حال ہی میں پیش کی گئی نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کی رپورٹ کےمطابق معاشی دھوکہ دہی کے معاملے میں ممبئی اول ہے جبکہ مہاراشٹر تمام ریاستوں میں تیسرے نمبر پر ہے
EPAPER
Updated: October 03, 2025, 10:21 PM IST | Mumbai
حال ہی میں پیش کی گئی نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کی رپورٹ کےمطابق معاشی دھوکہ دہی کے معاملے میں ممبئی اول ہے جبکہ مہاراشٹر تمام ریاستوں میں تیسرے نمبر پر ہے
عروس البلاد کہلانے والے ممبئی شہر کو ملک کی معاشی راجدھانی بھی کہا جاتا ہے لیکن یہی معاشی راجدھانی معاشی دھوکہ دہی کے معاملے میں بھی اول ہے۔ اس کا انکشاف نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو ( این سی آر بی) کی جانب سے جاری حالیہ رپورٹ میں کیاگیا ہے۔ جبکہ مہاراشٹر ملک بھر کی تمام ریاستوں میں اس تعلق سے تیسرے نمبر پر ہے۔ یاد رہے کہ این سی آر بی نے اس سال ۲۰۲۳ء کی تفصیلات پیش کی ہیں۔ یاد رہے کہ یہ رپورٹ ملک بھر کے پولیس اسٹیشنوں یا تفتیشی ایجنسیوں کے پاس درج جرائم کے معاملے کی بنا پر تیار کی جاتی ہے۔
اطلاع کے مطابق ۲۰۲۳ء میں ممبئی شہر میں معاشی دھوکہ دہی کے ۶؍ ہزار ۴۷۶؍ معاملات درج کئے گئے ہیں جو کہ ملک میں کسی بھی شہر کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہیں۔ اس کے بعد حید ر آباد کا نمبر ہے جہاں ۵؍ ہزار ۷۲۸؍ معاملات درج کئے گئے ہیں۔ اس کے بعد راجستھان کے جے پور کا نمبر آتا ہے جہاں ۵؍ ہزار ۳۰۴؍ معاملات درج کئے گئے ہیں۔ ممبئی اس کے باوجود معاشی دھوکہ دہی کے معاملے میں اول ہے کہ یہاں ۲۰۲۲ء کے مقابلے ۲۰۲۳ء میں جرائم کے معاملات میں کمی آئی ہے۔ ۲۰۲۱ء میں ممبئی میں معاشی دھوکہ دہی کے ۵؍ ہزار ۶۷۱؍ معاملات درج کئے گئے تھے جبکہ ۲۰۲۲ء میں ۶؍ ہزار ۹۶۰؍ معاملات درج کئے گئے تھے۔ یعنی ۲۰۲۲ء کے مقابلے میں یہاں ۴۸۴؍ معاملات کم ہوئے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ۳۷ء۹؍ معاملات میں پولیس نے عدالت میں چارج شیٹ داخل کی ہے ۔
مہاراشٹر میں معاشی جرائم کے واقعات میں اضافہ
تشویشناک بات یہ ہے کہ مہاراشٹر میں گزشتہ چند سال کے دوران معاشی جرائم کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ ۲۰۲۱ء کے دوران ریاست میں معاشی جرائم کے ۱۵؍ ہزار ۵۵۰؍ معاملات درج کئے گئے تھے۔ جبکہ ۲۰۲۲ء میں یہ تعداد بڑھ کر ۱۸؍ ہزار ۷۲۹؍ ہو گئی۔ جبکہ ۲۰۲۳ء میں جرائم مزید اضافہ ہوا۔ اس سال ۱۹؍ ہزار ۸۰۳؍ معاملات درج کئے گئے۔ اعداد وشمار کے مطابق یہ کہا جا سکتا ہے کہ مہاراشٹر بھر میں ہونے والے معاشی دھوکہ دہی کے معاملات میں سے ایک تہائی معاملات ممبئی میں پیش آتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ۲۷؍ ہزار ۶۷۵؍ معاملات کے ساتھ راجستھان معاشی دھوکہ دہی کے معاملے میں ملک بھر میں اول ہے جبکہ تلنگانہ دوسرے نمبر پر ہے جہاں ۲۶؍ ہزار ۳۲۱؍ معاملات درج کئے گئے ہیں۔
ریاست گیر سطح پر مہاراشٹر میں ہونے والی وارداتوں میں سے ۵۴ء۹؍ معاملات میں پولیس نے عدالت میں چارج شیٹ پیش کی ہے۔ یاد رہے کہ چارج شیٹ پیش کرنے کی اپنی اہمیت ہے جس کا مطلب ہوتا ہے کہ پولیس کے پاس ملزمین کے خلاف پختہ ثبوت موجود ہے۔
معاشی دھوکہ دہی کے معاملات میں زیادہ تر بینکوں میں ہونے والے گھوٹالے، آن لائن طریقے ہونے والی دھوکہ دہی ، جعلی کمپنیاں بنا کر سرمایہ کاروں کے ساتھ فریب جیسے واقعات شامل ہوتے ہیں۔ گزشتہ کچھ سال میں یو پی آئی کے استعمال اور ڈیجیٹل ادائیگی میں اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے معاشی دھوکہ دہی کیلئے اور بھی نئی نئی راہیں کھل گئی ہیں۔ چونکہ ممبئی ملک کی معاشی راجدھانی ہے اس لئے یہاں عام طور پر شیئر مارکیٹ سے لے کر فائنانس کمپنیوں تک الگ الگ طریقے کے کاروبار ہوتے ہیں جس میں سرمایہ کاروں کے ساتھ دھوکہ دہی کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔
این سی آر بی کی رپورٹ
این سی آر بی ہر سال ملک بھر کے تمام پولیس اسٹیشنوں اور تفتیشی ایجنسیوں سے اعداد شمار جمع کرکے مختلف جرائم کے تعلق سے رپورٹ تیار کرتی ہے اس میں چوری ڈکیتی سے لے کر عصمت دری اور جنسی ہراسانی تک کے معاملات شامل ہوتے ہیں۔ قتل اور اقدام قتل کے معاملات الگ سے درج کئے جاتے ہیں۔ حال ہی میں این سی آر بی نے ۲۰۲۳ء کی رپورٹ پیش کی ہے۔ اس رپورٹ کی بنیاد پر عام طور پر وزارت داخلہ اور تفتیشی ایجنسیاں جرائم پر قابو پانے کیلئے نئے اقدامات کرتے ہیں۔ ان دنوں ملک بھر میں معاشی دھوکہ دہی ایک عام بات ہو گئی ہے جس پر تفتیشی ایجنسیوں کا بھی قابو نہیں ہے۔