Inquilab Logo Happiest Places to Work

فیفا: مصر کی کامیابی پر غزہ سے قاہرہ تک جشن، کوچ نے فلسطینی پرچم لہرا کر فتح فلسطینی عوام کے نام کی

Updated: July 04, 2026, 6:04 PM IST | Dales

فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء میں مصر نے آسٹریلیا کو پنالٹی شوٹ آؤٹ میں شکست دے کر تاریخ میں پہلی مرتبہ پری کوارٹر فائنل (راؤنڈ آف ۱۶) میں جگہ بنالی تو مصر ہی نہیں بلکہ غزہ میں بھی خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ دیر البلح سمیت مختلف علاقوں میں فلسطینیوں نے جشن منایا، جبکہ فتح کے بعد مصری کوچ حسام حسن نے اسٹیڈیم میں فلسطینی پرچم لہرا کر کامیابی فلسطینی عوام کے نام کردی۔ ان کا کہنا تھا، ’’میرا دل اور روح فلسطینی عوام کے ساتھ ہیں۔‘‘

Egypt`s head coach waving the Palestinian flag after the victory. Photo: X
مصر کے ہیڈ کوچ فتح کے بعد فلسطین کا پرچم لہراتے ہوئے۔ تصویر: ایکس

فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء میں مصر نے تاریخ رقم کرتے ہوئے آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں ۲۔۴؍ سے شکست دے کر پہلی مرتبہ راؤنڈ آف ۱۶؍ میں جگہ بنا لی۔ اس تاریخی کامیابی پر پورے مصر میں جشن کا ماحول دیکھنے میں آیا، جبکہ غزہ پٹی میں بھی فلسطینیوں نے مصری ٹیم کی فتح کو اپنی خوشی قرار دیتے ہوئے سڑکوں پر آکر جشن منایا۔ غزہ کے شہر دیر البلح میں نوجوانوں اور بچوں نے مصر کی کامیابی پر مٹھائیاں تقسیم کیں، گاڑیوں کے ہارن بجائے اور فلسطینی اور مصری پرچم لہراتے ہوئے خوشی کا اظہار کیا۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جنگ کے سائے میں زندگی گزارنے والے فلسطینی بھی مصر کی کامیابی پر خوشی سے جھومتے نظر آئے۔ کئی صارفین نے لکھا کہ یہ صرف مصر کی فتح نہیں بلکہ پورے عرب خطے کے لیے ایک تاریخی لمحہ ہے۔ 

امریکہ کے شہر ڈیلس میں کھیلے گئے ناک آؤٹ مرحلے کے اس مقابلے میں مقررہ اور اضافی وقت ایک، ایک گول سے برابر رہا۔ آسٹریلیا نے ابتدا میں کئی خطرناک حملے کیے، جن میں کرسٹین وولپاٹو کی ایک شاٹ کراس بار سے ٹکرا گئی جبکہ ایک اور موقع پر مصری دفاع نے یقینی گول بچا لیا۔ تاہم پنالٹی شوٹ آؤٹ میں مصر کے تمام کھلاڑیوں نے اعصاب پر قابو رکھتے ہوئے اپنے پنالٹی ککس کامیابی سے گول میں تبدیل کیے، جبکہ آسٹریلیا دو مواقع سے فائدہ نہ اٹھا سکا اور مصر نے ۲۔۴؍ سے کامیابی حاصل کرلی۔ یہ ورلڈ کپ کی ناک آؤٹ مرحلے میں مصر کی پہلی فتح بھی ہے۔ 

فتح کے بعد اسٹیڈیم میں سب سے زیادہ توجہ مصر کے ہیڈ کوچ حسام حسن نے حاصل کی۔ آخری سیٹی بجتے ہی انہوں نے فلسطینی پرچم اٹھا کر میدان کا چکر لگایا اور بعد ازاں میڈیا سے گفتگو میں کامیابی فلسطینی عوام کے نام کردی۔ انہوں نے کہا کہ ’’میرا دل اور روح فلسطینی عوام کے ساتھ ہیں۔ اللہ ان کے شہداء پر رحم فرمائے۔ میں یہ فتح مصری عوام اور اچھے اور باوقار فلسطینی عوام کے نام کرتا ہوں۔‘‘ ان کے اس اقدام کی تصاویر اور ویڈیوز چند ہی منٹوں میں دنیا بھر میں وائرل ہوگئیں۔ حسام حسن نے پنالٹی شوٹ آؤٹ سے قبل کھلاڑیوں کو دی گئی ہدایات کا بھی انکشاف کیا۔ ان کے مطابق انہوں نے کھلاڑیوں سے کہا کہ دباؤ کو ذہن سے نکال دیں، صرف اپنی کک پر توجہ دیں اور ماحول یا گول کیپر کے بارے میں نہ سوچیں۔ کوچ کا کہنا تھا کہ اسی ذہنی تیاری نے مصر کو تاریخ ساز کامیابی دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ 

مصر کی اس تاریخی جیت کے بعد سوشل میڈیا پر مصر، فسلطین، حسام حسن اور فیفا ورلڈ کپ جیسے ہیش ٹیگز ٹرینڈ کرنے لگے۔ عرب دنیا کے ہزاروں صارفین نے کوچ حسام حسن کے فلسطینی پرچم لہرانے کو ’’انسانی یکجہتی‘‘ اور ’’کھیل سے بڑھ کر ایک پیغام‘‘ قرار دیا۔ ایک صارف نے لکھا، ’’آج مصر نے صرف میچ نہیں جیتا، پورے عرب دل جیت لیے۔‘‘ ایک اور تبصرے میں کہا گیا، ’’غزہ میں جشن اس بات کا ثبوت ہے کہ فٹ بال سرحدوں سے بڑا جذبہ ہے۔‘‘ متعدد صارفین نے فلسطینی بچوں کی مصر کی فتح پر خوشیاں منانے والی ویڈیوز شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ جنگ کے درمیان بھی کھیل امید کی کرن بن سکتا ہے۔ البتہ کوچ کے فلسطینی پرچم لہرانے پر کچھ حلقوں میں فیفا کے سیاسی اظہار سے متعلق ضابطوں پر بھی بحث شروع ہوگئی۔ بعض بین الاقوامی مبصرین نے سوال اٹھایا کہ آیا اس اقدام پر فیفا کوئی کارروائی کرے گا، تاہم تاحال عالمی فٹبال تنظیم کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔ 

یہ کامیابی مصر کے لیے کئی حوالوں سے تاریخی ہے۔ ٹیم پہلی مرتبہ گروپ مرحلے سے آگے نکلی اور پھر ناک آؤٹ مرحلے میں بھی پہلی فتح حاصل کرتے ہوئے راؤنڈ آف ۱۶؍ تک پہنچ گئی۔ اس کے ساتھ ہی مصر مراکش کے بعد ٹورنامنٹ کے پری کوارٹر فائنل میں پہنچنے والا دوسرا عرب اور دوسرا افریقی ملک بھی بن گیا۔ اب مصر کا اگلا مقابلہ دفاعی چیمپئن ارجنٹائنا سے ہوگا، جس پر پوری عرب دنیا کی نظریں مرکوز ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK