• Tue, 20 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مسلم اکثریتی کشن گنج میں تعینات ہندو خاتون ٹیچر کا تجربہ: خوف سے محبت تک کا سفر

Updated: January 19, 2026, 9:57 PM IST | Kishanganj

بہار کے مسلم اکثریتی ضلع کشن گنج میں تعینات ایک ہندو خاتون ٹیچر نے بتایا کہ ابتدائی خوف کے باوجود انہیں مقامی مسلم برادری سے بے پناہ عزت، محبت اور اپنائیت ملی۔

Hindu woman describing her experience as a teacher. Photo: X
ہندو خاتون ٹیچراپنا تجربہ بیان کرتے ہوئے۔ تصویر: ایکس

بہار کے مسلم اکثریتی ضلع کشن گنج میں تعینات ایک ہندو خاتون ٹیچر کا ذاتی تجربہ ان دنوں سماجی ہم آہنگی اور مذہبی رواداری کی ایک مضبوط مثال کے طور پر سامنے آیا ہے۔ ٹیچر نے بتایا کہ جب ان کی پوسٹنگ کشن گنج میں ہوئی تو انہیں پہلے ہی خبردار کیا گیا کہ یہ علاقہ ’’منی پاکستان‘‘ کہلاتا ہے، جس کی وجہ سے وہ شدید خوف اور ذہنی دباؤ کا شکار ہو گئیں۔ انہوں نے کہا کہ آغاز میں وہ اس علاقے کے تعلق سے کئی خدشات اور منفی تصورات رکھتی تھیں۔ انہیں یہ اندیشہ تھا کہ ایک مسلم اکثریتی علاقے میں بطور ہندو ٹیچر انہیں مسائل، عدم تحفظ یا امتیازی رویے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تاہم، حقیقت ان کے تمام خدشات کے بالکل برعکس نکلی۔
ٹیچر کے مطابق، جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، انہیں مقامی مسلم طلبہ، والدین اور ساتھی اساتذہ کی جانب سے بے حد احترام اور تعاون ملا۔ انہوں نے بتایا کہ اسکول اور محلے کے لوگ نہ صرف ان کی عزت کرتے تھے بلکہ ہر مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑے رہے۔ روزمرہ کے معمولات میں انہیں کبھی یہ احساس نہیں ہونے دیا گیا کہ وہ کسی مختلف مذہب سے تعلق رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں مقامی لوگوں کے رویے نے اندر سے بدل کر رکھ دیا۔ تبادلہ کی الوداعی تقریب میں انہوں نے جذباتی انداز میں بتایا کہ ’’ مجھے جس محبت اور خلوص سے اپنایا گیا، ہوا، اس نے میرے سارے خوف اور غلط فہمیاں ختم کر دیں۔‘‘ ان کے مطابق، کشن گنج میں گزارا گیا وقت ان کی زندگی کے قیمتی تجربات میں شامل ہو گیا۔

جب ان کے تبادلے کا حکم جاری ہوا اور انہیں کشن گنج چھوڑنا پڑا، تو وہ خود کو روک نہ سکیں۔ روانگی کے وقت وہ رو پڑیں اور مقامی لوگوں سے بچھڑنے کا دکھ ان کے چہرے پر صاف جھلک رہا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ جس اپنائیت کے ساتھ انہیں رخصت کیا گیا، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ انسانیت مذہب سے کہیں بلند ہوتی ہے۔ اس واقعے نے سوشل میڈیا پر بھی توجہ حاصل کی ہے، جہاں لوگ اسے فرقہ وارانہ ہم آہنگی، باہمی احترام اور زمینی حقیقت کی عکاسی قرار دے رہے ہیں۔ کئی صارفین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے تجربات ان بیانیوں کو چیلنج کرتے ہیں جو معاشرے میں مذہبی بنیادوں پر خوف اور نفرت کو فروغ دیتے ہیں۔ یہ کہانی اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ ہندوستان کی اصل طاقت اس کی تنوع، رواداری اور انسان دوستی میں پوشیدہ ہے، جہاں ذاتی تجربات اکثر پھیلائے گئے تصورات سے کہیں زیادہ مضبوط اور مثبت ثابت ہوتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK