فیکٹری مالکان مزدوروں کی کمی سے فکر مند

Updated: August 08, 2020, 11:43 AM IST | New Delhi

زیورات کی صنعتوں میں اب مہاجر مزدوروں کو واپس کام پر لانے کے لئے انہیں ہوائی ٹکٹ اور زیادہ تنخواہ کی پیش کش کی جارہی ہے۔

For Representation Purpose Only. Photo INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

کورونا وائرس اور لاک ڈائون کے سبب تقریبا ً۴؍ ماہ قبل اپنے گاؤں جانے والے مہاجرمزدوروں کی کمی اب صنعتی اداروں کے مالکان کو فکرمند کرنے لگی ہے۔ اب حالات یہاں تک پہنچ چکے ہیں کہ زیورات کی صنعتوں کے مالکان اب ان مزدوروں کو واپس کام پر لانے کے لئے انہیں ہوائی ٹکٹ اور زیادہ تنخواہ کی پیش کش کرر ہے ہیں ۔ اس کے باوجود کئی مزدور لوٹنےکو تیار نہیں ہیں ۔
ہنر مند کاریگروں کی شدید قلت
  واضح رہےمارچ میں لاک ڈاؤن کے بعد اپریل میں بیشتر مزدور شہروں سے اپنے اپنےگاؤں لوٹ گئے ہیں ، اگرچہ ان میں سے کچھ افراد آبائی علاقوں میں ذریعہ معاش نہ ہونے کے سبب دوبارہ شہروں میں آنے لگے ہیں لیکن اب بھی بڑی تعداد میں مزدور اپنے گائووں میں ہی ہیں ۔ ایسے حالات میں زیورات کی صنعت بھی مزدوروں کی کمی کا سامنا کر رہی ہے اور اب محنت کشو ں کو دوبارہ کام پر بلانےکی ہر ممکن کوششیں شروع کردی گئی ہیں ۔ دراصل، اس کی وجہ یہ ہے کہ لاک ڈائون میں نرمی کے بعد کاروبار بحال ہونے کی امیدیں ہیں اور اب تیار کردہ سازوسامان کی طلب آہستہ آہستہ بڑھ رہی ہے اور ا سے پورا کرنے کے لئے مزدوروں کی ضرورت ناگزیرہے۔ 
 جیم اینڈ جیولری ایکسپورٹ پروموشن کونسل (جی جے ای پی سی) نے کہا کہ ہنر مند مزدوروں کی عدم موجودگی کے سبب جیولری صنعت کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔
ایکسپورٹ آرڈر تیزی سے بڑھ رہے ہیں 
 جی جے ای پی سی کے چیئرمین کولین شاہ نے بتایاکہ زیورات کی صنعت میں زیادہ تر ہنرمند کاریگر روایتی طور پر مغربی بنگال ، گجرات اور اتر پردیش کے ہیں ۔ وہ سب وبائی بیماری کے دوران ممبئی سے اپنے گھروں کو لوٹ گئے تھے۔ شاہ کے مطابق بحران کے حالات میں بھی مانگ میں اضافہ ہوا ہے اوربرآمدات کے آرڈر بڑھ رہے ہیں لیکن ہم انہیں پورا نہیں کرسکتے ہیں کیونکہ ہمارے پاس افرادی قوت کی کمی ہے۔شاہ کا کہنا ہے کہ رواں سال بھی گزشتہ سال کی طرح برآمدات میں ۵۰؍ سے ۶۰؍فیصد اضافہ ہے لیکن زیادہ تر فیکٹریاں اپنی کل استعداد کی ایک چوتھائی سطح پر کام کررہی ہیں ۔ جس کے سبب طلب اور پیداوار میں بہت بڑا فرق پیدا ہو نے لگاہے جس سے بڑے نقصان کا خدشہ ہے۔
  شاہ کا مزیدکہنا تھا کہ ایکسپوٹرز کو اپنے ملازمین کو یقین دلانے کی ضرورت ہے کہ فیکٹریوں میں مزدور مکمل طور پر محفوظ ہوں گے۔ آج کام زیادہ ہے لیکن ہنرافراد نہیں ہے۔ یہ ایک عجیب سی صورتحال ہے۔ ` حکومتی حکم کے مطابق فی الحال صرف ۲۵؍ فیصد ملازمین کو ایک ہی وقت میں کام کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ 
پچاس فیصدمطالبہ بھی پورا نہیں کرسکتے ہیں 
 رام کرشنا ایکسپورٹ کے منیجنگ ڈائریکٹر راہول ڈھولکیا نے بتایا کہ کمپنی صرف ایک شفٹ میں کام کر رہی ہے۔ جبکہ ان کی مصنوعات کی بنیادی طور پر امریکہ اور چین کے ساتھ ساتھ دوسرے ممالک میں اچھی مانگ ہے لیکن ہم ۵۰؍ فیصد طلب بھی پوری نہیں کرسکتے ہیں کیونکہ افرادی قوت کم ہونے کی وجہ سے پیداوار صرف ۲۵؍ فیصد ہے۔
 راہول کا کہنا ہے کہ مارچ میں لاک ڈاؤن کے اعلان کے بعد سے ممبئی اور سورت سے کے ہر ملازم کو تنخواہ دی جارہی ہے۔ باقی جو کام پر آنے سے قاصر تھے انہیں بھی ماہانہ بنیاد پر گھر چلانے کیلئے تنخواہ ادائیگی کی جارہی ہے۔ راہول کے مطابق ہم اپنے مزدور پر واپس آنے کے لئے کوئی دباؤ نہیں ڈالنا چاہتے۔
ہوائی ٹکٹ بھی دینے کو تیار ہیں 
  پرایوریٹی جیولز کے بانی شیلس سنگانی نے کہا کہ ہندوستانی جیولری ایکسپورٹ سیکٹر کو افرادی قوت کی قلت کا سامنا ہے۔ ہم اپنے مزد وروں کوواپس آنے کے لئے زیادہ سے زیادہ رقم کی ادائیگی اور ایئر ٹکٹ دینے کے لئے تیار ہیں لیکن اب حالات یہ ہے کہ وہ اتنے دن اپنے گھر پر رہنے کے بعد اپنے کنبے کو چھوڑنے میں ہچکچاتے ہیں ۔ ا نہیں مستقل خوف لاحق رہتا ہے۔ وہ ممبئی میں جاری وبا کی وجہ سے واپس آنے کو تیار نہیں ہیں ۔
اگر آرڈرز پورے نہیں ہوئے تو نقصان ہوسکتا ہے
 شیلس کا کہنا ہے کہ اگر ہم ایکسپورٹ آرڈر کو پورا نہیں کر سکیں تو تھائی لینڈ ، ویتنام اور چین جیسے ممالک کے مقابلہ میں ہم اپنا کاروبار کھو سکتے ہیں ۔ فی الحال مذکورہ ممالک ہندوستانی فیکٹریوں کی بہ نسبت زیادہ افرادی قوت کے ساتھ کام کر رہے ہیں ۔
کسی بھی قیمت پر کاروبار سے محروم ہونا نہیں چاہتے ہیں 
 جسانی انڈیا کے ڈائریکٹر مکیش شاہ نے بتایا کہ ان کی کمپنی کو امریکہ سے زیورات کے زبردست آرڈر مل رہے ہیں ۔ مخصوص زمرے کے لئے پالش کردہ اشیاء کے آرڈر زموصول ہوئے ہیں ۔ ایسی صورتحال میں کوئی بھی کسی بھی قیمت پر کاروبار سے محروم نہیں ہونا چا ہتا ہے۔ ہم فی الحال بہت ہی کم افرادی قوت کے ساتھ کام کر رہے ہیں ، کام کا دباؤ زیادہ ہے۔ قابلِ غور ہے کہ جن فیکٹریوں میں کام شروع کیا گیا ہے وہاں سخت حفاظتی پروٹوکول بنائے گئے ہیں اور جسمانی دوری بنائے رکھنے کا بھی خصوصی خیال رکھا جارہا ہے اور دیگر احتیاطی اقدامات بھی کئے جارہے ہیں ۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK