ایتھنز میں خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد پہلی مسجد کا قیام

Updated: November 05, 2020, 9:38 AM IST | Agency | Athenes

یونان کی راجدھانی یورپی یونین کا واحد دارالحکومت تھا جہاں ایک بھی مسجد نہیں تھی، افتتاح میں ۱۴؍ سال کی تاخیر

Athnes Mosque
کورونا کے پیش نظر مناسب دوری کا خیال رکھتےہوئے مسجد میں نماز ادا کی گئی۔

طویل جدوجہد کے بعد پیر کو یونان کے دارالحکومت ایتھنز میں   پہلی مسجد کا افتتاح عمل میں آیا۔ مسلمانوں  نے کورونا  کے پیش نظر ضروری دوری کا خیال رکھتے ہوئے پیر کو  یہاں مغرب کی  نماز کی ادائیگی کے ساتھ      باجماعت  نمازوں کی ادائیگی کا سلسلہ شروع کردیا۔  
 یونان کے دارالحکومت میں خلافت عثمانیہ کے خاتمے  کے۱۰۰؍ سال  بعد قائم ہونے والی   یہ پہلی مسجد  ہے۔  دنیا بھر کے مسلمانوں میں ایتھنز کو اس اعتبار سے تنقید کا نشانہ بنایا جاتارہا ہے کہ یہ یورپی ممالک کا واحد دارالحکومت تھا جہاں کوئی مسجد نہیں تھی۔ کئی برسوں سے یہاں بسنے والے مسلمان مسجد کے قیام کیلئے کوشاں تھے  جس کے نتیجے میں  ایتھنز میں قائم ہونے والی مسجد کا پیر کا افتتاح عمل میں آگیا اور نمازوں کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا۔ 

 یونانی حکومت کی زیر نگرانی قائم ہونے والی مسجد میں کوئی گنبد یا مینار نہیں ہے۔ اس میں۳۵۰؍ افراد کی گنجائش ہے اور یہ الیوناس کے صنعتی علاقے میں پناہ گزین کیمپ کے نزدیک تعمیر کی گئی ہے۔ مسجد کے پہلے امام۴۹؍ سالہ ذکی محمد مراکشی نژاد یونانی شہری ہیں اور انہوں نے پیر کو نماز کی امامت کروا کر مسجد کا افتتاح کیا۔  یاد رہے کہ اس مسجد کے قیام کی کوششیں ۲۰۰۶ء میں شروع ہوئی تھیں مگر نوکرشاہی کی جانب سے التواء کی وجہ سے  مسجد  کے باقاعدہ افتتاح میں مسلسل رکاوٹیں آتی رہیں اور ۱۴؍ سال بعد کہیں جاکر افتتاح ہوسکا۔  بتایا جارہاہے کہ یہ مسجد ۱۰؍لاکھ ڈالر کی لاگت  سے تعمیر ہوئی ہے۔  ۱۸۲۹ء میں یونان سلطنت عثمانیہ سے آزاد ہوا۔ اس سے قبل ایتھنز سمیت پورے یونان میں کئی مساجد قائم تھیں مگرسلطنت عثمانیہ سے آزادی کے بعد یونان میں ہونے والے فسادات میں  عثمانی دور کی مساجد اور عمارتوں کو منہدم کردیا گیا تھا۔۱۹۷۹ء  کے بعد سے یہاں مسلمان مسجد کے قیام کیلئے کوشاں رہے مگر یونان کے آرتھوڈاکس چرچ کی وجہ سے یہ ممکن  نہیں ہوسکا۔ ۲۰۰۶ء میں حکومت کی منظوری ملنے کے بعد بھی مسلمانوں  کو مسجد کے افتتاح کیلئے ۱۴؍ سال کی مسلسل جدوجہد کرنی پڑی۔ ۲۰۰۶ء  میں مسجد کی تعمیر کی منظوری ملنے کے بعد بھی بنیاد پرست عیسائیوں کی مخالفت کی وجہ سے  اُس وقت یہ منصوبہ تکمیل کو نہیں پہنچ سکاتھا۔ یونان میں ۹۷؍ فیصد آرتھوڈاکس عیسائی ہیں جبکہ مسلمان ترکی کی سرحد سے لگی ہوئی بستیوں میں خاصی تعداد میں ہیں۔مسجد کے افتتاح پر مذہبی امور سے متعلق حکومت کے سیکریٹری نے اس کا خیر مقدم کرتےہوئے کہا ہے کہ ’’مسجد کا افتتاح جمہوریت، مذہبی آزادی اور احترام کا واضح پیغام دیتاہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK