آئیسا، این ایس یو آئی، سٹیزن مارچ ، عام آدمی پارٹی کے کارکنوں کے ساتھ ساتھ صحافیوں اور نوجوانوں کی بڑی تعداد کو پولیس نے روکنے کی کوشش کی مگر وہ مظاہرہ کرنے میں کامیاب رہے۔
EPAPER
Updated: October 05, 2026, 11:59 AM IST | Agency | New Delhi
آئیسا، این ایس یو آئی، سٹیزن مارچ ، عام آدمی پارٹی کے کارکنوں کے ساتھ ساتھ صحافیوں اور نوجوانوں کی بڑی تعداد کو پولیس نے روکنے کی کوشش کی مگر وہ مظاہرہ کرنے میں کامیاب رہے۔
الیکشن کمیشن کی بدنظمیوں اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش گمار کی من مانیوں کے خلاف عوامی غیظ و غضب ابل پڑا ہے۔اسے روکنے اور قابو میں کرنے کیلئے دہلی پولیس کی جانب سے بھرپور کوشش کی گئی مگر مسلسل تیسرے دن بھی احتجاج ہوا۔قابل ذکر ہے کہ احتجاج کے پیش نظر دہلی پولیس کی جانب سے تقریباً۵؍ ہزار اہلکار تعینات کیے گئے تھے، جن میں ریپڈ ایکشن فورس اور دیگر نیم فوجی دستے بھی شامل تھے۔ انڈیا گیٹ، اشوکا روڈ اور جنتر منتر کی جانب جانے والے راستوں پر بیریکیڈنگ کی گئی تھی۔
پولیس کی جانب سے مارچ کے لیے اجازت نہ ہونے کی بات بھی کہی گئی۔واضح رہے کہ ایس آئی آر کے خلاف احتجاج کا یہ سلسلہ جمعہ سے جاری ہے۔ جمعہ کو ۱۱۰۰؍ سے زائد افراد کو حراست میں لیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں، جبکہ سنیچر کو تقریباً۱۵۰؍ افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔ سنیچر کی کارروائی میں نیہا بورا، یوگیندر یادو اور پرشانت بھوشن سمیت متعدد افراد شامل تھے۔مظاہرین کا کہنا ہے کہ ایس آئی آر کے دوران ووٹر لسٹ سے اہل ووٹروں کے نام متاثر ہونے کے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔
حراست میں لئے گئے آئیسا کے ایک کارکن کو پولیس وین میں ڈالتے ہوئے۔
اشوکا روڈ پر مظاہرین بیریکیڈ پر چڑھ کر نعرے بازی کرتے ہوئے۔
نیہا بورا کو پولیس نے تحویل میں لیااور گاڑی میں بٹھایا، تب کچھ لڑکیاں اور خواتین احتجاجاًگاڑی پر چڑھ گئیں۔