Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایف ڈی اے نے اسکولوں میں مڈڈے میل کیلئے لائسنس کو لازمی قرار دیا

Updated: August 23, 2026, 10:28 AM IST | Ali Imran | Wardha

ٹیچرس ایسوسی ایشن نے اس فیصلے کی مخالفت کی کہا ’’ اس کامطلب یہ ہوا کہ ہم طلبہ استاد نہیں دکاندار ہیں ‘‘ فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ۔

Teachers feed the children and get into trouble themselves. Photo: INN
اساتذہ بچوں کو کھانا کھلائیں اور خود مشکل میں آجائیں۔ تصویر: آئی این این

فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کمشنر تکارام منڈے مہم کا رخ اب اسکول میں طلبہ کو تقسیم کئے جانے والے مڈل ڈے میل کی طرف ہے۔ منڈے نے اب اسکولی غذائیت کیلئے ایف ایس ایس اے آئی لائسنس کو لازمی قرار دیا ہے۔ تاہم اس فیصلے پر مڈ ےمیل اور متعلقہ محکمہ سے متعلق اساتذہ و صدر مدرسین کی انجمنوں نے ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ ٹیچرس ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ بچوں کو کھانا کھلانا ہماری ذمہ داری ہے، اس کیلئے لائسنس لینے کا مطلب یہ ہے کہ ہم دکاندار ہیں، استاد نہیں۔ ہم یہ قبول نہیں کریں گے۔ 
اطلاع کے مطابق ایف ڈی اے نے مڈڈے میل کیلئے پرنسپل کو اسکول نیوٹریشن ایکٹ کا لائسنس؍رجسٹریشن حاصل کرنا ضروری قرار دیا ہے۔ اس کے تحت ایک بار جب کوئی پرنسپل اسکول کے نام پر فوڈ بزنس آپریٹر (ایف بی او) کے طور پر لائسنس حاصل کرتا ہے، تو وہ قانونی طور پر کھانا پکانے سے لے کر کھانے کی تقسیم تک پورے عمل کا سربراہ بن جاتا ہے۔ ظاہر ہے یہ فیصلہ مستقبل میں اساتذہ و صدر مدرسین پر لٹکتی ہوئی تلوار ہوگا۔ فوجداری اور دیوانی جرائم کیلئے براہ راست ذمہ داری (ذاتی ذمہ داری) عمل میں آئے گی۔ ایف ایس ایس اے آئی ایکٹ کے سیکشن ۶۶ ؍کے مطابق، اگر کسی تنظیم کے ذریعہ کوئی جرم سرزد ہوتا ہے، تو اس تنظیم کے انچارج یا پرنسپل کو قصوروار ٹھہرایا جاتا ہے۔ نتیجہ میں غذائی سمیت (فوڈ پوائزننگ) کی صورت میں یا اگر غذا غیر معیاری پائی جاتی ہے، تو پولیس اور فوڈ سیفٹی آفیسر براہ راست پرنسپل پر مقدمہ درج کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ریاست میں تنہا خواتین کی فلاح وبہبود کیلئے نئی اسکیم، جلد اپنا نام درج کروائیں

حکومت کی طرف سے فراہم کردہ سامان کا دفاع عدالت میں برقرار رکھنا مشکل ہے، کیونکہ لائسنس پرنسپل کے نام پر ہے۔ ایف ایس ایس اے آئی ایکٹ میں فوڈ سیفٹی کی خلاف ورزیوں کیلئے بہت سخت دفعات ہیں۔ بچوں کو غذائی سمیت کی شکایت ہونے پر ۱۰؍ لاکھ روپے تک بھی جرمانہ ہے اور ۷؍ سال سے عمر قید تک کی سزا ہے۔ ٹیچرس ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ٹھیکیداروں کے ذریعے اناج تقسیم کیا جاتا ہے۔ ٹھیکیدار یہ کہہ کر معاہدہ واپس لے رہے ہیں کہ سخت ضابطوں اور معیاری اناج کی فراہمی کی وجہ سے یہ کام منافع بخش نہیں رہا۔ انتظامیہ نے زبانی حکم دیا اور پرنسپل سے کہا کہ وہ مقامی طور پر اناج خریدیں۔ اب پرنسپل بازار سے اناج خریدے گا لیکن اس میں کوئی نقص نکل آیا تو سزا بھی وہی بھگتے گا یہ اساتذہ کے ساتھ زیادتی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK