Inquilab Logo Happiest Places to Work

ترکی سمیت سات دیگر ممالک کی یروشلم میں عبادت پر اسرائیلی پابندیوں کی مذمت

Updated: March 31, 2026, 9:04 PM IST | Ankara

ترکی سمیت سات دیگر ممالک نے یروشلم میں عبادت پر اسرائیلی پابندیوں کی مذمت کی، ساتھ ہی مقدس مقامات تک رسائی کو محدود کرنے والے اسرائیلی اقدامات کو مسترد کردیا، انہوں نے خبر دار کیا کہ یہ اقدامات مذہبی آزادی اور علاقائی استحکا م کو خطرے میں ڈال دیں گے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

ترکی، مصر، اردن، انڈونیشیا، پاکستان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مسلمانوں اور عیسائیوں پر مقدس مقامات میں عبادت کے تعلق سے اسرائیل کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں کو مسترد کر دیا۔ان کا کہنا تھا کہ ان اقدامات میں مسلم عبادت گزاروں کو مسجد اقصیٰ تک رسائی سے روکنا شامل ہے۔تمام وزراء نے یروشلم میں مسلم اور عیسائی مقدس مقامات پر قانونی اور تاریخی حیثیت کو ’’تبدیل‘‘ کرنے کی کوششوں کو مسترد کر دیا۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل میں فلسطینی قیدیوں کیلئے سزائے موت کا قانون منظور،عالمی سطح پر شدید مذمت

 بعد ازاں مشترکہ بیان میں کہا گیا، ’’اسرائیل کے یہ مسلسل اقدامات بین الاقوامی قانون، بشمول بین الاقوامی انسانی قانون، اور موجودہ قانونی و تاریخی حیثیت کی صریح خلاف ورزی ہیں۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ یہ پابندیاں عبادت گاہوں تک غیر محدود رسائی کے حق کی خلاف ورزی کرتی ہیں۔وزراء نے ان اقدامات کو بھی مسترد کیا جنہیں انہوں نے’’ غیر قانونی ‘‘ قرار دیا، جن میں عیسائیوں کومقدس کلیسا تک آزادانہ رسائی سے روکنا شامل ہے۔
تاہم وزراء نے مقبوضہ مشرقی یروشلم اور اس کے مقدس مقامات میں قانونی اور تاریخی حیثیت کے احترام کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو ’’بطور قابض طاقت‘‘ مقبوضہ مشرقی یروشلم پر کوئی خود مختاری حاصل نہیں ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ عبادت گاہوں تک رسائی میں رکاوٹ ڈالنے والے تمام اقدامات روکے جائیں۔ساتھ ہی وزراء نے مسجد اقصیٰ کے دروازوں کو مسلسل ۳۰؍ دن سے عبادت گزاروں کے لیے بند رکھنے کی بھی مذمت کی، جس میں مقدس مہینہ رمضان بھی شامل ہے۔انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ مسجد اقصیٰ کا پورا علاقہ، جوتقریباً۱۴۴؍ ہزار مربع میٹر ہے، خصوصی طور پر مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اردن کی وزارت اوقاف سے منسلک ڈیپارٹمنٹ آف یروشلم اسٹیٹس اینڈ المسجد الاقصیٰ افیئرز کو اس مقام پر خصوصی اختیار حاصل ہے۔اس کے علاوہ وزراء نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ بطور قابض طاقت، مسجد اقصیٰ / الحرام الشریف کے دروازوں کی بندش کو فوری طور پر ختم کرے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: پوپ لیو کا انتباہ: خدا جنگ کرنے والوں کی دعا نہیں سنتا

انہوں نے مقبوضہ مشرقی یروشلم کے قدیم شہر تک رسائی کی پابندیاں ہٹانے کا بھی مطالبہ کیا اور اسرائیل پر زور دیا کہ وہ مسلم عبادت گزاروں میں رکاوٹ نہ ڈالے۔وزراء نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ اسلامی اور عیسائی مقدس مقامات کے خلاف  اسرائیلی اقدامات  کو روکنے کے لیے سخت موقف اختیار کرے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK