اردگان کےخلاف ناکام فوجی بغاوت کو ۵سال مکمل عام تعطیل کااعلان فوج کامقابلہ کرنےوالےخراج تحسین

Updated: July 16, 2021, 8:25 AM IST | Ankara

ترک فوج کے ایک گروپ کی جانب سے صدر رجب طیب اردگان کی حکومت کا تختہ الٹنے کی ناکام کوشش کو پانچ برس مکمل ہو گئے ہیں۔

Erdogan lays flowers at his supporters killed in the uprising.Picture:PTI
اردگان بغاوت میں ہلاک ہونے والےاپنے حامیوں پر پھول ڈالتے ہوئے تصویرپی ٹی آئی

ترک فوج کے ایک گروپ  کی جانب سے  صدر رجب طیب اردگان کی حکومت کا تختہ الٹنے کی ناکام کوشش کو پانچ برس مکمل  ہو گئے ہیں۔ ترک صدر نے اپنے حامیوں کو دارالحکومت انقرہ میں اس دن کی یاد کو تازہ کرنے کیلئے جمع ہونے کی ہدایت کی ہے۔ترکی میں جمعرات کو عام تعطیل کا اعلان کیا گیا تھا جس کا مقصد فوجی بغاوت کو ناکام کرنے والے افراد کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے۔ فوجی بغاوت کی کوشش اور اس کے خلاف ہونے والی مزاحمت کے دوران لگ بھگ ۲۵۰؍ افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ بغاوت کے الزام میں اب تک سیکڑوں فوجی افسران، جج اور پراسیکیوٹرس کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔اردگان  نے جلاوطن ترک لیڈر فتح اللہ گولن پر بغاوت کا الزام عائد کیا تھا جو اس وقت امریکہ میں موجود ہیں تاہم وہ اس الزام کی تردید کرتے آئے ہیں۔
  ۱۵؍ جولائی  ۲۰۱۶ء کی ناکام فوجی بغاوت نے ترکی میں تقریباً ہر شعبے پر اپنے اثرات چھوڑے ہیں۔ اس کے بعد سے ملک میں مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے اور ڈالر کے مقابلے میں ترک کرنسی لیرا کی قدر میں دو گنا سے بھی زیادہ کمی ہوئی ہے۔گزشتہ  ۵؍برس میں اب تک ہزاروں افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے جبکہ ایک لا کھ ۴۰؍ ہزار سے زیادہ کو یا تو نظر بند کیا گیا ہے  یا انہیں ملازمتوں سے برطرف کیا جا چکا ہے۔گزشتہ پانچ برس میں ترکی میں میڈیا پر بھی کڑی سرکاری نگرانی ہے اور درجنوں میڈیا آرگنائزیشن کو بند کیا جا چکا ہے۔
 بغاوت کے مبینہ منصوبہ سازوں، انسانی حقوق کے کارکنوں، مخالف سیاست دانوں کے خلاف سرکاری کریک ڈاؤن نے صدر اردگان کی اقتدار پر گرفت مزید مضبوط کر دی ہے۔ بغاوت کی ناکام کوشش کو ایک برس مکمل ہونے سے قبل ہی اردگان  نے ایک ریفرنڈم کے ذریعے ترکی کے پارلیمانی جمہوری نظام کو صدارتی نظام میں تبدیل کردیا تھا۔انہوں نے معمولی سبقت سے ریفرنڈم میں کامیابی حاصل کی تھی جس کے بعد وہ اکثر اہم امور پر صدارتی حکم نامہ جاری کرنے کا اختیار استعمال کرنے کے اہل ہو گئے ۔
بغاوت کے الزام میں گرفتاریاں و سزائیں
 ترکی کے وزیرِ دفاع ہلوسی اکار نے منگل کو کہا تھا کہ فتح اللہ گولن کے نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ترکی نے ۲۳؍ہزار ۳۶۴؍ فوجیوں کو برطرف کیا ہے۔ترک وزیرِ داخلہ سلیمان سوئیلو کے مطابق ۲۰۱۶ء کے بعد ۳؍ لاکھ ۲۱؍ ہزار سے زیادہ افراد کو حراست میں لیا گیا تھا جن میں سے بیشتر کو رہا کر دیا گیا ہے۔فتح اللہ گولن کے نیٹ ورک سے تعلق کے الزام میں تقریباً چار ہزار ججوںاور پراسیکیوٹرس کو نظربند کیا گیا جبکہ ایک لاکھ سے زیادہ ان ملازمین کو یا تو برطرف کیا گیا یا معطل کیا گیا جو پبلک سیکٹر میں کام کرتے تھے۔ترکی کی سرکاری نیوز ایجنسی ’انادولو‘ کے مطابق عدالتوں نے ۳؍ہزار افراد کو عمر قید کی سزا سنائی جبکہ ۴۸۹۰؍ افراد کو بغاوت کی کوشش میں تعاون دینے کا مرتکب قرار دیا۔
 ترکی میں ۱۵؍ جولائی ۲۰۱۶ءکی بغاوت کے بعد شروع ہونے والا کریک ڈاؤن اب بھی جاری ہے اور اس کے ختم ہونے کے کوئی آثار نہیں ہیں کیوں کہ بدھ کو ہی صدر اردگان  نے کہا ہے کہ جب تک بغاوت کرنے والے آخری شخص کو ٹھیک نہیں کر لیا جاتا اس وقت تک یہ مہم جاری رہے گی۔دوسری جانب ترکی میں قانون کی بالادستی اور مخالفین کے خلاف کارروائیوں نے ترکی کے مغربی اتحادی ملکوں کے درمیان تعلقات اور معیشت کو متاثر کیا ہے۔ واضح رہے کہ طیب اردگان کے دور میں ترکی میں اسلامی اقدار کی بحالی کا سلسلہ شروع ہوا ۔ یہی وجہ ہے ایک بڑا مغرب نواز طبقہ ان کے خلاف ہے۔ 

turkey Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK