Inquilab Logo Happiest Places to Work

اے آئی پر انسانی کنٹرول ختم ہونے کا اندیشہ، پیش رفت روکنے کی اپیل

Updated: June 08, 2026, 1:03 PM IST | San Francisco

سان فرانسسکو میں قائم مصنوعی ذہانت کی سب سے بڑی کمپنی ’’انتھروپک ‘‘نے عالمی برادری کو متنبہ کیاکہ اے آئی کے جدید ماڈلس کی صلاحیتیں تیزی سے بہتر ہو رہی ہیں اور وہ ’’اپنی اصلاح خود کرنے‘‘ کےمرحلے تک پہنچ سکتی ہیں جس کے بعد یہ نظام انسانی مداخلت کے بغیر اپنے سے بہتر زیادہ جدید اور طاقتور نیکسٹ جنریشن ماڈلس تیار کرنے کے قابل ہو جائےگا۔

Anthropic also opened its first office in India in February this year. Photo: INN
انتھروپک نے اسی سال فروری میں  ہندوستان میں  بھی اپنا پہلا دفترکھولا ہے۔ تصویر: آئی این این

مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے ابھرتی ہوئی امریکی کمپنی ’انتھروپک‘ نے جدید اور انتہائی طاقتور اے آئی نظاموں کی ترقی کو عارضی طور پر روکنے کیلئے عالمی سطح پر مربوط اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ کمپنی نے خبردار کیا ہے کہ اگر مصنوعی ذہانت کی موجودہ رفتار برقرار رہی تو مستقبل میں ایسے نظام وجود میں آ سکتے ہیں جو خود کو مزید طاقتور بنانے کی صلاحیت حاصل کر لیں اور انسانی کنٹرول سے باہر ہو جائیں۔ ’کلاؤڈ‘ نامی اے آئی ماڈلز تیار کرنے والی اس کمپنی نے جمعرات کو شائع ہونے والے ایک تحقیقی مقالے میں کہا ہے کہ دنیا کو اس قابل ہونا چاہیے کہ ضرورت پڑنے پر جدید ترین اے آئی نظاموں کی ترقی کو سست یا عارضی طور پر روک سکے تاکہ معاشرتی ادارے، قوانین اور حفاظتی تحقیق اس تیز رفتار ٹیکنالوجی کے ساتھ ہم آہنگ ہو سکیں۔ انتھروپک نے کہا ہے کہ ’’ہم سمجھتے ہیں کہ دنیا کیلئے یہ بہتر ہوگاکہ اس کے پاس جدید ترین مصنوعی ذہانت کی ترقی کو سست یا عارضی طور پر روکنے کا اختیار موجود ہو۔ ‘‘
کمپنی نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر صرف ایک یا چند کمپنیاں اپنی سرگرمیاں روک دیں تو ان کے حریف تیزی سے آگے نکل جائیں گے، اس لیے کسی بھی وقفے کو مؤثر بنانے کیلئے عالمی سطح پر اشتراک اور نگرانی کی ضرورت ہوگی۔ انتھروپک کے مطابق اس کیلئے امریکہ، چین اور دیگر ممالک کی بڑی اے آئی کمپنیاں اور حکومتیں ایک ایسے قابل تصدیق نظام پر متفق ہوں، جس کے تحت تمام فریق ایک ہی وقت میں ترقی کی رفتار کو محدود کریں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ عالمی ہم آہنگی کے بغیر حکومتوں اور کمپنیوں کو مسابقتی اور جغرافیائی سیاسی دباؤ کے تحت حفاظتی فیصلے کرنے پڑے توخطرات بڑھ سکتے ہیں۔ کمپنی کی تشویش کی ایک اہم وجہ ’مصنوعی ذہانت ‘‘ کے نظام میں  وہ تصور ہے جسے’’ریکرسیو سیلف امپروومنٹ‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس سے مراد ایسے مصنوعی ذہانت کے نظام ہیں جو انسانی مداخلت کے بغیر خود اپنی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنا سکیں۔ انتھروپک کا کہنا ہے کہ اگرچہ ایسا مرحلہ ابھی نہیں آیا لیکن یہ ممکن ہے کہ یہ پیش رفت حکومتوں اور اداروں کی تیاری سے کہیں پہلے سامنے آ جائے۔ کمپنی کے مطابق خودمختار انداز میں مختلف کام انجام دینے کی اے آئی نظاموں کی صلاحیت تقریباً ہر ۴؍ ماہ میں دوگنی ہو رہی ہے۔ اس نے خبردار کیا کہ یہ ٹیکنالوجی ایک ایسے مرحلے کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں یہ انسانی مدد کے بغیر خود کو مزید بہتر بنانے کی صلاحیت حاصل کر سکتی ہے۔ کمپنی نے کہاکہ’’اگر یہ نظام اپنے سے زیادہ جدید اگلی نسل کے ماڈلز تیار کرنے کی مکمل صلاحیت حاصل کر لیتے ہیں، تو ان کی حفاظت، نگرانی اور ان کے رویے کو منظم کرنے کے طریقوں کی اہمیت کہیں زیادہ بڑھ جائے گی۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: اے آئی تجارت میں سست روی کےآثار

انتھروپک نے انکشاف کیا ہے کہ اس کا اے آئی ماڈل کلاؤڈ اب کمپنی کے بنیادی سافٹ ویئر میں شامل کئے جانے والے۸۰؍ فیصد سے زیادہ کوڈ خود تحریر کر لیتا ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ رجحان اس بات کا اشارہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کی صلاحیتیں غیر معمولی رفتار سے ترقی کر رہی ہیں، جس کے باعث حفاظتی اقدامات پر سنجیدگی سے غور کرنا ضروری ہو گیا ہے۔ 
تاہم انتھروپک کی اس تجویز کو ٹیکنالوجی کی دنیا میں متفقہ حمایت حاصل نہیں ہوئی۔ متعدد ماہرین اور صنعت سے وابستہ شخصیات نے انتھروپک پر الزام لگایا ہے کہ وہ حفاظتی خدشات کی آڑ میں اپنے حریفوں کی رفتار کم کرنا چاہتی ہے۔ بعض ناقدین کے مطابق کمپنی کی جانب سے خطرات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے تاکہ ضابطہ سازی کے عمل کو اپنے حق میں استعمال کیا جا سکے۔ 
اس کے باوجود کئی ماہرین کا خیال ہے کہ مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی کے پیش نظر حفاظتی اقدامات اور عالمی سطح پر نگرانی کے نظام پر بحث ناگزیر ہو چکی ہے۔ سابق امریکی سینیٹر مِٹ رومنی سمیت بعض شخصیات نے بھی اے آئی کے خطرات کے پیش نظر مضبوط حفاظتی فریم ورک کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ 
کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ مہینوں میں وہ پالیسی سازوں، سائنس دانوں اور دیگر ماہرین کے ساتھ مشاورت کا سلسلہ شروع کرے گی، تاکہ مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والے خطرات سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر مؤثر حکمت عملی وضع کی جا سکے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK