ایوان ِاسمبلی میں نائب وزیر اعلیٰ برہم ،مانسون اجلاس کے دوران دیگر وزیرو ں کو چند محکموں کی عبوری ذمہ داری سونپنے پر ہنگامہ
EPAPER
Updated: June 24, 2026, 8:59 AM IST | Mumbai
ایوان ِاسمبلی میں نائب وزیر اعلیٰ برہم ،مانسون اجلاس کے دوران دیگر وزیرو ں کو چند محکموں کی عبوری ذمہ داری سونپنے پر ہنگامہ
شیوسینا(ادھو)کے ۶؍اراکین پارلیمان کی ایکناتھ شندے کی قیادت والی شیوسینا میں شمولیت کے بعد نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کے حوصلہ کافی بلند نظر آرہے ہیں جس کی جھلک مانسون اجلاس کے دوران ایوان اسمبلی میں نظر دکھائی دی۔ منگل کو انہوںنے شیو سینا( ادھو) کے لیڈروں کو جارحانہ اندازمیں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ جو بچے ہیں وہ بھی چلے جائیں گے۔ ایکناتھ شندے نے کہا کہ اپوزیشن کے پاس کوئی موضوع نہیں بچا ہے اور وہ دلبرداشتہ ہو چکے ہیں ۔ان کا ذہنی توازن بھی بگڑ گیا ہے۔
دراصل قانون ساز اسمبلی کے اسپیکرراہل نارویکر نے اعلان کیا کہ ۶؍ وزیروں کو ان کے محکموںکےعلاوہ مانسون اجلاس کے دوران دیگر محکموں کاعبوری طو ر پرکام کاج سونپا گیا ہے اور وہ اصل وزیر کی جانب سے ایوان میں سوالوں کا جواب دیں گے ۔ اسپیکر کے اس اعلان پر این سی پی کے سینئر لیڈر جینت پاٹل نے کہا کہ جس محکمہ کے بارے میں ایوان میں گفتگو ہوگی اس محکمے کے وزیرایوان میں نہیں ہوں گے اور ا ن کی جگہ دوسرے وزیر جواب دیں گے تو بحث کے ساتھ انصاف نہیں ہوگا۔ عبوری وزیر کوئی فیصلہ نہیں کر سکیں گے ۔ اس لئے اس فیصلہ کو واپس لینا چاہئے۔ اس پر کانگریس کے گروپ لیڈر وجے وڈیٹی وار نے کہا کہ ’’یا یہ سمجھا جائے کہ محکموں کے وزیر ان کےمحکموں کو اہمیت نہیں دیتے؟ اس طرح کی نئی روایت شروع نہ کی جائے۔‘‘
ان اعتراضات پر اسپیکرنے کہا کہ ’’ اس سے پہلے بھی اس طرح عبوری وزیر کا انتخاب کیا جاچکا ہے ۔ ۲۰۱۹ء سے ۲۰۲۱ء میں ایسا ہوا تھا۔‘‘ یہ کہنے پر مہا وکاس اگھاڑی ( ایم وی اے) اراکین نے اعتراض کیا اور کہا کہ ’’اسپیکر گمراہ کن معلومات ریکارڈ پر لا رہے ہیں۔مہا وکاس اگھاڑی کے دورا قتدار میں ایسا نہیں ہوتا تھا۔لہٰذا اسپیکر کو غلط معلومات ریکارڈ پر نہیں لانا چاہئے ۔ اسی دوران ہنگامہ ہوا اور ایم وی اے کے اراکین اسمبلی نے واک آؤٹ کر دیا۔
واک آؤٹ کرنے کے بعد ودھان سبھا کے میڈیا سینٹر میں آدتیہ ٹھاکرے نے کہا کہ’’ اسپیکر گمراہ کن معلومات دے رہے ہیں اور مختلف محکموں کیلئے عبوری وزیروں کا تقرر کر کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کو جواب دینے سے بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘
انہوںنے مزید کہا کہ’’ ایکناتھ شندے نے اہم کھاتوں کو اپنے پاس رکھا ہے لیکن عوام مسائل پر وہ جواب نہیں دے پائیں گے اسی لئے انہوںنے دیگر وزیروں کو عبوری ذمہ داری سونپی ہے۔‘‘
مہا وکاس اگھاڑی کے واک آؤٹ کے بعد ایکناتھ شندے ایوان میں آئے اور انہوں نےمہا وکاس اگھاڑی کے الزام اور ہنگامہ آرائی کا جواب دیتے ہوئے کہاکہ ’’ مہاراشٹر کے عوام نے انہیں،ان کی جگہ دکھا دی ہے۔ ان کے اراکین کی تعداد کم ہوتی جارہی ہےاور ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے وہ ایوان سے ہی باہر ہو جائے گی۔ اسپیکر کا فیصلہ حتمی ہوتا ہےاوران کے فیصلہ کو غلط قرار دیاجارہا ہے۔یوان کا احترام کرنا سبھی کی ذمہ داری ہے۔انہوں نے جینت پاٹل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ ان لوگوں( ادھو سینا) کو سمجھائیے کہیں ایسا نہ ہو کہ جوباقی رہ گئے ہیں وہ بھی....‘‘ یہ کہہ کر وہ خاموش ہو گئے۔