میونسپل کارپوریشن کے تعمیرات اور ٹاؤن پلاننگ محکمہ کی رپورٹ کے بعدقبضہ ہٹانے کی کارروائی انجام دی گئی ۔
کارپوریشن کی کارروائی کے بعدملبہ دیکھا جاسکتا ۔تصویر:آئی این این
میونسپل کارپوریشن نے شہر کے ٹیم گھر علاقے میں محفوظ (ریزرو) سرکاری زمین پر قائم وسیع پیمانے کی غیر قانونی تعمیرات کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے۱۰۰؍ سے زائد مکانات (چالیں اور جھوپڑیاں) مسمار کر دئیے ۔ اس انہدامی مہم کے نتیجے میں درجنوں خاندان بے گھر ہو گئے اور علاقے میں شدید بے چینی پھیل گئی۔میونسپل کارپوریشن کے عوامی رابطہ افسر سری کانت پردیسی نے بدھ کو بتایا کہ یہ کارروائی منگل کو پربھاگ سمیتی۲؍ کے دائرہ کار میں آنے والے سروے نمبر۱۹؍ پر کی گئی جو تقریباً۵ء۱۷؍گنٹھا اراضی پر مشتمل ہے اور میونسپل ڈیولپمنٹ پلان میں پرائمری اسکول اور کھیل کے میدان کیلئے مختص ہے جس پر مقامی افرادنے گزشتہ کئی برسوں سے غیر قانونی قبضہ کرکے رہائشی ڈھانچے تعمیر کر رکھے تھے۔ میونسپل کارپوریشن کے تعمیرات اور ٹاؤن پلاننگ محکمہ کی رپورٹ کے بعد زمین کی باقاعدہ پیمائش کرائی گئی اور اسے سرکاری ملکیت قرار دیتے ہوئے قبضہ ہٹانے کی کارروائی کا فیصلہ کیا گیا۔
اس کے بعد میونسپل کمشنر انمول ساگر کی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر ونود منورے کی قیادت میں انسدادِ تجاوزات دستے نے بھاری پولیس بندوبست کے ساتھ صبح تقریباً ساڑھے۱۱؍ بجے سے شام تقریباً۵؍بجے تک جاری رہنے والے آپریشن میں جے سی بی مشینوں کے ذریعے تمام غیر قانونی تعمیرات منہدم کر دیں۔
اس کارروائی میں متعدد اعلیٰ افسران اور مختلف وارڈز کا عملہ بھی شامل رہا۔میونسپل حکام کے مطابق کارروائی مکمل طور پر قانونی تقاضوں کے تحت انجام دی گئی اور متعلقہ افراد کو پہلے ہی نوٹس جاری کئے گئے تھے ۔ ان کا کہنا ہے کہ سرکاری زمین کو اصل مقصد یعنی تعلیمی ادارے اور کھیل کے میدان کے لیے خالی کرانا ضروری تھا، جس میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جا سکتی۔دوسری جانب متاثرہ مکینوں نے اس کارروائی کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے سخت احتجاج کیا۔مقامی افراد کا دعویٰ ہے کہ وہ گزشتہ۱۰؍ برس سے یہاں آباد تھے، مگر انہیں نہ تو مناسب وقت دیا گیا اور نہ ہی متبادل رہائش کا کوئی انتظام کیا گیا۔ بعض متاثرین نے یہ بھی الزام لگایا کہ زمین کی پیمائش کے دوران انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا اور کارروائی عجلت میں کی گئی۔ مقامی خاتون کنٹا پاٹل اور دیگر رہائشیوں نے شبہ ظاہر کیا کہ اس زمین کو خالی کرانے کے پیچھے کچھ بااثر عناصر کے مفادات کارفرما ہو سکتے ہیں۔