کسانوں کا پٹریاں خالی کرنے کا اعلان لیکن احتجاج برقرار

Updated: November 22, 2020, 6:00 AM IST | Agency | Chandigarh

حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے کسانوں کی تنظیموں نے ۲۳؍ نومبر سے پنجاب کے تمام ریلوے ٹریک سے ہٹنے کا اعلان کیا، پنجاب کے وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ نے کسان یونینوں سے گفتگو کرکے انہیں ہٹنے پر راضی کیا لیکن مطالبات پورے ہونے تک مرکز سے گفتگو جاری رکھنےکی یقین دہانی بھی کروائی

Farmers Protest - Pic : PTI
کسانوں کا احتجاج ۔ تصویر : پی ٹی آئی

پنجاب میں کسانوں نے حالات کی نزاکت کے پیش نظر۲۳؍ نومبر سے ریاست کے سبھی ٹریکوں سے  ہٹانے کا اعلان کیا ہے تاکہ مال گاڑیوں اور مسافر ٹرینوں کی بحالی ہو سکے۔اس سلسلے میں وزیراعلیٰ کیپٹن امرندر سنگھ کی کسان یونینوں سے بات چیت ہوئی اور انہوں نے سبھی کسان تنظیموں سے ریاست کی معیشت کو ہورہے نقصان اور دیگر سامان کی فراہمی متاثر ہونے اور مسافروں کی پریشانی کے پیش نظر ہوئے ریل روکو تحریک واپس لینے کی اپیل کی۔ کیپٹن سنگھ کی اپیل پر کسانوں نے سبھی ٹریکوں سے دھرنے ختم کرنے کا اعلان کیا تاکہ مال گاڑیوں کے علاوہ مسافر ٹرینوں کی آمد و رفت بحال ہو سکے۔ اس دوران انہوں نے کسانوں کو یقین دہانی کروائی کہ ان کا احتجاج جاری رہے گا اور مرکز سے گفتگو بھی جاری رہے گی تاکہ تمام مطالبات منوائے جاسکیں اور مرکز کے سیاہ قوانین کو بے اثر کیا جاسکے۔ 
 واضح رہے کہ کسانوں نے ایک اکتوبر سے ریل روکو دھرنا شروع کیا  تھا جو اب تک چل رہا ہے۔ کسانوں کے اس اعلان کے فوراً بعد وزیراعلیٰ نے مرکزی حکومت کو ریاست میں سبھی ریلوے خدمات بحال کرنے اور زرعی قوانین  کے سلسلے میں جاری تعطل کو ختم کرنے کےلئے کسان نمائندوں سے بات چیت کرنے کی اپیل کی۔کسان یونینوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کسان رہنماؤں کو یقین دلایا ہے کہ وہ ان کے مطالبات کے سلسلے میں وزیراعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے جلد ہی ملیں گے۔انہوں نے کہا کہ سبھی متحد ہوکر مرکز پر دباؤ ڈالیں اور اپنا موقف واضح کرکے بتائیں کہ کیسے مرکزی قانون پنجاب کو تباہ کر دیں گے۔ انہوں نے یہ یقین دلایا کہ کسانوں کی لڑائی میں وہ ان کے ساتھ ہیں۔ ہم سبھی کی رگوں میں کسانی خون ہے اور ہم اس کا حق ادا کریں گے ۔ یاد رہے کہ اس سے قبل  کسانوں نے نمائندوں اور مرکزی حکومت کے درمیان ایک رائونڈ کی طویل گفتگوہو چکی ہے لیکن اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا کیوں کہ حکومت اپنی غلطی ماننے کو تیار ہی نہیں ہے۔ 
 کیپٹن امریندر سنگھ نے کسان نمائندوں سے وعدہ کیا کہ وہ ان کے دیگر مطالبات بھی دیکھیں گے جن میں گنے کی قیمت میں اضافہ،بقایا رقوم کی ادائیگی اور باقیات جلانے کے معاملے میں درج ایف آئی آر منسوخ کرنا شامل ہیں۔ وہ ان مسائل پر اگلے ایک ہفتے میں بات چیت کریں گے اور اس معاملے پر غور و خوض کے لئے افسروں کی ایک کمیٹی بنائیں گے۔
 کسان تنظیموں کے ذریعہ ریل روکو ہٹانے کے فیصلے کا استقبال کرتے ہوئے پنجاب ریاستی گانگریس کمیٹی کے پردھان سنیل جاکھڑ نے ریاست اور کسانوں کے حق میں سبھی پارٹیوں کو متحد ہونے کی اپیل کی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ہم پنجاب کو جلنے نہیں دیں گے،ہم بی جے پی کو دیہی، شہری یا مذہبی  خطوط پر   پنجاب کو  بانٹنے نہیں دیں گے۔
 واضح رہے کہ کسانوں نے مرکزی حکومت کے ۳؍ زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کر رکھا تھا۔ ان قوانین کی وجہ سے ان کی روزی روٹی خطرے میں پڑ رہی ہے اور کسان مطالبہ کررہے ہیں کہ انہیں نافذ کرکے حکومت کسانوں کا کوئی فائدہ نہیں کررہی ہے بلکہ وہ انہیں کارپوریٹ کمپنیوں کے ہاتھوں میں سونپ رہی ہے۔کسانوں نے اس کے خلاف پورے ملک میں مظاہرے کئے اور حکومت کو خواب غفلت سے جگانے کی کوشش کی لیکن مودی حکومت بھی اس معاملے میں ٹس سے مس ہونے کو تیار نہیں ہے۔ اس کا دعویٰ ہے کہ ان قوانین سے کسانوں کو فائدہ ہو گا۔

punjab Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK