بہار کے مسلم اکثریتی ضلع کشن گنج میں تعینات ایک ہندو خاتون ٹیچر نے بتایا کہ ابتدائی خوف کے باوجود انہیں مقامی مسلم برادری سے بے پناہ عزت، محبت اور اپنائیت ملی۔
EPAPER
Updated: January 19, 2026, 9:57 PM IST | Kishanganj
بہار کے مسلم اکثریتی ضلع کشن گنج میں تعینات ایک ہندو خاتون ٹیچر نے بتایا کہ ابتدائی خوف کے باوجود انہیں مقامی مسلم برادری سے بے پناہ عزت، محبت اور اپنائیت ملی۔
بہار کے مسلم اکثریتی ضلع کشن گنج میں تعینات ایک ہندو خاتون ٹیچر کا ذاتی تجربہ ان دنوں سماجی ہم آہنگی اور مذہبی رواداری کی ایک مضبوط مثال کے طور پر سامنے آیا ہے۔ ٹیچر نے بتایا کہ جب ان کی پوسٹنگ کشن گنج میں ہوئی تو انہیں پہلے ہی خبردار کیا گیا کہ یہ علاقہ ’’منی پاکستان‘‘ کہلاتا ہے، جس کی وجہ سے وہ شدید خوف اور ذہنی دباؤ کا شکار ہو گئیں۔ انہوں نے کہا کہ آغاز میں وہ اس علاقے کے تعلق سے کئی خدشات اور منفی تصورات رکھتی تھیں۔ انہیں یہ اندیشہ تھا کہ ایک مسلم اکثریتی علاقے میں بطور ہندو ٹیچر انہیں مسائل، عدم تحفظ یا امتیازی رویے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تاہم، حقیقت ان کے تمام خدشات کے بالکل برعکس نکلی۔
ٹیچر کے مطابق، جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، انہیں مقامی مسلم طلبہ، والدین اور ساتھی اساتذہ کی جانب سے بے حد احترام اور تعاون ملا۔ انہوں نے بتایا کہ اسکول اور محلے کے لوگ نہ صرف ان کی عزت کرتے تھے بلکہ ہر مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑے رہے۔ روزمرہ کے معمولات میں انہیں کبھی یہ احساس نہیں ہونے دیا گیا کہ وہ کسی مختلف مذہب سے تعلق رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں مقامی لوگوں کے رویے نے اندر سے بدل کر رکھ دیا۔ تبادلہ کی الوداعی تقریب میں انہوں نے جذباتی انداز میں بتایا کہ ’’ مجھے جس محبت اور خلوص سے اپنایا گیا، ہوا، اس نے میرے سارے خوف اور غلط فہمیاں ختم کر دیں۔‘‘ ان کے مطابق، کشن گنج میں گزارا گیا وقت ان کی زندگی کے قیمتی تجربات میں شامل ہو گیا۔
A #Hindu teacher posted in the #Muslim - majority district of #Kishanganj said she was initially scared after being told the area was a “mini Pakistan.”
— Hate Detector 🔍 (@HateDetectors) January 18, 2026
However, during her time there, she experienced love and respect from the local Muslim community.
When her transfer order… pic.twitter.com/WF5n0YU4bt
جب ان کے تبادلے کا حکم جاری ہوا اور انہیں کشن گنج چھوڑنا پڑا، تو وہ خود کو روک نہ سکیں۔ روانگی کے وقت وہ رو پڑیں اور مقامی لوگوں سے بچھڑنے کا دکھ ان کے چہرے پر صاف جھلک رہا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ جس اپنائیت کے ساتھ انہیں رخصت کیا گیا، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ انسانیت مذہب سے کہیں بلند ہوتی ہے۔ اس واقعے نے سوشل میڈیا پر بھی توجہ حاصل کی ہے، جہاں لوگ اسے فرقہ وارانہ ہم آہنگی، باہمی احترام اور زمینی حقیقت کی عکاسی قرار دے رہے ہیں۔ کئی صارفین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے تجربات ان بیانیوں کو چیلنج کرتے ہیں جو معاشرے میں مذہبی بنیادوں پر خوف اور نفرت کو فروغ دیتے ہیں۔ یہ کہانی اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ ہندوستان کی اصل طاقت اس کی تنوع، رواداری اور انسان دوستی میں پوشیدہ ہے، جہاں ذاتی تجربات اکثر پھیلائے گئے تصورات سے کہیں زیادہ مضبوط اور مثبت ثابت ہوتے ہیں۔