:اپوزیشن کے مسلسل مطالبہ اور دباؤ کے بعد آخر کارکل (یکم اپریل) سے ملک بھر میں مردم شماری کے پہلے مرحلے کا آغاز ہو رہاہے۔
EPAPER
Updated: March 31, 2026, 8:28 AM IST | New Delhi
:اپوزیشن کے مسلسل مطالبہ اور دباؤ کے بعد آخر کارکل (یکم اپریل) سے ملک بھر میں مردم شماری کے پہلے مرحلے کا آغاز ہو رہاہے۔
:اپوزیشن کے مسلسل مطالبہ اور دباؤ کے بعد آخر کارکل (یکم اپریل) سے ملک بھر میں مردم شماری کے پہلے مرحلے کا آغاز ہو رہاہے۔ اس میں ۳۳؍ سوال پوچھے جائیں گے۔ یہ مجموعی طور پر ۱۶؍ ویں اور آزادی کے بعد ۸؍ویں مردم شماری ہے۔
پیر کو نئی دہلی میں میڈیا سےگفتگو میں ہندوستان کے رجسٹرار جنرل اور مردم شماری کمشنر مرتنجے کمار نارائن نے بتایا کہ مردم شماری دو مرحلوں میں کرائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے میں گھروں کی فہرست سازی اور خوداپنے طور پر گنتی کی جائے گی۔ کمشنر نےبتایا کہ آن لائن ایپ متعارف کرایاگیاہے جس میں شہری اپنی معلومات خود ڈال سکتے ہیں۔ اس کیلئے ۱۵؍ دن کا وقت دیا جائےگا۔ مہاراشٹر میں یکم مئی سے ۱۵؍ مئی ۲۶ء کے درمیان شہریوں کو یہ سہولت حاصل رہے گی۔ مردم شماری کا پہلا مرحلہ ’’ہاؤس لسٹنگ اور مکان شماری‘‘ کا ہوتا ہے۔اس کا مقصد ملک بھر میں مکانات کی تعداد اور بنیادی سہولیات کا اندازہ لگانا ہے تاکہ اس کی بنیاد پر عوامی فلاح وبہود کیلئے بہتر منصوبے بنائے جاسکیں۔ مردم شماری کے دوسرے مرحلے میں آبادی کے تعلق سے معلومات حاصل کی جائے گی۔ مردم شماری کمشنر مرتنجے کمار نارائن نے بتایاکہ ہر ریاست اور مرکز کے زیر انتظام علاقہ کی خود شماری کے بعد۳۰؍ ستمبر تک ۳۰؍ دن کی مدت میں گھروں کی فہرست سازی کی جائے گی۔ خود شماری کا پورٹل ۱۶؍ زبانوں میں دستیاب ہوگا۔پہلے مرحلہ کے سوالات شائع ہوگئے ہیں اور دوسرے مرحلہ کے سوال مقررہ وقت پر شائع کئے جائیں گے۔ کمشنر نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ مردم شماری کے دوسرے مرحلے میں ذات کی گنتی بھی کی جائے گی۔