فیروزآباد: مناسب علاج نہ ملنے سے بچےلگاتار دم توڑرہے ہیں

Updated: September 15, 2021, 11:08 AM IST | Agency | Firozabad

سرکاری اسپتالوں میں  علاج نہ ملنے سے غریب بچےماں باپ کی نگاہوں کے سامنے تڑپ تڑپ کر جان دے دیتےہیںاور وہ روتے بلکتے رہ جاتے ہیں۔۱۵۰؍ سے زائد اموات

DM Chand Raja Vijay Singh of Wazabad is inspecting an area.Picture:INN
فیر وزآباد کے ڈی ایم چند ر وجے سنگھ ایک علاقے کا جائزہ لے رہےہیں ۔ تصویر: آئی این این

اترپردیش کے ضلع فیروزآباد میں  علا ج نہ ملنے  سے بچے اپنے ماں باپ کے کندھے یا گود میں دم توڑ رہے ہیں۔ خاص طور پر غریب کنبہ کے والدین  بے بس ہیں۔ وہ علاج کیلئے سرکاری اسپتالوں کے بھروسے ہیںجہاں سہولیات نہ ملنے سے ان کے بچے ان کی نگاہوں کے سامنے تڑپ تڑ پ کر جان دے دیتےہیںاور روتے بلکتے رہ  جاتے ہیں، ان کی جیب اجازت نہیں دیتی کہ وہ کسی سرکار ی اسپتال کا رخ کریں ، حالانکہ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ  نے اپنے فیر وزآباد دورے میں وعدہ کیا تھا کہ سرکاری اور پرائیویٹ دونوں طرح کے اسپتالوں میں علاج کا خرچ  سرکا راٹھائے گی ۔  ضلع میں ڈینگو بخار اور وائرل سے متاثر مریضوں کو راحت نہیں مل پارہی ہے۔ ضلع میں متعدی بخار کی زد میں آنے سے تقریباً۱۵۰؍ مریضوں کی جان جاچکی ہے۔تیمار دار مریض کے علاج کیلئے سرکاری اور پرائیویٹ اسپتالوں  کے چکر کاٹتے نظر آرہے ہیں۔ مناسب علاج کی کمی  کے سبب مریض لگاتار دم توڑ رہے ہیں، حالانکہ  وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے مقامی انتظامیہ کو بیماری کے سلسلے میں لاپروائی نہ برتنے کی سخت ہدایت دی ہے۔ منگل کو میڈیکل کالج میں ڈینگو وارڈ میں مریضوں کی تعداد۴۶۵؍ہو گئی جن میں زیادہ تر بچے ہیں۔  اتنی بڑی تعداد میں مریض بھر تی ہونے  کے باوجود  لوگ علاج کیلئے بھٹک رہے ہیں۔ پرائیویٹ اسپتالوں میں بھی بڑی تعداد میں مریض علاج کروارہے ہیں۔ مقامی کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ نے اپنے گزشتہ دورے  میں وعدہ کیا تھا کہ سرکاری اسپتال کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ اسپتالوں میں بھی علاج کرانے پر مریضوں کو حکومت کے ذریعہ خرچ دیا جائے گا مگرابھی تک اس پر عمل نہیں کیا  جارہا ہے۔ خاص طور سے غریب مزدور علاج کیلئے  بھٹک رہے ہیں،در در کی ٹھوکریں کھارہے ہیں اور ان کے بچے  ان کے ہاتھوں میں دم توڑ تے نظر آرہے ہیں۔ مریضوں کا کہنا ہے کہ میڈیکل کالج کے افسران  کچھ بھی دعویٰ کریں لیکن اندرونی نظام خستہ  ہے۔ اس سے تو اچھا ان کا ضلع اسپتال تھا جس میں اتنی دقت نہیں ہوتی تھی۔ میڈیکل کالج کے نام پر صرف مریضوں کوآگرہ ریفر کیا جارہا ہے۔ سنگین مریضوں کو یا تو بھرتی نہیں کیا جاتا ہے یا انہیں باہر کیلئے ریفر کردیا جاتا ہے۔منگل کو گزشتہ ۲۴؍گھنٹے۱۵؍مریضوں نےدم توڑدیا جبکہ سرکاری افسران اموات پر کسی طرح کا تبصرہ نہیں کررہے ہیں۔ ذرائع کی مانیں تو مرنے والوں کی تعداد تقریباً۱۵۰؍ تک پہنچ چکی ہےلیکن حکومت صرف سی ایم او اور دیگر افسران کے دعوؤں پر بھر وسہ کررہی ہے۔ انتظامیہ  صفائی ملازمین کیخلاف  اکا دکا کارروائی کر کے اپنا فرض  ادا کررہا ہے۔کوئی یہ دیکھنے کی کوشش نہیں کررہا ہے کہ مرض پر کنٹرول کیوں نہیں ہوپارہا ہے؟  عوام  کاکہنا ہے کہ آخر اموات کا سلسلہ کب رکے گا ؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK