Updated: May 26, 2026, 4:04 PM IST
| New delhi
نیوز براڈ کاسٹنگ اینڈ ڈجیٹل اسٹینڈرڈرس اتھاریٹی (این بی ڈی ایس اے) نے این ڈی ٹی وی کو دسمبر ۲۰۲۴ء کی ایک نشریات میں ’’تھوک جہاد‘‘ کی اصطلاح استعمال کرنے پر متنبہ کیا ہے۔ ریگولیٹر نے کہا کہ لفظ ’’جہاد‘‘ کا استعمال فرقہ وارانہ مفہوم رکھتا ہے اور بغیر ثبوت کسی واقعے کو وسیع مذہبی بیانیے سے جوڑنا نشریاتی ضابطوں کی خلاف ورزی ہے۔
این ڈی ٹی وی۔ تصویر: آئی این این
این بی ڈی ایس اےنے این ڈی ٹی وی کو ایک نشریات میں ’’تھوک جہاد‘‘ کی اصطلاح استعمال کرنے پر احتیاطی انتباہ جاری کیا ہے۔ یہ معاملہ دسمبر ۲۰۲۴ء کی ایک رپورٹ سے متعلق تھا، جس میں میرٹھ کے ایک مبینہ واقعے کا ذکر کیا گیا تھا جہاں ایک شخص پر کھانا بناتے وقت روٹیوں پر تھوکنے کا الزام لگایا گیا تھا۔ چینل کے خلاف شکایت ایڈوکیٹ اتکرش مشرا نے دائر کی تھی۔ شکایت میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ این ڈی ٹی وی نے ایک انفرادی واقعے کو ’’تھوک جہاد‘‘ جیسی اصطلاح سے جوڑ کر اسے فرقہ وارانہ رنگ دیا اور یہ تاثر پیش کیا کہ اس نوعیت کے واقعات کسی منظم مہم کا حصہ ہیں۔
یہ بھی پڑھئے : آگ لگا دی پیٹرول، ڈیزل کے دام نے
شکایت گزار نے دلیل دی کہ ’’جہاد‘‘ جیسی اصطلاحات کا استعمال نشریاتی رہنما اصولوں کی خلاف ورزی ہے، جن کا مقصد جرائم کو فرقہ وارانہ رنگ دینے اور نفرت انگیز تقاریر کو روکنا ہے۔ انہوں نے یہ بھی اعتراض کیا کہ رپورٹ میں ملزم کا انٹرویو اس انداز میں نشر کیا گیا جو پولیس تفتیش سے مشابہ تھا اور ناظرین کو واقعات کا نامکمل اور یکطرفہ ورژن دکھایا گیا۔ اپنے دفاع میں این ڈی ٹی وی نے کہا کہ اس کی رپورٹ صحت عامہ اور سماجی رویوں سے متعلق خدشات پر مبنی تھی اور اس میں عوامی سطح پر پہلے سے گردش کرنے والے مواد کا حوالہ دیا گیا تھا۔ چینل نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ ’’تھوک جہاد‘‘ کی اصطلاح اس وقت کی عوامی گفتگو کا حصہ بن چکی تھی اور اس کا مقصد کسی مخصوص مذہبی برادری کو نشانہ بنانا نہیں تھا۔
چینل نے ریگولیٹر کو یہ بھی بتایا کہ متنازعہ مواد کو رضاکارانہ طور پر ہٹا دیا گیا ہے۔ تاہم، ۱۹؍ مئی کو جاری اپنے فیصلے میں این بی ڈی ایس اے کے چیئرپرسن اے کے سکری نے این ڈی ٹی وی کی دلیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’’جہاد‘‘ کی اصطلاح بذات خود فرقہ وارانہ مضمرات رکھتی ہے، چاہے کسی کمیونٹی کا براہ راست نام لیا گیا ہو یا نہیں۔ اتھاریٹی نے کہا کہ اگرچہ مبینہ واقعہ خبر کے قابل تھا، لیکن اسے ’’تھوک جہاد‘‘ جیسے وسیع بیانیے سے جوڑنا غیر منصفانہ عمومی تاثر پیدا کرتا ہے اور مذہبی دقیانوسی تصورات کو فروغ دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے : ایران امریکہ جنگ کے خاتمے کے بعد ہندوستان بڑی مالی طاقت بنے گا: فرنویس کا دعویٰ
چونکہ این ڈی ٹی وی پہلے ہی متنازع نشریات کو ہٹا چکا تھا، اس لیے این بی ڈی ایس اے نے مالی جرمانہ عائد نہیں کیا بلکہ چینل کو آئندہ ایسی اصطلاحات اور عمومی بیانیوں سے گریز کرنے کی ہدایت دی۔ رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ ’’لو جہاد‘‘، ’’فوڈ جہاد‘‘، ’’لینڈ جہاد‘‘، ’’مہندی جہاد‘‘ اور ’’تھوک جہاد‘‘ جیسی اصطلاحات حالیہ برسوں میں بعض ٹی وی چینلز اور مباحثوں میں بار بار استعمال کی جاتی رہی ہیں، جن پر ناقدین نے مسلمانوں کے خلاف منفی تصورات پھیلانے کا الزام عائد کیا ہے۔ میڈیا مبصرین کے مطابق، اس قسم کی اصطلاحات اکثر بغیر کسی مصدقہ ثبوت کے استعمال کی جاتی ہیں، جس سے انفرادی جرائم کو پوری مذہبی برادری سے جوڑنے کا تاثر پیدا ہوتا ہے اور فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے : غیر ملکی دوروں پر مودی کا میڈیا سے گریز، ایڈیٹرز گلڈ نے ’’شرمناک‘‘ قرار دیا
یاد رہے کہ این بی ڈی ایس اےنے ۲۰۲۳ء سے ۲۰۲۶ء کے درمیان متعدد ٹی وی چینلز کے خلاف کارروائیاں کی ہیں۔ ان میں زی نیوز، ٹائمز ناؤ، نوبھارت ناؤ اور انڈیا نیوز ۱۸؍ شامل ہیں، جن پر فرقہ وارانہ ہم آہنگی، درستگی اور نفرت انگیز مواد سے متعلق ضابطوں کی خلاف ورزی کے الزامات لگے تھے۔ فروری ۲۰۲۶ء میں این بی ڈی ایس اے نے زی نیوز پر ایک لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا تھا، کیونکہ چینل نے مارچ ۲۰۲۵ء کے ایک پروگرام میں جموں سری نگر قومی شاہراہ پر ٹریفک جام کو ایک ٹرک ڈرائیور کی نماز سے جوڑ کر نشر کیا تھا۔