ایندھن کے بڑھتے اخراجات گھریلو بجٹ کو بھی متاثر کر رہے ہیں، جس سے امریکی گھرانوں کے درمیان خریداری کے رجحانات بدل رہے ہیں۔ عوامی کھپت، جو امریکی جی ڈی پی کا تقریباً ۷۰ فیصد ہے، میں کمزوری کے آثار نمایاں نظر آرہے ہیں۔
EPAPER
Updated: March 31, 2026, 10:14 PM IST | Washington
ایندھن کے بڑھتے اخراجات گھریلو بجٹ کو بھی متاثر کر رہے ہیں، جس سے امریکی گھرانوں کے درمیان خریداری کے رجحانات بدل رہے ہیں۔ عوامی کھپت، جو امریکی جی ڈی پی کا تقریباً ۷۰ فیصد ہے، میں کمزوری کے آثار نمایاں نظر آرہے ہیں۔
ایران جنگ کے معاشی اثرات اب امریکہ میں واضح طور پر نظر آنے لگے ہیں۔ ملک میں توانائی کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور غیر یقینی صورتحال کے باعث مالیاتی منڈیوں، عوامی اخراجات اور کاروباری سرگرمیوں میں دباؤ کے آثار دکھائی دے رہے ہیں۔
گزشتہ کئی دنوں سے امریکہ کی مالیاتی منڈیوں میں شدید مندی چھائی ہوئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق، کل صرف ۲۴ گھنٹوں میں امریکی بازار سے سرمایہ کاروں کے ۲ء۱؍ کھرب ڈالر کا صفایا ہوگیا۔ ایس اینڈ پی ۵۰۰ انڈیکس میں مجموعی طور پر ۶۶ء۱ فیصد کی گراوٹ درج کی گئی جس سے تقریباً ایک ٹریلین ڈالر ڈوب گئے۔ نیس ڈیک (Nasdaq) انڈیکس بھی ۰۹ء۲ فیصد نیچے چلا گیا جس کی وجہ سے سرمایہ کاروں کو تقریباً ۶۰۰ بلین ڈالر کا نقصان ہوا۔
۳۰ بڑی کمپنیوں کے انڈیکس ڈاؤ جونز (Dow Jones) میں بھی ۲ء۱ فیصد کی گراوٹ آئی، جس سے تقریباً ۳۰۰ بلین ڈالر مارکیٹ سے غائب ہوگئے۔ ۲۶ سے ۳۰ مارچ کے دوران امریکی بازار میں مہینوں کی سب سے بڑی مندی دیکھی گئی، جس سے انڈیکس آٹھ ماہ کی نچلی ترین سطح پر آ گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ایران جنگ کا ایک مہینہ: عالمی بازار سے کھربوں ڈالر کا صفایا
کارپوریٹ آؤٹ لک کمزور ہونے سے کساد بازاری کے خدشات
مالیاتی منڈیوں میں اس گراوٹ کی وجہ سے ممکنہ معاشی سست روی اور کساد بازاری کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ پیشین گوئی کرنے والے پلیٹ فارم ’پولی مارکیٹ‘ (Polymarket) کے اعداد و شمار ۲۰۲۶ء کے آخر تک امریکی معیشت میں کساد بازاری کے ۳۷ فیصد امکان کی نشان دہی کر رہے ہیں۔ کارپوریٹ منافع دباؤ کا شکار ہے اور بڑھتے ہوئے اخراجات کمپنیوں کو نئی بھرتیوں اور سرمایہ کاری میں تاخیر پر مجبور کر رہے ہیں۔ اس کے اثرات امریکی گھرانوں پر بھی محسوس کئے جارہے ہیں، کیونکہ مارکیٹ کے نقصانات کی وجہ سے ریٹائرمنٹ کی بچت جیسے پینشن اور دیگر اسکیمیں متاثر ہوئی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: عالمی تنازعات سے ہندوستان کے تعمیراتی شعبے پر اثرات کا خدشہ
تیل کی قیمتوں میں اچھال، ایندھن کے اخراجات میں اضافہ
عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں زبردست اضافہ نے مہنگائی کے دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ امریکی بینچ مارک خام تیل دسمبر میں تقریباً ۵۷ ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر تقریباً ۱۰۶ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ برینٹ کروڈ ۱۰۰ سے ۱۱۰ ڈالر فی بیرل کے درمیان فروخت ہو رہا ہے۔ پیٹرول کی قومی اوسط قیمت میں ۳۰ فیصد اضافہ ہوا ہے، جو مارچ میں تقریباً ۴ ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی۔ ڈیزل، جیٹ کے ایندھن اور پیٹرو کیمیکلز کی قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں، جو سپلائی میں تعطل اور عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کی عکاسی کرتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: عالمی توانائی بحران: ایران امریکہ جنگ کے باعث تیل کی قیمت ۱۱۵؍ ڈالر سے متجاوز
ایندھن کے اخراجات بڑھنے سے عوامی کھپت میں کمی
مہنگائی اور ایندھن کے زیادہ اخراجات گھریلو بجٹ کو متاثر کر رہے ہیں، جس سے خریداری کے رجحانات بدل رہے ہیں۔ عوامی کھپت (Consumer expenditure)، جو امریکی جی ڈی پی کا تقریباً ۷۰ فیصد ہے، میں کمزوری کے آثار نمایاں ہیں۔ گولڈمین ساخس (Goldman Sachs) کے ماہرینِ معاشیات سمیت دیگر ماہرین نے ۲۰۲۶ء کیلئے زیادہ مہنگائی کی پیش گوئی کی ہے جبکہ شرحِ نمو کے بڑھنے کی توقعات کم کر دی ہیں۔