ناسک اور دیگر مقامات پر کسانوں کو پیاز کے دام فی کوئنٹل ۷؍ سو تا ۹؍ سو مل رہے ہیں، اس کیلئے احتجاج جاری تھا کہ جنگ شروع ہوگئی، اب دام بڑھنا اور بھی مشکل ہو گیا
EPAPER
Updated: March 13, 2026, 11:09 PM IST | Nashik
ناسک اور دیگر مقامات پر کسانوں کو پیاز کے دام فی کوئنٹل ۷؍ سو تا ۹؍ سو مل رہے ہیں، اس کیلئے احتجاج جاری تھا کہ جنگ شروع ہوگئی، اب دام بڑھنا اور بھی مشکل ہو گیا
پیاز کا مرکز کہلانے والے ضلع ناسک کے کسان بازار کی قیمتوں میں زبردست گراوٹ کی وجہ سے پریشان ہیں اور گزشتہ دنوں شدید گرمی کے باوجود وہ سڑکوں پر اتر آئے۔ناسک کے لاسل گاؤں میں پیاز کی سب سے بڑی منڈی ہے۔یہاں کسانوں نے سڑک جام کی اور حکومت سے پیاز کے مناسب دام دلوانے کا مطالبہ کیا۔ دراصل گزشتہ کچھ ماہ سے پیاز کے دام مسلسل گر رہے ہیں۔ فی الحال کسانوں کو پیاز کے دام فی کوئنٹل صرف ۷۰۰؍ سے ۹۰۰؍روپے مل رہے ہیں۔اس لئے،کسانوں کو ماہانہ کروڑوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ بڑے برآمد کنندگان اور کسانوں کا کہنا ہے کہ کم از کم مزید دو ہفتوں تک قیمتوں میں اضافے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ گزشتہ دنوں شمالی ریاستوں میں آمد اور ہولی کی تعطیلات کی وجہ سے قیمتیں ایک ہفتے کے اندر دوبارہ گر گئی ہیں۔ قیمتوں میں کمی سے کسانوں کو دہرا دھچکا لگا ہے۔پہلے ہی مارکیٹ کی کم قیمتیں، پیداواری لاگت میں اضافہ، حکومت کی برآمدی پالیسی میں غیر یقینی صورتحال تھی، ایران جنگ کے سبب برآمدات مکمل طور پر رک چکی ہیں۔ ایسی صورت میں پیاز کے داموں کو بڑھنا ناممکن نظر آتا ہے۔
ناسک سمیت مہاراشٹر کے لاکھوں کسانوں کیلئے پیاز ان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ ایران جنگ کے سبب ایکسپورٹ کیلئے کنٹینر میں بھری گئی پیاز بندر گاہ پر پڑی ہوئی ہے۔ برآمدات میں اس تعطل نے مقامی مارکیٹ پر اضافی دباؤ ڈالا ہے اور قیمتوں میں کمی کا امکان بڑھ گیا ہے۔ اگر پیاز کو کنٹینر میں زیادہ دیر تک چھوڑ دیا جائے تو اس کے خراب ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔
فی ٹریکٹر ۸؍ ہزار روپے کا نقصان
فی الحال لال پیاز لاسل گائوں، پمپل گاؤں، ونچور، ناسک جیسی اہم مارکیٹ کمیٹیوں میں بڑی مقدار میں پہنچ رہی ہے۔ قیمتوں میں کمی کی وجہ سے انہیں ایک ہی دن میں۲۵۰؍ سے ۳۵۰؍ روپے فی کوئنٹل کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ یعنی کسانوں نے بتایا کہ انہیں فی ٹریکٹر ۷؍ سے ۸؍ ہزار روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ بنگلہ دیش کے ۱۷۲۴؍ کروڑ روپے سے ۴۰؍فیصد کمی۔ پچھلے سال ہندوستان نے بنگلہ دیش کو پیاز برآمدکروا کر سے ۱۷۲۴؍ کروڑ روپے کا زرمبادلہ کمایا تھا۔ تاہم، برآمد کنندگان کی تنظیم کے صدر وکاس سنگھ اور پیاز برآمد کنندگان کی ایسوسی ایشن کے صدر بھرت دیگھول نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان عدم توازن کی وجہ سے اس سال بنگلہ دیش سے حاصل ہونے والے زر مبادلہ میں ۴۰؍ فیصد کمی واقع ہوگی۔
پاکستان کا ۲۷ء۸؍ لاکھ ٹن پیاز برآمد کرنے کا ہدف
ہندوستان ہر سال بنگلہ دیش، نیپال، انڈونیشیا اور دیگر ممالک کو ۲۵؍ سے ۲۸؍ لاکھ ٹن پیاز برآمد کرتا ہے۔ تاہم، پچھلے تین سال میں، اس میں ۱۵؍ لاکھ ٹن کی کمی آئی ہے، جبکہ پاکستان نے ۲۶۔۲۰۲۵ء کے فصلی سال میں پیاز کی برآمد کا ہدف ۲۷ء۸؍میٹرک ٹن مقرر کیا ہے۔ اس سے ہندوستانی پیاز کی مارکیٹ متاثر ہوئی ہے۔ چین اور پاکستان کے پاس فاضل پیاز ہونے کی وجہ سے ہندوستان کو بین الاقوامی منڈی میں خاص طور پر مشرق وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیائی منڈیوں میں سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اسکے علاوہ ہندوستانی پیاز کا ایکسپورٹ مارجن بھی کم ہو سکتا ہے جس کی وجہ سے قیمتوں میں مسلسل کمی ہو رہی ہے۔ بنگلہ دیش ہندوستانی پیاز کا سب سے بڑا خریدار ہے لیکن ہندوستان اور بنگلہ دیش کی حکومتوں کے درمیان ہم آہنگی کے فقدان کی وجہ سے بنگلہ دیش کو ہونے والی پیاز کی سپلائی تعطل کا شکار ہے۔ اسلئے ہندوستانی بازار میں پیاز کی وافر مقدار موجود ہے۔ ہولی کے موقع پر شمالی ہندوستان اور دیگر ریاستوں میں چھٹیاں تھیں۔ جس کی وجہ سے پیاز کی مانگ میں ۴۰؍ فیصد کمی آئی ہے، اس کے علاوہ جنگ کی وجہ سے پیاز سے بھرے ۲۰۰؍ سے زائد کنٹینر جے این پی ٹی بندرگاہ پر پھنس گئے ہیں۔ ان تمام عوامل نے پیاز کی قیمتوں کو متاثر کیا ہے، اور کاشتکار مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں کیونکہ پیاز کی قیمت میں ۱۰؍ روپے(فی کلو) تک کی کمی ہوئی ہے۔ اب سب کچھ اس بات پر منحصر ہے کہ ایران کتنا طول پکڑتی ہے ۔ اگر جنگ جلد ختم نہ ہوئی تو کسانوں کی مشکل اور بڑھ سکتی ہے۔