فراہم کنندگان کی طرف منتقل کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہی رجحان جاری رہا تو آئندہ برسوں میں بجلی اور پانی کے وسائل پر دباؤ مزید سنگین ہو سکتا ہے خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں شدید گرمی اور خشک سالی پہلے ہی معمول بن چکی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK