Updated: October 09, 2026, 11:08 AM IST
| London
غزہ جنگ کے تین سال مکمل ہونے کے بعد فلسطین کے حق میں عالمی احتجاج ۷؍ اکتوبر تک محدود نہیں رہا۔ ۹؍ سے ۱۱؍ اکتوبر کے لیے عالمی سطح پر احتجاج، مارچ، دھرنوں، طلبہ سرگرمیوں، ثقافتی پروگراموں، یادگاری اجتماعات اور سول ایکشن کا نیا سلسلہ شروع کیا گیا ہے، جس کا مرکزی دن ۱۰؍ اکتوبر مقرر کیا گیا ہے۔ گلوبل الائنس فار فلسطین کے مطابق ۶۰؍ سے زائد ممالک میں ۲۰۰؍ سے زائد سول سوسائٹی تنظیمیں، ٹریڈ یونینیں، طلبہ تنظیمیں، انسانی حقوق کے نیٹ ورک اور فلسطین حامی گروپ اس مہم میں شریک ہوں گے۔ منتظمین نے اس مہم کو ’’اینڈ دی جینوسائیڈ، ڈیفینڈ دی لینڈ‘‘ کے عنوان سے منظم کیا ہے۔
اس عالمی مہم میں غزہ میں جنگ کے خاتمے کے ساتھ اسرائیل کو اسلحہ کی فراہمی روکنے، پابندیاں عائد کرنے، فلسطینیوں کی جبری بے دخلی ختم کرنے اور بین الاقوامی قانون کے تحت جواب دہی کے مطالبات شامل ہیں۔ گلوبل الائنس فار فلسطین نے احتجاجی سرگرمیوں کے ساتھ پارلیمانی خطوط، ارکانِ پارلیمان سے ملاقاتوں، ہنگامی بحثوں اور اسلحہ و تجارت پر پابندیوں کے لیے سیاسی دباؤ کو بھی مہم کا حصہ بنایا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ جنگ کے ۳؍ سال: تباہ شدہ پانی، بجلی نظام نے فلسطینیوں کی زندگی تباہ کر دی ہے!
چھ براعظموں میں بیک وقت سرگرمیاں
عالمی مہم کے منتظمین کے مطابق ۱۰؍ اکتوبر کو لندن، سڈنی، کیپ ٹاؤن، ساؤ پاؤلو، رباط، کیٹو، میکسیکو سٹی، استنبول، سانتیاگو، ریکیاوک اور بنکاک سمیت کئی بڑے شہروں میں بڑے مظاہرے ہوں گے۔ بعض مقامات پر سڑک مارچ کے بجائے سرکاری و تجارتی اداروں کے خلاف احتجاجی مداخلت، دھرنے، تعلیمی نشستیں، فلمی نمائشیں، ثقافتی پروگرام اور یادگاری اجتماعات بھی ہوں گے۔
برازیل کے ساؤ پاؤلو میں عالمی مہم
لاطینی امریکہ میں برازیل کا ساؤ پاؤلو ان شہروں میں شامل ہے جہاں ۱۰؍ اکتوبر کو بڑی فلسطین حامی سرگرمی کی تیاری کی گئی ہے۔ عالمی اتحاد کی فہرست میں ساؤ پاؤلو کے ساتھ ایکواڈور کے کیٹو اور چلی کے سانتیاگو کو بھی بڑے مظاہروں کے مراکز کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔
مراکش کے رباط میں احتجاج
شمالی افریقہ میں مراکش کا دارالحکومت رباط عالمی یومِ احتجاج کے اہم مراکز میں شامل ہے۔ یہاں بھی فلسطین کے حق میں بڑے عوامی مظاہرے کی تیاری کی گئی ہے، جبکہ افریقی براعظم کے دوسرے حصوں میں سڑک احتجاج کے ساتھ فلمی نمائشوں، تعلیمی پروگراموں اور یادگاری سرگرمیوں کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: یمن جنگ: بے گھر افراد کی تعداد ۲؍ لاکھ سے تجاوز، اقوام متحدہ نے فوری امداد مانگی
گھانا سے ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو تک
افریقی ممالک میں احتجاج کی شکل ہر جگہ ایک جیسی نہیں۔ عالمی مہم کی تفصیلات کے مطابق نائیجیریا میں فلسطین کے موضوع پر فلمی نمائشوں جبکہ ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو میں یادگاری اجتماعات کی تیاری کی گئی۔ یوں افریقہ میں عالمی مہم صرف بڑے دارالحکومتوں کی سڑکوں تک محدود نہیں بلکہ مقامی کمیونٹی اور ثقافتی سرگرمیوں تک بھی پھیلی ہوئی ہے۔
رباط کے ساتھ ایشیا میں استنبول اور بنکاک نمایاں
ترکی کے استنبول اور تھائی لینڈ کے بنکاک کو بھی ۱۰؍ اکتوبر کی بڑی عالمی سرگرمیوں میں شامل کیا گیا ہے۔ ملائیشیا کے کوالالمپور میں سرگرمیاں کئی دن جاری رہنے کی منصوبہ بندی کی گئی، جن میں عوامی نشستیں، ثقافتی پروگرام اور بصری تنصیبات شامل ہیں۔
کوالالمپور میں کئی روزہ پروگرام
ملائیشیا میں ۱۰؍ اکتوبر کی سرگرمی صرف ایک مارچ تک محدود نہیں رکھی گئی۔ عالمی مہم کی تفصیلات میں کوالالمپور کو ان مقامات میں شامل کیا گیا ہے جہاں کئی روز تک ثقافتی و عوامی پروگرام جاری رہیں گے۔ اس میں فلسطین کی صورتِ حال پر عوامی نشستیں اور احتجاجی سرگرمیاں شامل ہیں۔
ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں ’’فلسطین کی آزادی‘‘ کے لیے مارچ
۱۰؍ اکتوبر کو کوپن ہیگن میں فلسطین کے حق میں بڑا احتجاج درج کیا گیا ہے۔ عالمی یکجہتی سرگرمیوں کے نقشے میں اسے ’’Stordemo for et frit Palæstina‘‘ یعنی آزاد فلسطین کے لیے بڑا مظاہرہ قرار دیا گیا ہے۔ احتجاج دوپہر ۲؍ بجے مقرر کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ میں نسل کشی ختم نہیں ہوئی ہے: اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ البانیز
آئرلینڈ میں قومی مارچ کے ساتھ چھوٹے شہروں تک احتجاج
آئرلینڈ میں ۱۰؍ اکتوبر کو احتجاج کا دائرہ غیر معمولی طور پر وسیع ہے۔ ڈبلن میں گارڈن آف ریمیمبرنس سے قومی مارچ شروع ہوکر ڈائل یعنی پارلیمنٹ کے باہر اختتام پذیر ہوگا۔ آئرلینڈ فلسطین یکجہتی مہم کے مطابق ۱۶۰؍ سے زائد آئرش سول سوسائٹی تنظیموں نے اس مارچ کی حمایت کی ہے۔ مظاہرین اسرائیل کے خلاف پابندیوں اور فلسطینیوں کے قتل کے لیے جواب دہی کا مطالبہ کریں گے۔ اسی دن ڈیری میں عدالتِ عالیہ کے سامنے سے گلڈہال اسکوائر تک مارچ اور ریلی ہوگی، جس میں تقریباً ۳۰۰؍ شرکاء اور ۳۰۰؍ حامیوں کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔
آئرلینڈ کے دیگر مقامات پر بھی ۱۰؍ اکتوبر کو فلسطین کے حق میں پروگرام رکھے گئے ہیں۔ ان میں اسٹرابین، اکیل ساؤنڈ، ایتھنری، بالٹی مور، بیلفاسٹ، بیلمولیٹ، کیسل بار، کلونکِلٹی، کلونمل، کارک، ڈروگھیڈا، بالبریگن، اینس، فوکسفورڈ، لیٹرکینی، نیناگ، اوماغ، اسکبیریں، سلیگو اور سنیَم شامل ہیں۔ کہیں مارچ، کہیں خاموش احتجاج، کہیں نگرانی اور کہیں معلوماتی اسٹال لگائے جائیں گے۔
جرمنی میں برلن کے بعد نئی عالمی مہم
۱۰؍ اکتوبر کو برلن میں ’’یونائیٹڈ فار فلسطین‘‘ کے نام سے ایک اور عالمی یومِ احتجاج کا پروگرام رکھا گیا ہے۔ منتظمین کے مطابق مظاہرہ آزادی، وقار اور انصاف کے مطالبات کے ساتھ بین الاقوامی مہم کا حصہ ہوگا۔
نیوزی لینڈ کے ہر بڑے شہر میں مظاہرے کی اپیل
نیوزی لینڈ میں گلوبل مارچ فار فلسطین اتحاد نے ۱۰؍ اکتوبر کو آکلینڈ میں بڑے مظاہرے کی اپیل کی ہے اور اسے عالمی یومِ احتجاج کا حصہ قرار دیا ہے۔ منتظمین نے کہا ہے کہ ملک کے تمام بڑے شہروں میں فلسطین کے حق میں مظاہرے ہوں گے۔ آکلینڈ کی مہم میں نیوزی لینڈ کی حکومت سے اسرائیل کے ساتھ فوجی اور سیاسی تعاون ختم کرنے کا مطالبہ بھی شامل ہے۔
ویلنگٹن میں ’’ہیکوئی فار فلسطین‘‘ کے نام سے بین الاقوامی یومِ احتجاج کا پروگرام درج کیا گیا ہے۔ اسے ۱۰؍ اکتوبر کی عالمی فلسطین مہم کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔
آسٹریلیا میں احتجاج۱۱؍ اکتوبر تک جاری رہے گا
۱۰؍ اکتوبر کے عالمی دن کے بعد آسٹریلیا میں بھی فلسطین حامی سرگرمیاں۱۱؍ اکتوبر تک جاری رہیں گی۔ کینبرا میں ’’Three Years of Genocide‘‘ کے عنوان سے احتجاج۱۱؍ اکتوبر کو دوپہر ایک بجے مقرر ہے، جبکہ ایڈیلیڈ میں ’’Global Day for Gaza: 3 Years of Genocide & Resistance‘‘ کے نام سے پروگرام دوپہر ۲؍ بجے ہوگا۔
میلبورن میں بھی۱۱؍ اکتوبر کو ’’Global Day for Gaza‘‘ کے تحت قومی مارچ رکھا گیا ہے، جس کا آغاز اسٹیٹ لائبریری وکٹوریہ سے دوپہر ۱۲؍ بجے ہوگا۔ منتظمین نے اسے بین الاقوامی عالمی دنِ عمل کا حصہ قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل: نیتن یاہو نے اکتوبر حملے کی وارننگ میں اپنے مفاد کے مطابق ہیرا پھیری کی
کنیڈا میں ٹورنٹو کے علاوہ اوٹاوا میں بھی مظاہرہ
۱۰؍ اکتوبر کو اوٹاوا میں پارلیمنٹ ہل کے مقام پر ’’تین سال کی نسل کشی: غزہ کے لیے مارچ‘‘ کے عنوان سے مظاہرہ مقرر ہے۔ منتظمین نے غزہ میں جاری بحران کے ساتھ فلسطین، لبنان اور ایران میں فوجی کارروائیوں کے خاتمے اور اسرائیل کے خلاف اسلحہ پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔
ٹورنٹو میں مارچ کے ساتھ ’’رن فار غزہ‘‘
۱۰؍ اکتوبر کو ٹورنٹو میں فلسطین کے لیے بڑا مارچ بھی مقرر ہے، جبکہ اسی صبح ’’رن فار غزہ‘‘ کے نام سے دوڑ اور واک کا پروگرام منعقد ہوگا۔ اس سے حاصل ہونے والی رقم غزہ کے خاندانوں کے لیے ہنگامی خوراک کی امداد کے لیے مختص کی گئی ہے۔ اسی شہر میں موسمیاتی کارکنوں کا الگ گروپ بھی ۱۰؍ اکتوبر کو برسی کے موقع پر فلسطین کے حق میں مارچ کرے گا اور بیئرزی پارک سے مرکزی فلسطین مارچ میں شامل ہوگا۔ منتظمین نے غزہ کے ساتھ مغربی کنارے میں ہونے والی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے ماحولیاتی تحریک اور فلسطین یکجہتی تحریک کے درمیان مشترکہ جدوجہد کی بات کی ہے۔
امریکہ میں واشنگٹن اور لاس اینجلس کے ساتھ مختلف نوعیت کے پروگرام
واشنگٹن ڈی سی میں ۱۰؍ اکتوبر کو کیپیٹل کے قریب فلسطین مارچ کے ساتھ خواتین کے حقوق سے متعلق تنظیموں کا الگ دستہ بھی شامل ہوگا۔ منتظمین نے اسرائیل کے خلاف فوری اسلحہ پابندی اور پابندیوں کا مطالبہ کیا ہے۔ مارچ کے بعد فلسطینی امور پر ایک عوامی نشست بھی رکھی گئی ہے۔
لاس اینجلس میں ۱۰؍ اکتوبر کو پرشنگ اسکوائر پر فلسطین مارچ ہوگا۔ فلسطینی یوتھ موومنٹ کے زیرِ اہتمام مارچ میں مقامی تنظیمیں شامل ہوں گی اور اسے عالمی یومِ احتجاج کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔
امریکہ میں سڑکوں پر احتجاج کے ساتھ ثقافتی و انسانی سرگرمیاں
میڈیسن، وسکونسن میں فلسطین کے زیتون کے موسم کے نام پر یکجہتی میلہ ۱۰؍ اکتوبر کو منعقد ہوگا۔ یہاں فلسطینی کھانے، دستکاری، تاتریز کڑھائی، فلسطینی زیتون کا تیل اور مٹی کے برتن پیش کیے جائیں گے، فلسطین کے حق میں خط لکھنے کی سرگرمی ہوگی اور فلسطینی زیتون کے درختوں کی کفالت کے لیے بھی مہم چلائی جائے گی۔
نیویارک میں۱۱؍ اکتوبر کو ’’غزہ فائیو کے‘‘ واک اور دوڑ ہوگی۔ منتظمین کے مطابق ۲۰۲۵ء میں اس پروگرام میں ۵؍ ہزار سے زیادہ افراد شریک ہوئے تھے، جبکہ ۲۰۲۶ء کے لیے ۵؍ لاکھ ڈالر جمع کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ حاصل ہونے والی رقم غزہ میں بچوں کے لیے ذہنی صحت اور نفسیاتی معاونت فراہم کرنے والے یو این آر ڈبلیو اے کے مشیروں کی مدد کے لیے استعمال کی جائے گی۔
اطالوی شہروں میں بھی بیک وقت متحرک ہونے کی اپیل
اٹلی میں فلسطین حامی تنظیموں نے ۱۰؍ اکتوبر کو روم، میلان، نیپلز، ٹورین، بولونیا اور پالرمو سمیت مختلف شہروں میں احتجاجی سرگرمیوں کی اپیل کی ہے۔ روم سے میلان اور جنوبی اٹلی تک مختلف تنظیموں، طلبہ گروپوں اور مزدور تنظیموں کو متحرک ہونے کی دعوت دی گئی ہے۔ مطالبات میں اسرائیل کو فوجی و اقتصادی تعاون روکنا، اسلحہ پابندی اور پابندیاں شامل ہیں۔
اٹلی کے چھوٹے جزیرے ایلبا پر بھی ۱۰؍ اکتوبر کو ’’Elba4Gaza‘‘ کے نام سے فلسطین کے حق میں اجتماع رکھا گیا ہے۔ پورٹوفیرائیو میں ہونے والے اس احتجاج کو عالمی یومِ فلسطین مہم کا حصہ قرار دیا گیا ہے اور منتظمین نے شہریوں، طلبہ، سیاسی و سماجی تنظیموں اور مقامی انجمنوں کو شرکت کی دعوت دی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی آباد کاروں کے حملے میں ایک فلسطینی شہید،۱۶؍افراد زخمی
مودینا میں احتجاج کے ساتھ عوامی ثقافتی پروگرام
اٹلی کے فابریکو شہر میں ۱۰؍ اکتوبر کو گلوبل الائنس فار فلسطین کی عالمی مہم کے تحت امن کے لیے عوامی اجتماع ہوگا۔ مقامی انتظامیہ کے اعلان کے مطابق مختلف سماجی و رضاکار تنظیمیں اس میں شریک ہوں گی اور شرکاء سے فلسطین اور امن کے پرچم لانے کی اپیل کی گئی ہے۔
۱۱؍ اکتوبر کو ایمسٹرڈیم میں ہزاروں بچوں کے ناموں والا بینر
۷؍ اکتوبر کے بعد نیدرلینڈز میں احتجاجی سلسلہ۱۱؍ اکتوبر کو بھی جاری رہے گا۔ ایمسٹرڈیم میں فلسطین کے لیے خاموش مارچ ایمسٹل فیلڈ سے ڈیم اسکوائر تک ہوگا۔ منتظمین کے مطابق ایمسٹرڈیم اور یوٹریخت کے شہریوں نے ایک بڑے بینر پر ۲۱۶۳۷؍ فلسطینی بچوں کے نام لکھے ہیں جن کے بارے میں منتظمین کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ تین برس میں اسرائیلی کارروائیوں میں مارے گئے۔ مارچ کے دوران یہ بینر خاموشی کے ساتھ ڈیم اسکوائر تک لے جایا جائے گا، جہاں قومی احتجاج میں شرکت کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھئے: وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی کامیابی ہی امریکہ کو دیوالیہ ہونے سے بچا سکتی ہے: ٹرمپ
عالمی مہم کا ایک نیا رخ
۱۰؍ اکتوبر کی سرگرمیوں کی خاص بات یہ ہے کہ احتجاج صرف سڑکوں پر مارچ تک محدود نہیں رکھا گیا۔ گلوبل الائنس فار فلسطین نے مظاہروں کے ساتھ طلبہ واک آؤٹ، ٹریڈ یونین سرگرمیوں، پارلیمانی خطوط، تعلیمی نشستوں، فلمی نمائشوں، ثقافتی پروگراموں، یادگاری اجتماعات اور بعض مقامات پر سرکاری و تجارتی اداروں کے خلاف سول ایکشن کو بھی عالمی مہم کا حصہ بنایا ہے۔ تنظیم کے مطابق مختلف ممالک کی مقامی تنظیمیں اپنے اپنے حالات کے مطابق طریقۂ احتجاج طے کریں گی، مگر مشترکہ عالمی تاریخ اور مطالبات انہیں ایک ہی مہم سے جوڑیں گے۔
۱۰؍ اکتوبر کی اس مربوط مہم کے لیے گلوبل الائنس فار فلسطین کا کہنا ہے کہ ۲۰۰؍ سے زائد تنظیمیں ۶۰؍ سے زائد ممالک میں متحرک ہوں گی۔ یوں ۷؍ اکتوبر کی برسی کے موقع پر ہونے والے مظاہروں کے بعد فلسطین کے حق میں احتجاجی سرگرمی ایک نئے عالمی مرحلے میں داخل ہو رہی ہے، جس میں سڑکوں کے احتجاج کے ساتھ پارلیمانی دباؤ، تعلیمی سرگرمیاں، ثقافتی اظہار اور معاشی و سیاسی بائیکاٹ بھی شامل کیے گئے ہیں۔