Inquilab Logo Happiest Places to Work

بی جے پی سیاسی حاشئے سے راج سنگھاسن تک

Updated: May 06, 2026, 12:22 PM IST | Parvez Hafeez | Mumbai

وزیر اعظم مودی نے بنگال فتح کرنے کا جو فرمان ۲۰۱۶ء کے اسمبلی الیکشن کے بعد دیا تھا وہ ۲۰۲۶ء میں پورا ہوگیا۔ اس سیاسی اور نظریاتی زلزلہ کے جھٹکے نہ صرف بنگال بلکہ پورے خطے میں محسوس کئے جائینگے۔

Narendra Modi.Photo:PTI
نریندر مودی۔ تصویر:پی ٹی آئی
 ہوا کے رخ کا کچھ اندازہ تو ہوگیا تھا۔ سمجھ میں آگیا تھا کہ یہ ممتا بنرجی کی زندگی کا مشکل ترین الیکشن ثابت ہوگا تاہم یہ اعتراف کرنے میں کوئی عار نہیں کہ بی جے پی کی اتنی بڑی فتح اور ترنمول کانگریس کی اتنی شرمناک شکست کی مجھے توقع نہیں تھی۔ اس الیکشن میں بی جے پی نے ترنمول کانگریس کو ہرایا نہیں روند کر رکھ دیا ہے۔ وزیر داخلہ امیت شاہ نے پیش گوئی کی تھی کہ بی جے پی بنگال میں دو سو سیٹیں جیتے گی۔ان کی پیش گوئی سچ ہونے میں پانچ سال کا وقت لگ گیا۔ 
واضح رہے کہ امیت شاہ  نے ۲۰۲۱ء کے اسمبلی الیکشن کے قبل جو پیش گوئی کی تھی وہ ۲۰۲۶ء میں پوری ہوگئی لیکن وزیر اعظم مودی نے بنگال فتح کرنے کا فرمان انہیں ۲۰۱۶ء کے اسمبلی الیکشن کے بعد  دیا تھا۔ اس الیکشن میں بی جے پی کو فقط تین سیٹیں ملی تھیں۔ دس سال کے قلیل عرصے میں بی جے پی کا سیاسی حاشئے سے راج سنگھاسن تک کا سفر نریندر مودی اور امیت شاہ کے غیرمتزلزل عزم، پارٹی ورکرز کی جانفشانی اور آر ایس ایس کی خاموش سرپرستی کا نتیجہ ہے۔ دس سال قبل اپنی نظریاتی شدت پسندی کی وجہ سے بی جے پی بنگالی بھدرلوک کیلئے ایک ناپسندیدہ جماعت ہوا کرتی تھی۔ آج اسی بھدرلوک نے  اپنے ووٹوں سے بی جے پی کی جھولیاں بھردیں۔
 بی جے پی صوبے میں تبدیلی نہیں زلزلہ لائی ہے۔یہ ایک سیاسی اور نظریاتی زلزلہ ہے جس کے جھٹکے طویل عرصے تک نہ صرف بنگال میں بلکہ پورے خطے میں محسوس کئے جائینگے۔ صوبے کی ۷۰؍ فیصد آبادی ہندو ہے اور تقریباً ۲۸؍فیصد آبادی مسلم۔ ممتا بنرجی کو دو دو بار ہرانے والے شوبھیندو ادھیکاری یہ دعویٰ کرتے نہیں تھکتے ہیں کہ بی جے پی ہندوووٹوں کے سہارے جیتی ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ ۶۵؍ فیصد سے زیادہ ہندوؤں نے بی جے پی کو ووٹ دیا،  غیر معمولی ہندو Consolidation کی وجہ سے بی جے پی ڈبل سینچری بنانے میں کامیاب ہوئی اور اس نے ۲۷؍فیصد مسلم ووٹ کو بے اثر اور غیر متعلق بنادیا اور اس طرح سیکولر پارٹیوں کا آخری ہتھیار بھی ناکارہ بنا دیا گیا۔ رائے دہندگان کو مذہبی خطوط پر پولرائز کرنے کا یہی منطقی نتیجہ ہوتا ہے۔بی جے پی تو مندر مسجد کی سیاست کے ذریعہ ہی دو سیٹوں والی پارٹی سے ہندوستان پر اور ہندوستان کی ۲۰؍ ریاستوں میں حکومت کرنے والی پارٹی بنی ہے۔ اب وہ چند بچے کھچے صوبوں میں مسلم ووٹ بینک کی کاٹ کیلئے بے حیائی سے ہندو ووٹروں کو’’ ہندو ہو تو بی جے پی کو ووٹ دو‘‘ کا درس دے کر اقتدار ہتھیا رہی ہے۔ یہی حکمت عملی اپناکر آسام میں  ۳۵؍ فی صد مسلم آبادی ہونے کے باوجود ہیمنت بسوا شرما تیسری بار منتخب ہوگئے ہیں۔ بنگال میں ایک طرف ہندو ووٹ متحد ہوگیا اور دوسری جانب مسلم ووٹ منقسم ہوگیا۔ ۷۰؍ فیصد مسلم آبادی والے مرشدآباد میں کل ۲۲؍سیٹیں ہیں۔ ترنمول کانگریس نے پچھلی بار ۲۰؍جیتی تھیں جبکہ اس بار اسے صرف ۹؍ سیٹیں ملیں یعنی ۱۱؍ سیٹوں کا نقصان اٹھانا پڑا۔ صرف بی جے پی نے ہی نہیں بلکہ کانگریس، سی پی ایم اور بابری مسجد کے نام پر مسلمانوں کے مذہبی جذبات کا استحصال کرکے ہمایوں کبیر نے بھی ان ۱۱؍ سیٹوں میں سیندھ لگائی۔ مالدہ اور نارتھ دیناج پور جیسے مسلم اکثریتی اضلاع میں مسلم ووٹ کی تقسیم کا سیدھا فائدہ بی جے پی کو ہوا۔
وزیر اعظم مودی نے   اس دھماکہ خیز الزام سے بی جے پی کی انتخابی مہم کا آغاز کیا تھا کہ ممتا بنرجی کی حکومت بنگال میں غیر قانونی دراندازی کی سرپرستی کرکے بنگال کے ہندوؤں کو اقلیت بنارہی ہے۔  صوبے کے بہت سے اضلاع میں بنگلہ دیشی گھس پیٹھیوں کا سیلاب آجانے سے ان کی آبادیاتی(Demographic) شکل بدل گئی ہے اورہندو بنگالی آبادی کا وجود خطرے میں پڑگیا ہے۔وزیر اعظم مودی  کے اس بیانیہ کا بنگال کے ہندو ووٹروں پر خاطر خواہ اثر ہوا۔ بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ کی معزولی اور محمد یونس کی عبوری حکومت کے دور میں ہندوؤں پر ہوئے تشدد نے بھی بنگال کے ہندو ووٹروں کو بی جے پی کے قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا۔
 
 
 بی جے پی کی کامیابی کی ایک اوراہم وجہ ممتا کی ۱۵؍ سالہ حکومت کے خلاف پھیلی  Anti-Incumbency کی تیزاور مضبوط لہر ہے۔ ممتا خود ایمانداری کا پیکر ہوسکتی ہیں لیکن ان کی پارٹی کے بے شمار لیڈراور وزراء ہر طرح کی بدعنوانی میں ملوث پائے گئے۔ لوگوں نے جب ٹی وی پرسابق وزیر تعلیم پارتھو چٹرجی کی گرل فرینڈ کے گھر سے پچاس کروڑ روپئے کیش اور کروڑوں کے سونے کے زیورات برآمد ہوتے دیکھے تو آگ بگولہ ہوگئے۔ ٹیچر بحالی گھوٹالہ نے جس میں ہزاروں مستحق نوجوانوں کی حق تلفی کرکے نااہل لوگوں کو رشوت لے کر نوکریاں دی گئیں نے عوام کو ممتا حکومت سے بدظن کردیا۔ دوسال قبل آر جی کر سرکاری اسپتال میں ایک خاتون ڈاکٹرکے ریپ اور مرڈر کیس کی وجہ سے بھی عوام ترنمول سرکارکے خلاف مشتعل ہوگئے۔ ایک بار پھر ثابت ہو ا کہ نہ اقتدر دائمی ہوتا ہے اور نہ کوئی سیاسی لیڈر یا پارٹی ناقابل تسخیر۔ عوامی مقبولیت ممتا کا سب سے بڑا اثاثہ تھا۔ آج عوام ان سے برہم اور بدگمان ہوگئے ہیں۔ اسی برہمی کی وجہ سے  بنگال کے ۸؍  اضلاع میں ترنمول کانگریس اپنا کھاتہ تک نہیں کھول سکی۔ کلکتہ شہر کی ۱۶؍میں سے ۱۶؍سیٹیں ترنمول کانگریس نے پچھلے الیکشن میں جیتی تھیں۔ اس بار ان میں ۱۰؍سیٹیں بی جے پی نے چھین لیں۔ حکمراں جماعت کے چوٹی کے لیڈران جن میں صوبائی وزرا بھی شامل ہیں بری طرح ہار گئے۔ سب سے شرمناک ہار تو خود ممتا بنرجی کی ہے جو بھوانی پور میں پندرہ ہزار ووٹوں سے مات کھا گئیں۔ بھوانی پورایک انتخابی حلقہ نہیں ممتا کا وقار تھا۔ بھوانی پور کی ایک ایک گلی ممتا کو بچپن سے جانتی ہے اوراس کا ایک ایک باشندہ دیدی کا ہمسایہ ہونے پر فخر کرتا ہے۔ اسی بھوانی پور نے ان سے نظریں پھیر لیں۔
 
 
۲۳؍اور ۲۹؍ اپریل کو دو مرحلوں میں ہونے والے حالیہ انتخابات کوئی نارمل انتخابات نہیں تھے کیونکہ ان انتخابات میں محاذ آرائی سیاسی جماعتوں کے درمیان محدود نہیں تھی۔ ان انتخابات میں صوبے میں ۱۵؍ سال سے حکومت کررہی ترنمول کانگریس کو اقتدار سے ہٹانے کی خاطر بی جے پی نے پوری حکومتی مشنری، آئینی ادارے،  مرکزی جانچ ایجنسیاں اور مرکزی فورسیز جھونک دی تھیں۔ گودی میڈیا دن رات ووٹروں کا برین واش کررہا تھا کہ’’ بی جے پی لاؤ اور اچھے دن پاؤ۔‘‘ الیکشن کمیشن نے ووٹر لسٹ کی صفائی کے نام پر حقیقی ووٹروں کا صفایا کردیا۔ بنگال میں ۹۱؍لاکھ سے زیادہ ووٹروں کے نام حذف کردیئے گئے۔ ٹائمز آف انڈیانے اعداد وشمار کے ساتھ یہ ثابت کیا ہے کہ ووٹر لسٹ میں بڑی تعداد میں نام حذف کئے جانے کی وجہ سے بی جے پی کی سیٹوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔اسکے برخلاف ایس آئی آر کو انتخابی ہتھیار بنانے کی ممتا کی کوشش ناکام ثابت ہوگئی۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK