Updated: July 11, 2026, 11:05 AM IST
| Tehran
بوشہرہ صوبے کے کئی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا جن میں جوہری تنصیب کے اطراف کا علاقہ اورصوبے کے جنوبی حصے میں ماہی گیری کی ایک بندرگاہ شامل ہیں۔
ایران جنگ۔ تصویر:آئی این این
گزشتہ روز جمعرات کو ایران کے جنوبی علاقوں میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں لیکن امریکہ نے ایران پر ہونے والے حملوں میں ملوث ہونے کی سختی سے تردید کی ہے۔ ایرانی نیم سرکاری میڈیا کے مطابق جمعرات کی شب صوبے بوشہر کے مختلف علاقوں اور قریبی شہر چوغادک میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔ رپورٹ کے مطابق مبینہ طور پر ایک امریکی اسرائیلی پروجیکٹائل بوشہر کے مضافات میں واقع فوجی ہیڈکوارٹر سے ٹکرایا ۔ بوشہر وہ صوبہ ہے جہاں تہران کی واحد سول جوہری تنصیب واقع ہے۔
مہر نیوز ایجنسی کے مطابق جنوبی شہر کنارک میں بھی مزید ۳؍ دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ بوشہر کے نائب گورنر برائے سیاسی و سیکوریٹی امور احسان جہانیان نے سرکاری خبر رساں ادارے کو بتایا کہ آج صوبے کے کئی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، جن میں جوہری تنصیب کے اطراف کا علاقہ، چوغادک شہر میں واقع ایک فوجی اڈہ اور صوبے کے جنوبی حصے میں ماہی گیری کی ایک بندرگاہ شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ شہر میں سنا جانے والا دھماکہ فضائی دفاعی نظام کی کارروائی کے باعث ہوالیکن حملوں میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ان دھماکوں میں ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران امریکی فوج نے ایران میں کوئی فضائی حملہ یا فوجی کارروائی نہیں کی۔ میڈیا رپوٹس کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان۷؍جولائی سے حملوں کا تبادلہ جاری ہے، تہران نے خلیجی خطے میں واقع متعدد امریکی فوجی مقامات کو بھی نشانہ بنایا جن میں قطر، بحرین اور کویت شامل ہیں جس کے باعث جون کے وسط میں طے پانے والی جنگ بندی دباؤ کا شکار ہو گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق مہر نیوز ایجنسی نے دھماکوں کی وجوہات، ممکنہ نقصانات یا جانی نقصان سے متعلق مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ تازہ حملوں کی یہ اطلاعات ایسے وقت سامنے آئیں جب ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کو امام علی رضا کے روضے کے احاطے میں سپردِ خاک کیا گیا۔ دوسری جانب ایران سے دھماکوں کی اطلاعات موصول ہونے کے کچھ ہی دیر بعد اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے کہا کہ ان کی امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے ٹیلیفون پر گفتگو ہوئی جس میں دونوں لیڈروں نے مختلف شعبوں میں باہمی رابطہ اور تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو کو خلیجی خطے میں امریکی اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔