Inquilab Logo Happiest Places to Work

نجی اسپتالوں میں فیس چارٹ لگانا لازمی

Updated: June 28, 2026, 12:00 PM IST | Iqbal Ansari | Mumbai

وزیر صحت کا اعلان، کہا : ممبئی کے سبھی اسپتالوں میں جانچ مہم چلائی جائے گی اور یہ بھی چیک کیا جائے گا کہ علاج کی فیس زیادہ تو نہیں لی جا رہی۔

Health Minister Prakash Abitkar. Photo: INN
وزیر صحت پرکاش ابیٹکر۔ تصویر: آئی این این

نجی اسپتالوں میں من مانی کرتے ہوئے علاج کی فیس وصول کرنےاور مریضوں کو لوٹنے کا معاملہ مانسون اجلاس میں بھی گونجا۔ متعدد اراکین اسمبلی نے شکایت کی کہ حکومت کو غریب مریضوں کی لوٹ مار کو روکنے کیلئے ضروری کارروائی کرنی چاہئے۔ اراکین اسمبلی کی سوالوں کا جواب دیتے ہوئے ریاستی وزیر صحت پرکاش ابیٹکر نے اعلان کیا ہے کہ سبھی اسپتالوں کو ریٹ چارٹ لگانا لازمی ہے اور اس کو یقین بنانے کیلئے ممبئی میں ایک ماہ کی خصوصی مہم چلائے جائے گی۔ اس مہم کے دوران یہ بھی معلوم کیا جائے گا کہ اسپتال میں بامبے نرسنگ ہوم رجسٹریشن ایکٹ کے مطابق فیس لی جارہی یا من مانی فیس وصول کی جارہی ہے۔ وزیر صحت نے خلاف ورزی کرنے والے اسپتالوں کےخلاف کارروائی کرنے کا بھی انتباہ دیاہے۔ 
واضح رہے کہ جمعرات کورکن اسمبلی پابو صاحب پٹارے (وڈ گاؤں شیری اسمبلی حلقہ ) نے توجہ طلب نوٹس کے ذریعے ایوان اسمبلی میں سوال اٹھایاتھاکہ جو بچے ۹؍ماہ سے قبل پیدا ہوتے ہیں، انہیں این آئی سی یو میں رکھنا پڑتا ہے اور سرکاری اسپتالوں میں مذکورہ بیڈ نہیں مل پاتا جس کے سبب بچوں کو پرائیویٹ اسپتالوں کے این آئی سی میں رکھنا پڑتا ہےجہاں علاج کے بہانے سرپرستوں کو لوٹ لیاجاتا ہے۔ غریب عوام کی اس لوٹ مار پر قدغن لگانے کی ضرورت ہے۔ 
ایک بھی اسپتال میں ریٹ چارٹ بورڈ نہیں 
بحث میں حصہ لیتے ہوئے ممبئی کے اراکین اسمبلی ڈاکٹر جیوتی ایکناتھ گائیکواڑ(دھاراوی)، مرجی(کاکا)  پٹیل(اندھیری ایسٹ) اور منیشا چودھری (دہیسر)نے شکایت کی کہ ممبئی کے کسی بھی پرائیویٹ اسپتال میں ریٹ چارٹ نہیں لگایاگیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ ہے کہ محکمہ صحت کے فلائنگ اسکاڈ کے ذریعے اسپتالوں کی جانچ کی جائے۔ اس کے علاوہ ممبئی میں میونسپل اسپتالوں میں این آئی سی خالی نہیں ہوتے سائن جیسے اسپتال میں بھی بیڈ نہیں ملتا اور مجبوراً غریب شہریوں کو این آئی سی کیلئے پرائیویٹ اسپتال جاناپڑتا ہے۔ پرائیویٹ اسپتال ۱۵؍ تا ۳۵؍لاکھ روپے کا بل بنادیتے ہیں جس کی ادائیگی کیلئے بچے کے سرپرستوں کو گھر بار بیچنا پڑا ہے۔ ان اراکین نے مطالبہ کیاکہ ممبئی میں این آئی سی یوکی تعداد بڑھائی جائے اور ریزرو پلاٹ پرماں بچوں کے علاج کا خصوصی اسپتال تعمیر کیاجائے۔ 
پینل والے اسپتالوں میں علاج کرائیں 
اراکین اسمبلی کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے وزیر صحت پرکاش ابیٹکر نے کہا کہ ’’غریب عوام کو علاج کی مفت سہولت میسر ہو سکے اس کیلئے مہاتما جیوتی راؤ پھلے جن آروگیہ یوجنا ( ایم جے پی جے وائی) اور آیوشمان بھارت پردھان منتری جَن آروگیہ یوجنا (اے بی پی ایم۔ جےاے وائی) اسکیم نافذ کی گئی ہے۔ کئی پرائیویٹ اسپتالو ں میں یہ اسکیم لاگو کی گئی ہے، اگر مریض ان اسکیموں کے پینل کے اسپتال میں اپنا علاج کراتے ہیں تو حکومت کی ایسی کوشش ہے کہ انہیں ایک روپیہ بھی ادا نہیں کرنا پڑےگا۔ اسلئے عوامی نمائندوں سے بھی درخواست ہے کہ وہ مریضوں کو پینل والے اسپتال میں داخل ہونے کا مشورہ دے۔ انہوں نےیقین دلایاکہ ممبئی اور مضافات میں بچوں کا اسپتال شروع کرنے کیلئے بی ایم سی کو ہدایت دی جائے گی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK