Updated: May 06, 2026, 12:28 PM IST
| Mumbai
مغربی بنگال کی سیاسی و انتخابی تصویر کا ایک رُخ جس سے آپ بہت اچھی طرح واقف ہیں یہ ہے: الیکشن جیتنے کیلئے مرکز کی حکمراں جماعت پر ای ڈی، سی بی آئی اور دیگرکے غلط استعمال کا الزام عائد ہوا۔ ایس آئی آر کی بابت کہا گیا کہ یہ مہم ایک خاص مقصد کے تحت چلائی گئی تھی۔
مغربی بنگال کا الیکشن۔ تصویر:آئی این این
مغربی بنگال کی سیاسی و انتخابی تصویر کا ایک رُخ جس سے آپ بہت اچھی طرح واقف ہیں یہ ہے: الیکشن جیتنے کیلئے مرکز کی حکمراں جماعت پر ای ڈی، سی بی آئی اور دیگرکے غلط استعمال کا الزام عائد ہوا۔ ایس آئی آر کی بابت کہا گیا کہ یہ مہم ایک خاص مقصد کے تحت چلائی گئی تھی۔ پیر کو نتائج ظاہر ہوئے تو یہ راز فاش بھی ہوگیا کہ جہاں ایس آئی آر کی سب سے زیادہ مار پڑی تھی وہاں بی جے پی کو کامیابی ملی۔ ٹی ایم سی کا الزام ہے کہ کم و بیش سو (۱۰۰) سیٹیں دھاندلی سے جیتی گئی ہیں۔ ٹی ایم سی نے کاؤنٹنگ کی سست رفتاری پر بھی سوال اُٹھایا۔ کئی مبصرین کا کہنا ہے کہ بی جے پی نے ووٹ تقسیم کرنے کی اپنی پالیسی ( پولرائزیشن) کو کچھ اس انداز میں عملی جامہ پہنایا کہ ووٹ حسب ِ منصوبہ تقسیم ہوئے یعنی اس مقصد میں بھی بی جے پی کامیاب ہوئی۔ اس کے ساتھ ہی ممتا اور ٹی ایم سی کے حامیوں کے اُن بیانات کو سامنے رکھ لیجئے جن میں ٹی ایم سی کا قلعہ مسمار ہونے کی وجوہات پر اپنے انداز میں روشنی ڈالی گئی ہے۔ ہمیں اس اعتراف سے کوئی عار نہیں کہ تصویر کا یہی رُخ ہم بھی دیکھ رہے تھے۔
مگر، تصویر کا دوسرا رُخ بھی ہے۔ وہ یہ کہ ممتا بنرجی پندرہ سال سے اقتدار میں تھیں۔ پندرہ سال میں کسی نہ کسی وجہ سے عوام میں بے اطمینانی پیدا ہوتی ہے۔ اسی بے اطمینانی کے سبب رائے دہندگان کا جھکاؤ متبادل کی جانب ہونے لگتا ہے۔ جب متبادل کو تلاش کرکے ووٹ دیا جاتا ہے تو یہی ووٹ اقتدار مخالف کہلاتا ہے۔ ہم ممتا کی مقبولیت کو دیکھ رہے تھے مگر درِ پردہ عوامی بے دلی کے سبب اقتدار مخالف ووٹ بھی جگہ بنا رہا تھا۔ بی جے پی نے اس بے اطمینانی کو بھنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ چونکہ وسائل بھی ہیں اس لئے اُس نے بھرپور وسائل کا بھرپور استعمال کیا۔سمجھا جارہا تھا کہ ریاست کی خواتین ممتا کے ساتھ ہیں۔ انہیں مختلف اسکیموں کا فائدہ مل رہا تھا۔ بی جے پی نے زیادہ اسکیمیں اور زیادہ فائدہ کا اعلان کیا جس کی وجہ سے اگر سو فیصد نہیں تب بھی بڑی تعداد میں خواتین نے منہ موڑ لیا۔ اقلیتوں کے ووٹ بھی تقسیم ہوئے۔ سمجھا جاتا تھا کہ بنگال کے لوگ اپنی زبان اور تہذیب و ثقافت کے تئیں کافی حساس ہیں۔ یقیناً ہیں مگر بہت ممکن ہے کہ پرانی نسل کے لوگوں کی لسانی و تہذیبی وابستگی اور نئی نسل کی وابستگی میں فرق ہو جیسا کہ ہم آپ اپنے گھرخاندان میں بھی دیکھتے ہیں۔ ممتا بنرجی کی حکومت کو مرکزی حکومت کا سپورٹ حاصل نہیں تھا۔ اس کی وجہ سے کئی مرکزی اسکیمیں ممتا کے بنگال میں نافذ نہیں کی ہوسکیں جس کے سبب عوام ان کے فوائد سے محروم رہے۔ ممتا بنرجی روزگار پر توجہ مرکوز نہیں رکھ سکیں۔ یہ اور ایسی تمام باتوں سے تصویر کا دوسرا رُخ تیار ہوا۔
اگر پہلا رُخ درست ہے تو دوسرا نادرست نہیں ہے ورنہ ٹی ایم سی ہارتی نہیں۔ کسی بھی تصویر کے دو ہی رُخ ہوتے ہیں مگر اس تصویر کا ایک رُخ اور ہے۔ وہ یہ ہے کہ بنگال میں ممتا بنرجی تنہا لڑ رہی تھیں، اُنہیں انڈیا اتحاد کی پارٹیوں کا سپورٹ حاصل نہیں تھا۔ کمیونسٹ پارٹیاں اور کانگریس نے خود بھی اُمیدوار کھڑے کئے تھے لہٰذا ان کے سپورٹ کا سوال ہی نہیں تھا۔ سماج وادی پارٹی اور عام آدمی پارٹی نے حمایت کی مگر عملی مدد نہیں کی۔ اس طرح یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ یہ صرف ممتا کی ہار نہیں ہے، سیکولر پارٹیوں کے اتحاد ’’انڈیا‘‘ کی بھی ہار ہے اور اگر اب بھی یہ پارٹیاں اسی طرح بٹی رہیں جس طرح کہ اس وقت ہیں تو بی جے پی کی کامیابی کے رتھ کو روک پانا کسی کیلئے بھی ممکن نہیں ہوگا۔ یہ نوشتۂ دیوار ہے۔