Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’جذباتی طور پر غور کروں تو غلط ہے ، سیاسی طور پر درست‘‘

Updated: June 19, 2026, 11:24 PM IST | Mumbai

باغی رکن پارلیمان اوم راجے نمبالکر کے بیان پر آدتیہ ٹھاکرے کا جواب’’ کوئی بھی عذر پیش کیجئے حقیقت یہ ہے کہ آپ نے بے شرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خود کو بیچ دیا ‘‘

Aaditya Thackeray tweeted and reprimanded the rebels
آدتیہ ٹھاکرے نے ٹویٹ کرکے باغیوں کی سرزنش کی

شیوسینا (ادھو) کے ۶؍ اراکین پارلیمان پارٹی چھوڑ کر جا چکے ہیں لیکن کیا حقیقت میں وہ خوش ہیں؟ کم از کم او م ر اجے نمبالکر کے بیان سے تو ایسا لگتا ہے کہ انہوں دل پر جبر کرکے یہ فیصلہ کیا ہے۔ حالانکہ پارٹی سربراہ ادھو ٹھاکرے کے بیٹے آدتیہ ٹھاکرے نے باغیوں کے اقدام کو ان کی بے شرمی قرار دیا ہے۔    
   رکن پارلیمان اوم راجے نمبالکر بغاوت کے بعد ہی سے ’ناٹ ریچ ایبل‘ تھے لیکن جمعہ کو انہوں نے ایک اخبار کو انٹرویو دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ’’ میں اس وقت دھرم سنکٹ میں ہوں۔ اگر میں جذباتی طور پر سوچوں تو یہ فیصلہ (بغاوت) غلط معلوم ہوتا ہے لیکن سیاسی طور پر غور کروں تو درست معلوم ہوتا ہے۔‘‘ انہوں نے فون پر دیئے گئے اس انٹرویو میں کہا کہ’’ شیوسینا( ادھو) میں رہتے ہوئے مجھے اپنا سیاسی وجود خطرے میںمحسوس ہو رہا تھا۔ رکن پارلیمان ہوتے ہوئے بھی ہم میونسپل الیکشن میں اپنی پارٹی کو جیت نہیں دلا سکے ۔ اسلئے مجھے خدشہ محسوس ہونے لگا کہ ہمارا سیاسی مستقبل کیا ہے؟ نمبالکر کا کہنا ہے کہ سڑکوں اور پلوں کی تعمیر، ڈی پلان کی منظوری ، کئی ایسے کام ہیں جو بار بار عرضی دینے کے بعد بھی پورے نہیں ہو رہے تھے۔ آخر اپنے حلقے کے ترقیاتی کاموں کی تکمیل کیلئے ہمیں یہ فیصلہ کرنا پڑا۔ انہوں نے اس بات سے انکار کیا کہ پارٹی بدلنے کیلئے انہیں کوئی رقم دی گئی ہے۔  اس سے آگے بڑھ کر نمبالکر نے ادھو ٹھاکرے کی قیادت پر یہ کہتے ہوئے انگلی اٹھائی کہ ’’ دیویندر فرنویس اور ایکناتھ شندے مسلسل دوروں پر رہتے ہیں اور اپنے کارکنان سے ملاقاتیں کرتے رہتے ہیں جبکہ ادھو ٹھاکرے ایسا نہیں کرتے۔ ‘‘ ان کا کہنا ہے کہ ’’ ٹھیک ہے ادھو ٹھاکرے صحت کی خرابی کے سبب باہر نہیں نکلتے ہوں گے لیکن کم از کم آدتیہ ٹھاکرے کو توفعال ہونا چاہئے۔ انہیں تو کارکنان سے ملاقات کرنی چاہئے۔‘‘ 
آدتیہ ٹھاکرے کی جانب سے سرزنش
 اوم راجے نمبالکر کا بیان آتے ہی شیوسینا (ادھو) کے رکن اسمبلی آدتیہ ٹھاکرے نے ٹویٹ کیا اور بغاوت کرنے والوں کی سرزنش کی۔ انہوں نے لکھا ’’ آج ہمارا (شیوسینا کا) ۶۰؍ واں یوم تاسیس ہے۔ اور ایک بار پھر ہم گندی سیاست کی نمایاں مثال دیکھ رہے ہیں۔ احسان فراموش اور بکائو جیسی غلیظ ذہنیت کے کچھ مخصوص لوگ ، جن لوگوں کی وجہ سے جیت کر آئے انہی کو دغا دے رہے ہیں۔‘‘ آدتیہ ٹھاکرے نے کہا ’’ آپ کوئی بھی عذر پیش کیجئے ، حقیقت یہی ہے کہ آپ نے بے شرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خود کو بیچ دیا۔‘‘ آگے آدتیہ لکھتے ہیں’’اپنے آپ کو بیچ ہی دیا ، اس کے ساتھ اپنے وقار، اپنے نام اور اپنے خاندان کے نام کو بھی آپ نے ڈبو دیا ہے۔ مہاراشٹر اس گندی سیاست کو کبھی برداشت نہیں کرے گا۔ کبھی بھی نہیں۔‘‘ ساتھ ہی آدتیہ ٹھاکرے نے لکھا ’’ اس سیاسی اندھیرے کو روشنی صرف اور صرف ہماری مشعل ( پارٹی کا انتخابی نشان) ہی دے سکتی ہے۔ ‘‘ یاد رہے کہ جمعہ (۱۹؍ جون) کو شیوسینا کا یوم تاسیس اتھا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK