کانگریس صدر کے الیکشن کی دوڑ میں۵؍لیڈران شامل

Updated: September 23, 2022, 9:37 AM IST | new Delhi

اشوک گہلوت اور ششی تھرور کے بعد اس مقابلہ آرائی میں منیش تیواری،ملکارجن کھرگے اور دگ وجے سنگھ کا نام بھی شامل ہونے کی قیاس آرائی

Ashok Gehlot
اشوک گہلوت

راجستھان کے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت اور ترواننت پورم کے ایم پی ششی تھرور کے نام پر کانگریس میں بحث چل رہی ہے۔ امکانات بڑھ رہے ہیں کہ یہ دونوں چہرے کانگریس کے صدارتی انتخاب میں دعویٰ پیش کر سکتے ہیں۔ یہاں سابق صدر راہل گاندھی کو منانے کی کوشش بھی جاری ہے لیکن اگر آپ پوری سیاسی صورتحال پر نظر ڈالیں تو اب دعویداروں کی تعداد۵؍تک پہنچتی دکھائی دے رہی ہے۔
 گہلوت کا تھرور سے مقابلہ یقینی
 فی الحال یہ مانا جا رہا ہے کہ تھرور اور گہلوت پارٹی میں نامزدگی داخل کر سکتے ہیں۔ گو کہ دونوں لیڈرابھی تک واضح طورپر کچھ نہیں کہہ رہے لیکن سیاسی سرگرمیوں سےانتخابات میں ان دونوں کے سرگرم ہونےکے آثار دکھائی دے رہے ہیں۔ بدھ کو ہی سینئرلیڈر عبوری صدر سونیا گاندھی سے ملنے دہلی پہنچے تھے۔یہاں تھرور آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے دفتر بھی پہنچے اور سینٹرل الیکشن کمیٹی سے ملاقات کی۔
راہل گاندھی پہلی پسند
 جمعہ کو راجستھان کے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت کوچی جانے کی تیاری کر رہےہیں۔ان کا کہنا ہے کہ وہ راہل گاندھی کو’آخری بار‘ اس عہدے کے لیے منانے کی کوشش کریں  گے۔اشوک گہلوت کا کہنا ہے اگر وہ راہل گاندھی کو عہدہ قبول کرنے کیلئے منانے میںناکام رہے تو وہ وہی کریں گے جو پارٹی کہے گی۔ بتایا جاتاہےکہ تھرور نے انتخابی کمیٹی کے ساتھ میٹنگ کے دوران نامزدگی کے عمل کے بارے میں معلومات  جمع کی تھیں۔
منیش تیواری کے نام پر بھی قیاس آرائیاں
 سینئرلیڈرمنیش تیواری کے نام پربھی قیاس آرائیاںکی جارہی ہیں جو کانگریس سےجڑے کئی مسائل پر آواز اٹھاتے رہےہیں۔ وہ بھی پارٹی سربراہ کےانتخاب کے اعلان کے بعد سے ہی اس عمل پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ملکارجن کھرگےنے بھی بھارت جوڑو یاترا میں شامل ہونے کیلئےکیرالاجانے کی تیاری کر لی ہے۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی ان کے دعوے کے بارے میں بھی قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں۔
دگ وجے سنگھ بھی الیکشن لڑسکتے ہیں
 مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ دگ وجے سنگھ جمعرات کو دہلی پہنچےہیں۔ اس دوران انہوں نے سونیا گاندھی سے بھی ملاقات کی۔اس ملاقات کی ڈور کوصدر کے انتخاب سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔ حال ہی میںسنگھ نےیہ بھی کہا تھا کہ انہوں نے اپنے دعوے کےامکان کو مسترد نہیں کیا ہے۔ سنگھ نے کہا، ’’ہر کسی کو الیکشن لڑنے کا حق ہے… آپ کو۳۰؍ستمبرکی شام کو جواب مل جائے گا۔‘‘واضح رہے کہ۳۰؍ ستمبر نامزدگی کی آخری تاریخ ہے۔ تاہم پارٹی حلقوں میںراہل کا نام گونج رہا ہے۔ کئی ریاستوں میں، کانگریس نے وائیناڈ کے  ایم پی کوپارٹی کے اعلیٰ عہدے پر دیکھنے کی خواہش ظاہر کرتےہوئے قراردادیں پاس کی ہیں۔ تاہم ایسی خبریں بھی آئی ہیں کہ راہل اس بار کپتان نہیں بننا چاہتے۔

congress Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK