انہوں نے موسیقی کی کبھی کوئی باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی تھی، اس کے باوجود اپنی لگن، محنت اور ایمانداری سے جو بھی کام کیا، وہ مقبول ہوتا گیا اور اس طرح فلم انڈسٹری میں ان کی الگ شناخت بن گئی۔
EPAPER
Updated: July 05, 2026, 1:02 PM IST | Anis Amrohvi | Mumbai
انہوں نے موسیقی کی کبھی کوئی باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی تھی، اس کے باوجود اپنی لگن، محنت اور ایمانداری سے جو بھی کام کیا، وہ مقبول ہوتا گیا اور اس طرح فلم انڈسٹری میں ان کی الگ شناخت بن گئی۔
ہندوستانی فلمی صنعت میں یوں تو بہت سے مشہور موسیقار ہوئے ہیں، مگر ایسے چند ہی ہوئے ہیں جنہوں نے اپنی الگ شناخت قائم کی ہے اور فلم انڈسٹری کو بے حد مقبول اور خوبصورت نغمے دیئے ہیں۔ ان موسیقاروں میں نوشاد علی، ایس ڈی برمن، غلام محمد، کھیم چند پرکاش، سلیل چودھری، مدن موہن، شنکر جے کشن، خیام اور لکشمی کانت پیارے لال کے ساتھ ہی ایک نام جو سب سے الگ نظر آتا ہے، وہ اوپی نیّر کاہے۔ اُنہوں نے اُس دور میں، جب کئی بڑے موسیقاروں کا سکّہ چلتا تھا، اپنی الگ شناخت بنائی اور بغیر کسی مصلحت اور مصالحت کے اپنی ہی شرطوں پر کام کیا اور بہترین نتائج برآمد کئے۔
اومکار پرساد نیّر ۱۶؍جنوری ۱۹۲۶ء کو لاہور کے ایک خاصے مالدار قسم کے خاندان میں پیدا ہوئے تھے۔ یہ وہ دَور تھا جب ملک انگریزوں کے قبضے میں تھا اور تقسیم نہیں ہوا تھا مگر ملک کی آزادی کی تحریک روز بروز شدت اختیار کرتی جا رہی تھی۔ گاندھی جی کی قیادت میں کانگریس پارٹی نے انگریزوں کو ہندوستان سے باہر نکال دینے کا مصمم ارادہ کر لیا تھا۔ اُس زمانے میں فلموں سے وابستگی کو عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا تھا۔ یہی سوچ اوپی نیر کے خاندان کی تھی۔ اس خاندان کے نوجوان ڈاکٹر یا وکیل بننا زیادہ پسند کرتے تھے یا پھر فوج میں بھرتی ہونے کو قابل فخر سمجھا جاتا تھا۔ ایسے ماحول میں اس خاندان میں جوان ہو رہے اوپی نیر کو فلموں میں ہیرو بننے کا شوق پیدا ہوا۔ وجہ بھی ظاہر تھی کہ وہ خوبرو تھے، قد اونچا تھا اور رنگ بھی گورا تھا۔ اُنہوں نے لاہور ہی میں ہیرو بننے کیلئے اسکرین ٹیسٹ دیا مگر اُن کی آواز ہیرو بننے کیلئے مناسب نہیں سمجھی گئی، لہٰذا انہوں نے ہیرو بننے کا خیال دل سے نکال دیا اور موسیقی کو دل میں بسا لیا۔
یہ بھی پڑھئے: سلمان خان کی ’’ماتر بھومی‘‘ نئی مشکل میں، سینسر بورڈ سے سرٹیفکیٹ تاحال نہ مل سکا
اوپی نیر کی عمر اُس وقت صرف ۱۹؍برس کی تھی جب ۱۹۴۵ء میں ہندوستان کی سب سے بڑی ریکارڈ کمپنی ’ایچ ایم وی‘ (ہز ماسٹرس وائس) نے ان کی دُھن پر پہلا گانا ریکارڈ کیا، جس کے بول تھے’’پریتم آن ملو...‘‘ اور جو سی ایچ آتما کی آواز میں ریکارڈ ہوا تھا۔ ایچ ایم وی والوں نے اس گانے کو تیسرے درجے کا سمجھتے ہوئےسب سے سستے ریکارڈ کے درجے میں ’ریگل لیول‘ میں ڈال دیا اور اس کی قیمت صرف ایک روپیہ چار آنے رکھی گئی۔ اس ریکارڈ پر موسیقار کے طور پر اوپی نیر کا نام بھی نہیں دیا گیا تھا۔ کمپنی کا خیال تھا کہ یہ گانا چلے گا ہی نہیں، مگر یہ گانا دھیرے دھیرے مقبول ہوتا گیا، جس سے کمپنی کو کافی مالی فائدہ ہوا۔ اس گانے کی کمپوزنگ کیلئے اوپی نیر کو صرف ۴۰؍ روپے دئیے گئے تھے۔ کافی دنوں کے بعد جب ایچ ایم وی کمپنی نے سی ایچ آتما کے گائے ہوئے گانوں کا ایل پی ریکارڈ نکالا تو اس میں یہ گانا بھی شامل کیا اور اوپی نیر کا نام بھی ایل پی پر شائع کیا۔ کمپنی نے ایسا اسلئے کیاکیونکہ اُس وقت تک اوپی نیر کافی مشہور ہو چکے تھے اور فلم انڈسٹری میں ان کا طوطی بولنے لگا تھا۔
تقسیم ہند کے بعد او۔ پی نیر کی فیملی لاہور سے امرتسر منتقل ہو گئی۔ اُس وقت ان کی عمر تقریباً ۲۲؍ برس رہی ہوگی۔ دو سال بعد ۱۹۴۹ء میں اوپی نیر بمبئی آگئے اور فلمساز وہدایتکار کرشن کیول سے ملے جو اُس وقت فلم ’کنیز‘ کی تکمیل میں مصروف تھے۔ کرشن کیول نے فلم ’کنیز‘ کی بیک گرائونڈ موسیقی ترتیب دینے کی ذمہ داری اوپی نیر کو سونپ دی۔ اس طرح بالی ووڈ میں ان کے فلمی سفر کاآغاز ہوا۔ ۱۹۵۲ء میں اُن کی ملاقات بھاٹیہ کے توسط سے پنچولی صاحب سے ہوئی تھی۔
ہوا یوں کہ پنجابی فلموں کے ایک بہت مشہور فلمساز دل سکھ ایم پنچولی نے ایک بہت کامیاب فلم ’نگینہ‘ بنائی تھی جس میں شنکر جے کشن کی موسیقی تھی۔ اوپی نیر کے ایک دوست ایس این بھاٹیہ نے پنچولی صاحب سے ان کو ملوایا تھا۔ پنچولی صاحب کے ذہن میں او پی نیر کا گانا ’’پریتم آن ملو‘‘ بسا ہوا تھا اور انہوں نے سی ایچ آتما کو اپنی فلم ’نگینہ‘ میں گانے کا موقع بھی دیا تھا۔ ۱۹۴۷ء میں تقسیم ہند کے بعد جب اوپی نیر امرتسر آئے تھے، اُس وقت ان کا دوست بھاٹیہ دہلی میں ایک ریسٹورنٹ چلاتا تھا۔ ایک دن بھاٹیہ کا تار نیر کو ملا کہ تم دہلی آجائو، پنچولی صاحب تمہیں اپنی نئی فلم میں موقع دینا چاہتے ہیں۔ اوپی نیر فوراً دہلی پہنچے اور پنچولی صاحب سے ملے۔ انہوں نے اوپی نیر کو اپنی اگلی فلم ’آسمان‘ میں میوزک ڈائریکٹر کا موقع دیا، مگر یہ فلم کامیاب نہ ہو سکی۔ اُن ہی دنوں فلمساز پی ایل سنتوشی نے اپنی اگلی فلم’چھم چھماچھم‘ کیلئے اوپی نیر کو موقع دیا، حالانکہ اس سے پہلے وہ سی رام چندر کے ساتھ کام کرتے تھے۔ اتفاق کی بات تھی کہ اوپی نیر کی یہ دوسری فلم ’چھم چھماچھم‘ بھی ناکام ہو گئی۔
ان دنوں فلمساز وہدایتکار گرودت کی فلموں کی موسیقی مستقل طور پر ایس ڈی برمن دیا کرتے تھے، لیکن گرودت نے اپنی فلم ’باز‘ کی موسیقی ایس ڈی برمن کے بجائے اوپی نیر کے ذمہ کر دی۔ اب یہ او پی نیر کی بدقسمتی تھی کہ یہ بڑے بجٹ کی بڑی فلم بھی فلاپ ہو گئی۔ اس کے ساتھ ہی اوپی نیر پر ناکامی کا ٹھپّہ لگ گیا، اسلئےانہیں کام دینے کیلئے کوئی تیار نہیں تھا۔ گرودت بھی ان سے ناراض تھے اور یہ ناراضگی اس حد تک تھی کہ انہوں نے او پی نیر کی بقایا رقم بھی روک لی۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب نیّر بہت تنگی میں تھے۔ ہوٹل کے بل کی ادائیگی میں بھی انہیں مشکل ہونے لگی جبکہ اُن کی فیملی بھی اُن کے ساتھ ہی تھی۔ گرودت کی اداکارہ و گلوکارہ گیتا دت سے نئی نئی شادی ہوئی تھی اور وہ دونوں بمبئی کے کھار علاقے کے اٹھارویں راستے پر ایک عالیشان فلیٹ میں رہ رہے تھے۔ اوپی نیر نے اپنے پیسے حاصل کرنے کیلئے گرودت سے یہاں تک کہہ دیا کہ اگر تمہارے پاس پیسے نہیں ہیں تو اپنا فریج، ریڈیو، گراموفون اور فرنیچر بیچ دو اور میری رقم ادا کر دو تاکہ میں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ بمبئی چھوڑکر اپنے گھر واپس جا سکوں، مگر گرودت ٹس سے مس نہ ہوئے اور نیّر غصے میں پیر پٹختے ہوئے فلیٹ سے باہر آگئے۔
یہ بھی پڑھئے: نیا ٹرینڈ ’’کرائے چیک‘‘، ’’میں واپس آؤں گا‘‘ نے ناظرین کو آبدیدہ کردیا
اوپی نیر وہاں سے سیدھے ’کاردار اسٹوڈیو‘ گئے اور وہاں کے منیجنگ ڈائریکٹر کےکے کپور سے ملے اور اپنی پوری روداد اُن کو سنا دی اور ان سے درخواست کی کہ وہ گرودت سے ان کے بقایا تین ہزار روپے دلوا دیں۔ کپور صاحب نے از راہ ہمدردی پہلے تو سو روپے کا نوٹ اوپی نیر کو دیتے ہوئے کہا کہ تم پہلے بچوں کیلئے کھانے کا کچھ سامان لے آئو۔ بعد ازاں کپور صاحب او پی نیر کو اپنی گاڑی میں بٹھاکر گرودت کے گھر لے گئے۔ او پی نیر باہر گاڑی میں بیٹھے رہے اور کپور صاحب اوپر فلیٹ پر چلے گئے۔ ایک گھنٹے بعد کپور صاحب بہت سنجیدگی کے ساتھ فلیٹ سے باہر آئے اور اوپی نیر کو ساتھ لے کر دوبارہ گرودت کے پاس پہنچے۔ کل ملاکر طے یہ ہوا کہ کپور صاحب گرودت کی اگلی فلم کیلئے فائنانس کا انتظام کریں گے اور بمبئی اور پنجاب کا ڈسٹری بیوشن ان کے پاس رہے گا اور گرودت کی اس اگلی فلم کا میوزک ڈائریکٹر اوپی نیر ہی ہوگا۔ گرودت نے کہا کہ پچھلے بقایا تین ہزار روپے میں سے ایک ہزار روپے ابھی لے لو اور اگلی فلم کا ایک ہزار سائننگ امائونٹ بھی، یعنی کل دو ہزار روپے گرودت نے اُن کو دیئے۔ اس طرح گرودت کی اگلی فلم ’آر پار‘ کی موسیقی ایک بار پھر اوپی نیر کی ذمہ داری بن گئی۔
فلم ’آرپار‘ بنی اور خوب کامیاب ہوئی۔ اس فلم کے گانے بھی بہت مقبول ہوئے اور اس کے بعد اوپی نیر نے پیچھے مڑکر نہیں دیکھا۔ فلم ’آر پار‘ ۱۹۵۵ء میں ریلیز ہوئی تھی اور یہ اس سال کی سب سے کامیاب فلم تھی۔
فلم ’آر پار‘ کے زمانے میں ہی اوپی نیر پر اس قسم کا دبائو تھا کہ مغربی دھنوں کا استعمال کیا جائے کیونکہ اس وقت تک انہیں کوئی قابل ذکرکامیابی نہیں ملی تھی بلکہ ان کی گزشتہ تینوں بڑی فلمیں فلاپ ہوگئی تھیں لہٰذا اس وقت توانہوں نے یہ بات مان لی مگر جیسے ہی انہوں نے فلم انڈسٹری میں اپنا مقام حاصل کیا، پھر انہوں نے صرف اپنی مرضی کی ہی دھنیں بنائیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اوپی نیر نے موسیقی کی کبھی کوئی باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی تھی، مگر انہوں نے اپنی لگن، محنت اور ایمانداری سے جو بھی کام کیا، وہ مقبول ہوتا گیا اور ان کی الگ ہی شناخت بن گئی۔
اس کے بعد تو گرودت اور اوپی نیر میں بڑی قریبی دوستی ہو گئی اور گرودت ان کے سب سے بڑے فین بھی بن گئے۔ اس فلم ’آرپار‘ کے بعد گرودت کی فلم ’مسٹر اینڈ مسز ۵۵‘ میں بھی او پی نیر کی موسیقی میں نغمے خوب مقبول ہوئے۔ اس فلم کی ہیروئن مدھو بالا تھیں۔ ان پر فلمایا گیا یہ گانا ’’اُدھر تم حسیں ہو، اِدھر دل جواں ہے...‘‘ آج بھی فلم بینوں کے ذہنوں میں محفوظ ہے۔ یہ اُس سال کی پانچویں سب سے کامیاب فلم تھی۔