Updated: May 26, 2026, 3:59 PM IST
| Islamabad
’سماء ٹی وی‘ سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کو کسی ایسے معاہدے کی حمایت نہیں کرنی چاہئے جو ملک کے ”بنیادی نظریات“ سے متصادم ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ اپنی ذاتی حیثیت میں بات کر رہے ہیں۔ ان کا بیان، ٹرمپ کے تبصروں کے بعد کسی پاکستانی وزیر کی طرف سے پہلا عوامی ردِعمل ہے۔
پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف۔ تصویر: ایکس
پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے اسلام آباد کے معاہدہ ابراہیم میں شامل ہونے کے امکانات مسترد کردیا ہے۔ آصف کا بیان، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے بیان کے بعد سامنے آیا جس میں صدر نے مسلم ممالک پر اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کیلئے زور دیا تھا۔
پاکستانی نیوز چینل ’سماء ٹی وی‘ (Samaa TV) سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کو کسی ایسے معاہدے کی حمایت نہیں کرنی چاہئے جو ملک کے ”بنیادی نظریات“ سے متصادم ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ اپنی ذاتی حیثیت میں بات کر رہے ہیں۔ ان کا بیان، ٹرمپ کے تبصروں کے بعد کسی پاکستانی وزیر کی طرف سے پہلا عوامی ردِعمل ہیں۔
انٹرویو کے دوران خواجہ آصف نے کہا کہ ”ذاتی طور پر، میں نہیں سمجھتا کہ ہمیں کسی ایسے معاہدے میں شامل ہونا چاہئے جو ہمارے بنیادی نظریات سے ٹکراتا ہو۔“ اسرائیل کے ساتھ رابطے کی ساکھ پر سوال اٹھاتے ہوئے پاکستانی وزیرِ دفاع نے مزید کہا کہ ”آپ ان لوگوں کے ساتھ کیسے بیٹھ سکتے ہیں جن کی بات پر ایک دن کیلئے بھی بھروسہ نہیں کیا جا سکتا؟“
خواجہ آصف نے اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کے پاکستان کے دیرینہ فیصلے کا اعادہ کیا اور کہا کہ اس مسئلے پر اسلام آباد کا مؤقف تبدیل نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے واشنگٹن کو صاف پیغام دیا کہ ”ہمارا مؤقف بالکل واضح ہے کہ یہ ہمیں قبول نہیں ہے۔“ انہوں نے اسرائیل کے حوالے سے پاکستان کی پاسپورٹ پالیسی کا بھی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ”ہم واحد ملک ہیں جس کے پاسپورٹ پر اسرائیل کا نام تک شامل نہیں ہے۔“
یہ بھی پڑھئے: ایران کے ساتھ ۶۰؍ روزہ جنگ بندی پر ٹرمپ کی اپنی پارٹی کے اراکین کی تنقیدیں
ٹرمپ کا مسلم ممالک سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کا مطالبہ
اس سے قبل ٹرمپ نے ایران اور کئی مسلم اکثریتی ممالک کے درمیان جاری علاقائی مذاکرات کے بارے میں بات کرتے ہوئے ابراہیمی معاہدے کو وسعت دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں، امریکی صدر نے کہا تھا کہ سعودی عرب اور قطر سمیت دیگر ممالک کو اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کیلئے فوری طور پر معاہدوں پر دستخط کرنے چاہئیں۔
ٹرمپ نے دلیل دی کہ معاہدہ ابراہیم میں شامل ممالک کو ”مالی، اقتصادی اور سماجی نوعیت پر بڑا فائدہ“ ہوا ہے۔ ان ممالک میں متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش، سوڈان اور قازقستان شامل ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مسلم اور عرب ممالک کے لیڈران کے ساتھ گفتگو کے دوران انہوں نے دلیل دی تھی کہ خطے میں امریکی سفارتی کوششوں کے بعد معاہدہ ابراہیم میں شامل ہونا ”لازمی“ ہو جانا چاہئے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل نے مسلسل تیسرے سال غزہ کے مسلمانوں کیلئے حج پر پابندی لگا دی
واضح رہے کہ پاکستان نے تاریخی طور پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے فیصلے کو ۱۹۶۷ سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام سے مشروط کیا ہے، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔