بڑھتی مہنگائی اور روپے کی گھٹتی قدر کے سبب الیکٹرانک مصنوعات سازی کا شعبہ بھی متاثر ہورہا ہے ۔ ایسے میں الیکٹرانک اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔یعنی صارفین کی جیب پر اب مزید بوجھ بڑھنے والا ہے۔
الیکٹرونک کی دکان۔ تصویر:آئی این این
بڑھتی مہنگائی اور روپے کی گھٹتی قدر کے سبب الیکٹرانک مصنوعات سازی کا شعبہ بھی متاثر ہورہا ہے ۔ ایسے میں الیکٹرانک اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔یعنی صارفین کی جیب پر اب مزید بوجھ بڑھنے والا ہے۔ اس حوالے سے اکنامک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق الیکٹرانک کمپنیاں جلد ہی اپنی مصنوعات کی قیمتیں ۶؍سے ۱۰؍فیصد تک بڑھائیں گی۔ کمپنیوں کا کہنا ہے کہ چپس ، ریم اور دیگر پرزوں کی قیمتوں میں ہونیوالے مسلسل اضافے، بڑھتی ہوئی لاگت اور روپے کی کمزوری کے باعث قیمتیں بڑھانا مجبوری بن گیا ہے۔
قیمتیں کتنی بڑھ سکتی ہیں؟
انٹری لیول یعنی سستے اسمارٹ فون اور ٹی وی کی قیمتیں اب۶؍ سے۸؍ سال پرانے لیول تک پہنچ رہی ہیں۔ پہلے جو فائیو جی اسمارٹ فون۱۰؍ہزار روپے سے کم میں مل جاتے تھے، اب ان کی قیمت۱۳؍ہزار روپے سے ۱۴؍ہزار روپے تک ہو گئی ہے۔ آئندہ چند مہینوں میں یہ قیمت۱۷؍ہزار سے۱۸؍ہزار روپے تک جا سکتی ہے، جبکہ کچھ برانڈز کے مطابق یہ۲۰؍ہزار روپے تک بھی پہنچ سکتی ہے۔ اسی طرح۳۲؍ انچ اسمارٹ ٹی وی، جو پہلے ۶؍ہزار ۵۰۰؍ روپے میں ملتا تھا، اب۸؍ہزار ۵۰۰؍ روپے کا ہو گیا ہے اور مئی تک اس کی قیمت۱۰؍ہزار روپے تک جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ گھریلو آلات بھی مہنگے ہوں گے۔۱ء۵؍ ٹن کا تھری اسٹار اے سی اب ۳۷؍ ہزار سے ۴۰؍ ہزار روپے تک پہنچ سکتا ہے۔ اسی طرح فریج اور واشنگ مشین کی قیمتوں میں بھی اضافہ متوقع ہے۔
الیکٹرانک سامان کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
عام طور پریہ دیکھا جاتا ہے کہ ٹیکنالوجی مصنوعات کی قیمت وقت کے ساتھ کم ہوتی ہے، لیکن اس بار صورتحال مختلف ہے۔ اس کے پیچھے کئی وجوہات ہیں:
میموری چِپس کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ
بین الاقوامی حالات (جیسے جنگ) کے باعث لاگت میں اضافہ
ہندوستانی روپے کی کمزوری
موبائل مارکیٹ سے وابستہ ذرائع کے مطابق، بڑی کمپنیاں جیسے اوپو، وویو،سیمسنگ اور شاؤمی اپنے کچھ اسمارٹ فون ماڈلز پر تقریباً۱۰؍ فیصد تک قیمت بڑھانے کی تیاری کر رہی ہیں۔ کچھ نئے ماڈلز، جن کی خصوصیات پرانے جیسے ہی ہیں، ان کی قیمتوں میں۳۶؍ فیصد سے زیادہ اضافہ کیا گیا ہے۔