دھاراوی میں کئی ڈائنگ یونٹ بند ہونے کے دہانے پر۔کھانے کی ’بسی‘ سروس بند ہونے سےمزدور وطن لوٹنے پر مجبور ہوگئے ۔ وڑا پاؤ، بھجیا اور اڈلی سامبر کے اسٹالوں ،کرایہ کے ہوٹل اوربھٹیار خانہ والوں کا کاروبار بھی ٹھپ پڑگیا
EPAPER
Updated: March 31, 2026, 11:21 PM IST | Nadeem Asran | Mumbai
دھاراوی میں کئی ڈائنگ یونٹ بند ہونے کے دہانے پر۔کھانے کی ’بسی‘ سروس بند ہونے سےمزدور وطن لوٹنے پر مجبور ہوگئے ۔ وڑا پاؤ، بھجیا اور اڈلی سامبر کے اسٹالوں ،کرایہ کے ہوٹل اوربھٹیار خانہ والوں کا کاروبار بھی ٹھپ پڑگیا
ایران ، امریکہ اور اسرائیل میں ایک ماہ سے زائد عرصہ سے جاری جنگ کے سبب ملک کے عوام بری طرح متاثر ہورہے ہیں۔ شہرومضافات سب سے زیادہ پریشانی کا سامنا چھوٹے پیمانے پر کاروبار کرنے والوں اور ان کے ملازمین کو کرنا پڑرہا ہے کیونکہ گیس سلنڈر کی قلت سے کاروبار ٹھپ پڑگیا ہے اور کھانے کی ’بسی‘ سروس بند ہونے سے مزدور اپنے وطن لوٹنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔
دھاراوی جو ایشیا کی سب سے بڑی جھوپڑپٹی کہلاتی ہے ، میں بھی مکینوں کے علاوہ بڑے اور چھوٹے پیمانے پر کاروبار کرنے والے گیس کی قلت سے متاثر ہونے لگے ہیں ۔ دھاراوی میں ٹھیلہ لگا کر اڈلی ، وڑا پاؤ ، بھجیا اور رائس پلیٹ فروخت کرنے والے متاثر ہوئے ہیں۔اسی طرح مختلف کارخانوں میں کام کرنے والوں کو بسی کے کھانے سستے داموں میں مہیا کرنے والی یونٹ ، ہوٹل چلانے والے ، جوتے ، چپل ، کپڑے ، پلاسٹک اور چمڑے کا کاروبار کرنے والوں کے ساتھ ڈائنگ ( کپڑا رنگنے ) یونٹ کے مالکان اور مزدور گیس کی قلت سےمتاثر ہورہےہیں۔ اس بحران سے دھاراوی میں بعض ہوٹل ، کارخانے اور بھٹیارخانے بند ہونے کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں ۔
گیس کی قلت سے دھاراوی میں کاروبار کرنے والے اور مزدوروں کو دہری دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ مزدوروں کے پاس کام نہ ہونے کے علاوہ کھانے کی ’بسی‘ سروس ، ٹھیلے پر لگنے والے وڑا پاؤ، اڈلی سامبر اور رائس پلیٹ بند ہونے سے وہ وطن واپس لوٹنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ یہی نہیںمہاجر مزدوروں کی بڑی تعداد نے رخت سفر بھی باندھ لیا ہے ۔ کارخانہ ، ہوٹل اور خصوصی طور پر رنگائی کا کام کرنے والے یونٹس میں گیس سلنڈر نہ ہونے کے سبب کام مکمل طورپر ٹھپ ہوگیا ہے ۔ کاروبار بند ہونے اور کرایہ کی ادائیگی نہ کرنے پانے کے سبب بھی مختلف کاروبار کرنے والے افراد نے کام کاج بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔
اس بارے میں انقلاب نے چند مزدوروں سے وطن لوٹنے اور مالکان سے کاروبار بند کرنے کی وجہ جاننے چاہی تو گیس سلنڈروں سے کپڑوں کی رنگائی یونٹ چلانے والے کلیم ادریسی نے بتایا کہ ’’ یہ سبھی کو پتہ ہے کہ رسوئی گیس بڑی مشکل سے مل رہا ہے اورکمرشیل گیس کی فراہمی بند کر دی گئی ہے ۔ کپڑوں کی رنگائی گیس کی فراہمی کے بغیربہت مشکل ہے۔کاروبار ٹھپ ہونے سے نہ تو اتنے مزدوروں کی تنخواہ دی جاسکتی ہے اور نہ ہی کرایہ ادا کیا جاسکتا ہے ۔اس لئے اس کاروبار سے جڑے اکثر لوگوں نے اسے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ‘‘
اس کاروبار سے جڑے اور اپنے آبائی وطن بہار لوٹنے کی تیاری کرنے والےعلیم شیخ اور رام تیاگی نے بتایا کہ کام نہیں ہے ،سستے کھانے کی بسی سروس بند ہوگئی ہے ، ایسے حالات میں یہاں رک کر بھوکے مرنے سے بہتر ہے وطن لوٹ جائیں ۔‘‘
دھاراوی کےسندر نگر میںگزشتہ۲۲؍ برس سے کرایہ کے مکان میں رہنے اور وڑا پاؤ کا ٹھیلا لگانے والے اجے مشرا کے بقول ’’اب اپنا بوریابستر باندھنے میں ہی عافیت ہے کیونکہ جنگ کی وجہ سے جو حالات پیدا ہورہے ہیں ، وہ اچھے نظر نہیں آرہے ہیں ۔‘‘
ٹھیلے پر اڈلی سامبرکا کاروبار کرنے والے شیکھر متو نے کہا کہ کہ گیس کے بغیر اڈلی اور اُتپا بنانا بہت مشکل ہے ۔ گیس سلنڈر کی قلت سے روزانہ ۳۰؍ ہزار روپے کا کاروبار متاثر ہورہا ہے اس لئے کاروبار بند کرکے بیٹھا ہوں ۔
یہی حال ہوٹل چلانے والے ارشد یوسف کا ہے۔ انہوں نے بھی گیس سلنڈرنہ ملنے اور ہوٹل کا کرایہ ادا نہ کر پانے کے خدشہ سے ہوٹل بند کرکے مالک مکان سے اگریمنٹ ختم کر لیا ہے ۔