ناگیش پاٹل اور اوم پرکاش راجے نمبالکر نے بھی شندے سینا میں شمولیت کی تصدیق کردی، سنجے راؤت کو ذمہ دار ٹھہرایا، کہا: ۱۸؍ جون تک دل بدلی کا ارادہ نہیں تھا۔
شیوسینا کے ایم پی۔ تصویر:آئی این این
سنجے راؤت کے اس دعویٰ کے برخلاف کہ کچھ باغی اراکین پارٹی کے رابطہ میں ہیں، اتوار کو شیوسینا (اُدھو) کے چھٹے رکن پارلیمان عثمان آباد کے ایم پی اوم راجے نمبالکر نےبھی شیوسینا (شندے) میں شمولیت کی تصدیق کردی۔ حامیوں اور مقامی کارکنوں سے صلاح ومشورہ کے بعد اپنے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے نمبالکر نے کہا کہ دھاراشیو میں بلدیاتی انتخابات میں مسلسل ناکامیوں اور اقتدار کے ساتھ ہم آہنگ نہ رہنے کی وجہ سے حلقے میں ترقیاتی کام متاثر ہو رہے تھے اس لئے انہیں یہ سیاسی فیصلہ کرنا پڑا۔
اس سے قبل رکن پارلیمان ناگیش پاٹل اشٹیکر نے بھی اپنی بغاوت کی تصدیق کرتے ہوئے سنجے راؤت کو اس کا ذمہ دارٹھہرایا۔ا نہوں نے کہا کہ وہ اور دیگر ارکین ۱۸؍ جون تک’’کہیں نہیں گئے تھے‘‘، لیکن ان کے خلاف جو بیانات دیئےان کی بنا پر انہوں نے اپنا ارادہ بدل لیا۔ ان کا اشارہ سنجے راؤت کی طرف تھا۔یہ پہلا موقع ہے جب ہنگولی کے رکن پارلیمان نے تصدیق کی کہ وہ شندے سینا میں شامل ہو گئے ہیں۔
بہرحال جن ۶؍ اراکین پارلیمان کی بغاوت کی تصدیق ہوگئی ہے وہ اوم پرکاش راجے نمبالکر، سنجے دینا پاٹل، سنجے دیشمکھ، سنجے جادھو، بھاؤ صاحب واکچورے اور ناگیش پاٹل اشٹیکر ہیں۔ یہ وہ اراکین ہیں جنہوں نے ۱۷ءجون کو دہلی میں شیو سینا (اُدھو) کی قانون ساز پارٹی کی میٹنگ میں شرکت نہیں کی۔ادھو سینا کے ۹؍ ایم پی ہیں۔ انسدادِ انحراف قانون سے بچنے کیلئے ضروری ہے کہ دوتہائی (۶) کسی اور پارٹی میں ایک ساتھ ضم ہوں۔اس سے قبل اتوار کو ہی سنجے راؤت نے دعویٰ کیا کہ بعض باغی اراکین پارلیمان پارٹی سے رابطے میں ہیں ، انہیں بغاوت کی صورت میں اپنے حلقوں میں عوامی ناراضگی کاڈر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کم از کم دو باغی رکن پارلیمان کے ساتھ اس وقت بات چیت جاری ہے۔راؤت نے کہا کہ اگر ان اراکین کو محسوس ہوتا ہے کہ ان سے غلطی ہوئی ہے تو پارٹی بات چیت کے لیے تیار ہے۔ان کا کہنا تھا کہ باغی ارکان تکنیکی طور پر اب بھی شیو سینا (اُدھو) کے رکن ہیں کیونکہ نہ لوک سبھا اسپیکر اور نہ ہی شندے کی قیادت والی شیو سینا نے ان کی حیثیت کے بارے میں کوئی باضابطہ اعلان کیا ہے۔ راؤت کے مطابق، اگرچہ ان اراکین نے پارلیمانی اجلاس میں شرکت نہ کرکے پارٹی وہپ کی خلاف ورزی کی، لیکن انہوں نے عوامی طور پر پارٹی چھوڑنے کا اعلان نہیں کیا۔ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے اس بیان پر بھی شدید تنقید کی کہ اب ایکناتھ شندے کی قیادت میں صرف ایک ہی شیو سینا موجود ہے۔سنیچر کو کولہاپور میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے امیت شاہ نے کہا تھا کہ شیو سینا میں اب کوئی دھڑا باقی نہیں رہا اور پارٹی اب شندے کی قیادت میں ہے۔