Updated: July 05, 2026, 12:28 PM IST
| Mumbai
زاید عباس خان کی پیدائش ۵؍جولائی ۱۹۸۰ءکوممبئی میں ہوئی۔ ان کاتعلق ہندوستان کے ایک ممتاز پٹھان فلمی خاندان سے ہے۔ ان کے والد سنجے خان اپنے زمانے کے معروف اداکار، ہدایت کار اور پروڈیوسر رہے ہیں، جبکہ ان کی والدہ زرین خان ایک سماجی شخصیت کے طور پر جانی جاتی ہیں۔
گمنامی کے پردے میں کھوئے ہوئے زاید خان۔ تصویر: آئی این این
ہندی فلمی صنعت میں ایسے کئی فنکار ہوئے ہیں جنہوں نے نامور فلمی خاندانوں میں جنم لینے کے باوجود اپنی شناخت قائم کرنے کیلئےسخت جدوجہد کی۔ زاید خان بھی انہی اداکاروں میں شامل ہیں۔ وہ اپنے والد سنجے خان اور والدہ زرین خان کی وجہ سے فلمی دنیا سے گہرا تعلق رکھتے ہیں، جبکہ معروف اداکار فیروز خان ان کے چچا تھے۔ اس مضبوط فلمی پس منظر کے باوجود زاید خان کا فلمی سفر کامیابیوں اور ناکامیوں کے مختلف مراحل سے گزرا اور وہ اپنی منفرد شناخت بنانے کی مسلسل کوشش کرتے رہے۔
زاید عباس خان کی پیدائش ۵؍جولائی ۱۹۸۰ءکوممبئی میں ہوئی۔ ان کاتعلق ہندوستان کے ایک ممتاز پٹھان فلمی خاندان سے ہے۔ ان کے والد سنجے خان اپنے زمانے کے معروف اداکار، ہدایت کار اور پروڈیوسر رہے ہیں، جبکہ ان کی والدہ زرین خان ایک سماجی شخصیت کے طور پر جانی جاتی ہیں۔ زاید کے چچا فیروز خان ہندی سینما کے ان اداکاروں میں شمار ہوتےہیں جنہوں نے اپنے مخصوص انداز، نفیس طرزِ زندگی اور جدید فلم سازی کے ذریعے منفرد مقام حاصل کیا۔ ان کے کزن فردین خان بھی فلمی دنیا کا حصہ رہے ہیں۔ اس طرح زاید خان کا بچپن فلمی ماحول میں گزرا اور انہیں ابتدا ہی سے اداکاری میں دلچسپی پیدا ہو گئی۔ زاید خان نے ۲۰۰۳ءمیں فلم ’’چُرا لیا ہے تم نے‘‘ کے ذریعے بطور ہیرو بالی ووڈ میں قدم رکھا۔ اس فلم میں ان کے مقابل ایشا دیول نظر آئیں۔ اگرچہ فلم باکس آفس پر کوئی خاص کامیابی حاصل نہ کر سکی، لیکن زاید کی شخصیت اور انداز نے نوجوان ناظرین کی توجہ ضرور حاصل کی۔ زاید خان کے کریئر کا سب سے اہم موڑ ۲۰۰۴ء میں آیا، جب وہ فرح خان کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم ’میں ہوں نا‘ میں شاہ رخ خان کے سوتیلے بھائی لکشمن پرساد شرما، المعروف لکی، کے کردار میں نظر آئے۔ ’میں ہوں نا‘کی کامیابی کے بعد زاید خان نےمتعدد فلموں میں کام کیا، اگرچہ ان میں سے بیشتر فلمیں باکس آفس پر خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ کر سکیں۔ ایکشن اور تھرلر سے بھرپور فلم دس (۲۰۰۵ء)میں زاید خان نے سنجے دت، ابھیشیک بچن، اجے دیوگن اور سنیل شیٹی جیسے بڑے ستاروں کے ساتھ کام کیا۔ فلم کو ناظرین نے پسند کیا اور یہ ان کے کیریئر کی اہم کامیابیوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس کے بعدشادی نمبر ون (۲۰۰۵ء)، فائٹ کلب: ممبرز اونلی، راکی: دی ریبل (۲۰۰۶ء) کیش (۲۰۰۷ء) اور بلیو (۲۰۰۹ء)جیسی فلموں میں نظر آئے۔ ۲۰۰۰ءکی دہائی کے اختتام تک بالی ووڈ میں نئے اداکاروں کی آمد اور ناظرین کی بدلتی ہوئی پسند نے زاید خان کے لیے چیلنجز پیدا کر دیے۔ اس دوران انہوں نے فلموں سے کچھ فاصلے اختیار کیے اور اپنی ذاتی زندگی اور دیگر کاروباری سرگرمیوں پر توجہ مرکوز کی۔
یہ بھی پڑھئے: آنند ایل رائے چھوٹے شہروں کی کہانیوں کو امر کرنے والا فلم ساز
۲۰۱۵ءمیں زاید خان نے ٹیلی ویژن کا رخ کیا اور تاریخی سیریل ’حاصل‘ میں مرکزی کردار ادا کیا۔ اس سیریل میں ان کی اداکاری کو سراہا گیا اور ناقدین نے ان کے کام کو ان کے فلمی کریئر سے بہتر قرار دیا۔ ٹیلی ویژن نے انہیں ایک نئے انداز میں ناظرین کے سامنے پیش کیا اور ثابت کیا کہ ان میں اداکاری کی صلاحیت اب بھی موجود ہے۔ فلموں کے علاوہ زاید خان فٹنس کے شعبے میں بھی خاص دلچسپی رکھتےہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں ان کی جسمانی تبدیلی اور فٹنس سے متعلق تصاویر نے سوشل میڈیا پر خاصی توجہ حاصل کی۔