ممبئی سے کسانوں کا مودی سرکار کو انتباہ، بی جےپی کو ہرانے کا عزم

Updated: November 29, 2021, 9:39 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

ایم ایس پی کی قانونی ضمانت کیلئے جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان، وزیراعظم کے معافی مانگنے پر بھی’ دھوکہ اور کھیل‘ کا ا ندیشہ ظاہر کیا، ٹکیت نے نشاندہی کی کہ جب وزیراعلیٰ تھے تب مودی خود ایم ایس پی کے حامی تھے

Rakesh Takit, Darshan Pal Singh, Medha Patkar and other farmer leaders can be seen..Picture:INN
راکیش ٹکیت، درشن پال سنگھ، میدھا پاٹکر اور دیگر کسان لیڈروں کو دیکھا جاسکتاہے۔۔ تصویر: آئی این این

تینوں متنازع زرعی قوانین کی منسوخی کے اعلان  کے باوجود ایم ایس پی کی قانونی ضمانت ، اجے مشرا ٹینی کی مرکزی کابینہ سے برطرفی  اور دیگر مطالبات کیلئے آندولن جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے ممبئی  میں کسان مہا پنچایت سے خطاب کرتے ہوئے راکیش ٹکیت نے  راکیش ٹکیت کو متنبہ کیا کہ ’’یہ شمالی کوریا نہیں ہےاو ر نہ ہی یہاں کم جان اُن کی حکمرانی ہیں۔‘‘اس کے ساتھ ہی کسان لیڈروں نے دوٹوک  پیغام دیا کہ آئندہ برس ہونےوالے اسمبلی انتخابات میں  بی جے پی کو شکست سے دوچار کرنے کی کوششیں جاری رہیں گی۔ 
آزاد میدان میں مہا پنچایت کیلئے جم غفیر
 لکھیم پور کھیری میں گاڑیوں سے کچل کر قتل کئے گئے کسانوں کی استھی کلش یاتراکے آخری پڑاؤ  کے طور پر اتوار کو کسان لیڈر ممبئی پہنچے جہاں استھیوں کو سمندر برد کیاگیا جبکہ آزاد میدان میں سمیوکت شیتکری کامگار مورچہ (مہاراشٹر) کی جانب سے  مہاپنچایت منعقد کی گئی۔اس کیلئے ممبئی  کے اس تاریخی میدان میں  وسیع وعریض پنڈال  بنایاگیاتھا جو سرخ، ہرے اور دیگر رنگوں  کے پرچموں  کے ذریعہ ہندوستان   کی گنگا جمنی تہذیب کی عکاسی کررہے تھے۔ مظاہرہ گاہ میں  ریاست کے الگ الگ حصوں سے  آنے والے ہزاروں مظاہرین موجود تھے۔  اس دوران ان کا جوش قابل دید تھا جو اپنے مطالبات کو ہرحال میں منظور کروالینے کے عزم کے ساتھی  ’’ہم سے جو ٹکرائے گا مٹی میں مل جائے گا‘‘، ’’کسان مزدور ایکتا زندہ باد‘‘، ’’مہاتما پھلےامر رہے‘‘ ،  ’’لڑیں گے جیتیں گے‘‘،   ’’اجے مشرا ٹینی مردہ باد‘‘ ،’’انقلاب زندہ باد‘‘ اور ’’ سنیتا تڑوی امر رہے ‘‘ کے فلک شگاف نعرے بلند کر رہے تھے۔ 
ٹکیت نے مودی کو ایم ایس پی پر ان ہی کا موقف یاد دلایا
 کسان لیڈر راکیش سنگھ ٹکیت نے اپنے خطاب میں کہا کہ’’ یہ آزاد میدان ہے ، یہاں ہم نے دو مرتبہ پہلے کھلی پنچایت کی اور ایک مرتبہ گرفتاریاں دیں، اس وقت آزاد میدان کو کھلی جیل بنادیا گیا تھا ۔آج آدیواسیوں کو ان کی زمینوں سے بے دخل کیا جارہا ہے ، یہ آندولن ان کا ہے اور ان کا بھی ہے جو دہلی تو نہیں گئے لیکن ان کا تعاون رہا۔یہاں کسی جھنڈے پر کسان مورچہ کو اعتراض نہیں لیکن بی جے پی اور آر ایس ایس کے لوگوں نے اسے رنگوں کی بنیاد پر بانٹنے کی کوشش کی ،ان کو خالصتانی، ماؤوادی اور دیگر  نام دیئے لیکن ہم کو گھبرانے کی نہیں بلکہ ان سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔ اب تک جو کامیابی ملی ہے وہ شہید کسانوں کی بدولت ممکن‌ ہوئی ہے۔ ‘‘ راکیش ٹکیت نے ایم ایس پی لاگو کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے یاد دلایا کہ ’’ ایم ایس پی کے سب سے بڑے وکیل تو خود مودی تھے جو اب وزیر اب اعظم بن کر گویا جج بن چکے ہیں اور یہ معاملہ ان  ہی  کی  عدالت میں چلاگیا ہے، پھر بھی وہ آنا کانی کررہے ہیں۔‘‘ 
’’سازشی اور فریبی  حکومت اب بھی گفتگو کو تیار نہیں‘‘
  بھارتیہ کسان یونین کے ترجمان راکیش ٹکیت نے مودی حکومت کو سازشی اور فریبی قرار دیتے ہوئے اس کے غرور پر تنقید کی  اور کہا کہ ’’وہ اب بھی بات کرنے کو تیار نہیں ہے۔‘‘ ٹکیت نے کہا کہ ہم کسی قیمت پر روٹی کا’ بازاری کرن‘ نہیں ہونے دیں گے۔مودی  کے معافی مانگنے کے تعلق سے کسان لیڈر نے کہا کہ ’’مودی معافی نہیں مانگ رہے ہیں بلکہ اس کے ذریعے بھی دھوکا اور کھیل کیا جارہا ہے ۔یہ آندولن ابھی ختم نہیں ہوا ہے بلکہ ابھی لمبا چلے گا۔‘‘
کسان لیڈر حکومت سے دودوہاتھ کیلئے تیار!
 راکیش ٹکیت نے مودی حکومت پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ’’ یہ شمالی کوریا نہیں ہے اور نہ ہی یہاںکم  جان اُن کا راج ہے، نہ ہی یہاں پرمٹ لینی ہوگی ،یہ آزاد دیش ہے۔‘‘ انہوں نے حکومت کو انتباہ دیا کہ’’ اگر ہماری میٹنگ کو کوروکا جائے گا تو ہم بھی تمہاری میٹنگوں کو روکیں گے۔ ‘‘ ٹکیت نےدعویٰ کیا کہ   خود بی جےپی میں بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو موجودہ حکومت کی پالیسیوں سے متفق نہیں  ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ کہ مذکورہ افراد ’’ ہم سے کہتے ہیں کہ آپ لوگ ہٹنا نہیں ورنہ یہ  لوگ دیش کو برباد کردیں گے۔ ‘‘
قانون پھر لائے گئے تو ہم پھر لوٹ کر آئیں گے 
 پنجاب کسان یونین کی لیڈر جسبیر کور نے مہا پنچایت سے خطاب کرتے ہوئےاعلان کیا کہ’’  بی جے پی  کے کچھ  لیڈر اور وزیر یہ کہہ رہے ہیں کہ قانون پھر لائے جاسکتے ہیں تو ہم بھی بتادیتے ہیں کہ ہم مریخ  پر نہیں جانے  والے، ہم پھر اس سے بڑے تیاری  کے ساتھ واپس آئیں گے ۔‘‘انہوں نے کہا کہ’’ لوگوں نے یہ بتادیا ہے کہ اتحاد سے تبدیلی ممکن ہے۔‘‘ انہوں نے کہاکہ کسانوں کی لڑائی تین زرعی قوانین کی منسوخی تک محدود نہیں بلکہ اب یہ لڑائی  ملک کو بچانے کی لڑائی بن گئی ہے۔ انہوں نے سامعین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ’’ ہمیں اس کے لئے تیار رہنا ہے۔ ‘‘ 

mumbai Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK