فرانسیسی عدالت نے مسلم طلبہ کے زیر تعلیم کریل اسکول کی۶؍ ماہ کی بندش کو برقرار رکھا،عدالت کا کہنا ہے کہ تعمیراتی کام کے باوجود اسکول میں ضروری حفاظتی ضمانتیںموجود نہیں ہیں۔
EPAPER
Updated: October 09, 2026, 11:09 AM IST | Paris
فرانسیسی عدالت نے مسلم طلبہ کے زیر تعلیم کریل اسکول کی۶؍ ماہ کی بندش کو برقرار رکھا،عدالت کا کہنا ہے کہ تعمیراتی کام کے باوجود اسکول میں ضروری حفاظتی ضمانتیںموجود نہیں ہیں۔
فرانسیسی انتظامی عدالت نے شمالی شہر کریل میں مسلم طلبہ کے زیر تعلیم ایک نجی اسکول کی چھ ماہ کی بندش کو برقرار رکھا ہے۔ امیئن کی انتظامی عدالت نے الغزالی اسکول کا انتظام کرنے والی انجمنوں کی جانب سے دائر دو درخواستوں کو مسترد کر دیا جس میں اوائز پریفیکچر کی جانب سے جاری کردہ پابندی کے حکم کو معطل کرنے اور اسکول کو دوبارہ کھولنے کی اجازت دینے کی درخواست کی گئی تھی۔فیصلے کے مطابق، عدالت نے کہا کہ اسکول میں تعمیر اتی کام جاری رہنے کے باوجود اسکول نے طلبہ کیلئے تمام ضروری ’’حفاظتی ضمانتیں‘‘ فراہم نہیں کیں۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ جنگ، ۳؍ سال: مظاہروں کا دائرہ وسیع، بارسلونا سے ایتھنز تک فری فلسطین کے نعرے
واضح رہے کہ بندش کا حکم ۳۰؍ ستمبر کو نافذ ہوا اور چھ ماہ کے لیے نافذ رہے گا۔ جبکہ پرائمری، مڈل اور ہائی اسکول کی سطح پر تقریباً۲۵۰؍ طلبہ اسکول میں زیر تعلیم ہیں۔ مزید برآں عدالت نے انتظامی انجمنوں کی اس دلیل کو بھی مسترد کر دیا کہ بندش کے سنگین مالی نتائج ہوں گے، یہ کہتے ہوئے کہ انہوں نے حکم کو معطل کرنے کے لیے درکار خصوصی فوری ضرورت قائم نہیں کی ہے۔تاہم خاندانوں کے پاس اپنے بچوں کو دوسرے اسکولوں میں داخل کرانے کے لیے۱۵؍ دن ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ میں نسل کشی ختم نہیں ہوئی ہے: اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ البانیز
یاد رہے کہ اسکول کا جون اور ستمبر میں حفاظتی معائنہ کیا گیا تھا۔مبینہ طور پر ایک سیفٹی کمیشن نے پرائمری تعلیم کے لیے استعمال ہونے والی عمارت میں ’’بے ضابطگیوں‘‘ کی نشاندہی کی، جس سے پریفیکچر کو اصلاحی اقدامات کی ضرورت پیش آئی۔پریفیکچر نے بعد ازاں۲۹؍ ستمبر کو بندش کا حکم دیا، جس میں بعض کمروں کے استعمال، اسکول کے آپریٹنگ انتظامات، اور حفاظتی مسائل کے بارے میں خدشات کا حوالہ دیا گیا۔تاہم اسکول کا انتظام کرنے والی انجمنیں ۱۰؍ دن کے اندر اس فیصلے کے خلاف اپیل کر سکتی ہیں۔