Updated: March 31, 2026, 9:05 PM IST
| Mumbai
مشہور پلے بیک گلوکارہ الکا یاگنک نے انکشاف کیا ہے کہ وہ ایک نایاب سماعت کے عارضے میں مبتلا ہیں جس کے باعث وہ نئے گانوں پر کام نہیں کر پا رہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ مسئلہ وائرل اٹیک کے بعد اچانک پیدا ہوا اور اب تک برقرار ہے۔ گلوکارہ کے مطابق موسیقار مسلسل رابطہ کرتے ہیں مگر وہ ریکارڈنگ کے قابل نہیں۔ انہوں نے مداحوں سے دعا کی اپیل کی اور تیز موسیقی و ہیڈ فونز سے احتیاط برتنے کا مشورہ دیا۔
الکا یاگنک۔ تصویر: آئی این این
ہندوستانی موسیقی کی دنیا کی ممتاز آواز الکا یاگنک نے حال ہی میں ایک سنگین صحت کے مسئلے پر کھل کر بات کی ہے، جس نے ان کے کریئر کو وقتی طور پر روک دیا ہے۔ ۲۰؍ ہزار سے زائد گانوں کو اپنی آواز دینے والی اس لیجنڈری گلوکارہ نے انکشاف کیا کہ وہ ایک نایاب قسم کے سماعت کے عارضے میں مبتلا ہیں، جس کی وجہ سے وہ نئے پروجیکٹس قبول نہیں کر پا رہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ مسئلہ ایک وائرل اٹیک کے بعد اچانک سامنے آیا، جب وہ ایک فلائٹ سے اترنے کے بعد محسوس کرنے لگیں کہ وہ سن نہیں پا رہیں۔ بعد ازاں ڈاکٹروں نے اس کی تشخیص ’’سینسری نیورل ہیئرنگ لاس‘‘ کے طور پر کی، جو ایک نایاب حالت ہے اور سماعت پر براہ راست اثر ڈالتی ہے۔
ایک حالیہ انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ وہ اب بھی اس بیماری سے متاثر ہیں اور مکمل طور پر صحت یاب نہیں ہو سکیں۔ ان کے مطابق، ’’موسیقار مجھ سے مسلسل رابطہ کرتے ہیں، لیکن میں اس وقت کام کرنے کے قابل نہیں ہوں۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ یہ اچانک آنے والا جھٹکا ان کے لیے نہایت مشکل ثابت ہوا، کیونکہ ان کی پوری زندگی موسیقی کے گرد گھومتی رہی ہے۔ الکا یاگنک نے مداحوں سے درخواست کی کہ وہ اس مشکل وقت میں ان کے لیے دعا کریں۔ انہوں نے خاص طور پر نوجوانوں کو خبردار کیا کہ وہ تیز آواز میں موسیقی سننے اور ہیڈ فونز کے زیادہ استعمال سے گریز کریں، کیونکہ یہ طویل مدت میں سماعت کے مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔
ان کا آخری ریکارڈ کیا گیا گانا فلم ’’امر سنگھ چمکیلا‘‘ کا ’’نرم کالجا‘‘ تھا، جس کی ہدایت کاری امتیاز علی نے کی جبکہ موسیقی اے آر رحمان نے ترتیب دی۔ اس گانے کے بعد سے انہوں نے کسی نئے پروجیکٹ میں حصہ نہیں لیا، جو ان کے مداحوں کے لیے ایک تشویشناک خبر ہے۔ الکا یاگنک کا شمار ہندوستانی فلمی موسیقی کی تاریخ کی کامیاب ترین گلوکاراؤں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے نہ صرف ہندی بلکہ ۲۵؍ مختلف زبانوں میں گانے ریکارڈ کیے ہیں۔ ان کے مشہور گانوں میں ’’ٹپ ٹپ برسا پانی‘‘، ’’چرا کے دل میرا‘‘، ’’بولے چوڑیاں‘‘ اور ’’اگر تم ساتھ ہو‘‘ جیسے لازوال نغمے شامل ہیں، جنہوں نے ایک پوری نسل کی یادوں کو تشکیل دیا۔
یہ بھی پڑھئے: ’’رامائن‘‘ کی پہلی جھلک ایل اے میں، ہندوستانی مداح برہم
ان کی خدمات کے اعتراف میں حال ہی میں انہیں ہندوستان کے تیسرے بڑے شہری اعزاز پدم بھوشن سے نوازا گیا۔ اس اعزاز پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں اس خبر کا علم ان کی بیٹی کے ذریعے ہوا اور وہ اس پر بے حد خوش ہیں۔ انہوں نے حکومت ہند کا شکریہ ادا کیا کہ انہیں اس اعزاز کے لیے منتخب کیا گیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اس اعزاز کی توقع کر رہی تھیں، تو انہوں نے عاجزی سے جواب دیا کہ انہیں اس کی توقع نہیں تھی۔ موسیقی کی دنیا میں ان کی کمی محسوس کی جا رہی ہے، اور مداحوں کو امید ہے کہ وہ جلد صحت یاب ہو کر دوبارہ اپنی سریلی آواز سے دلوں کو مسحور کریں گی۔ ان کی موجودہ صورتحال نہ صرف ایک ذاتی آزمائش ہے بلکہ یہ اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ فنکار بھی انسانی کمزوریوں سے محفوظ نہیں ہوتے۔