• Wed, 23 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

چین میں تقریباً ۱ء۱؍ کروڑ روپے کی ’’اُڑن طشتری‘‘ فروخت کے لیے پیش

Updated: September 23, 2026, 5:05 PM IST | Beijing

سائنس فکشن فلموں میں دکھائی جانے والی اڑن طشتری اب حقیقت کی شکل اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ چین میں ایک کمپنی نے دو نشستوں والی برقی اُڑن طشتری نما eVTOL زیارہ فروخت کے لیے پیش کیا ہے، جس کی قیمت تقریباً ۸؍لاکھ چینی یوآن یعنی موجودہ شرحِ تبادلہ کے حساب سے تقریباً۱ء۱؍ کروڑ روپے ہے۔

Flying Saucer.Photo:X
فلائنگ ساسر۔ تصویر:ایکس

 سائنس فکشن فلموں میں دکھائی جانے والی اڑن طشتری اب حقیقت کی شکل اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ چین میں ایک کمپنی نے  دو نشستوں والی برقی اُڑن طشتری نما eVTOL (Electric Vertical Take-Off and Landing) طیارہ  فروخت کے لیے پیش کیا ہے، جس کی قیمت تقریباً  ۸؍لاکھ چینی یوآن  یعنی موجودہ شرحِ تبادلہ کے حساب سے تقریباً۱ء۱؍ کروڑ  روپے  ہے۔ یہ طیارہ رن وے کے بغیر عمودی طور پر پرواز بھر سکتا ہے اور اسے زمین کے ساتھ ساتھ پانی سے ٹیک آف اور پانی پر لینڈنگ کے لیے بھی ڈیزائن کیا گیا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:اللو ارجن اور ایٹلی کی ’’راکا‘‘نے ۳۷؍ فنکاروں کے موشن کیپچر کے ساتھ گنیز ورلڈ ریکارڈ بنا لیا

اس طیارے کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کی گول، اُڑن طشتری جیسی ساخت ہے۔ اس میں  ۳۶۰؍ ڈگری شفاف کروی کاک پٹ  بنایا گیا ہے، جس سے مسافروں کو دورانِ پرواز چاروں جانب کا وسیع منظر دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ طیارے کے ڈھانچے میں فائبر گلاس، کاربن فائبر، ایلومینیم الائے اور ایوی ایشن گریڈ مواد استعمال کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔  یہ روایتی ہوائی جہاز کے بجائے eVTOL ٹیکنالوجی پر کام کرتا ہے۔ اس میں  چھ ڈکٹڈ روٹرز  کا نظام استعمال کیا گیا ہے، جن کے پروپیلرز طیارے کے بیرونی حصے پر کھلے طور پر نظر آنے کے بجائے جسم کے اندر محفوظ انداز میں نصب کیے گئے ہیں۔ یہی نظام اسے عمودی طور پر اوپر اٹھنے اور نیچے آنے میں مدد دیتا ہے۔
چین میں اسی نوعیت کی اُڑن طشتری ٹیکنالوجی پر پہلے بھی تجربات کیے جا چکے ہیں۔ شین ژین میں تیار کیے گئے ایک برقی انسانی بردار فلائنگ ساسر نے ۲۰۲۳ء میں مظاہرے کے دوران زمین اور پانی دونوں سے ٹیک آف اور لینڈنگ کی صلاحیت دکھائی تھی۔ اس ماڈل کو ۱۲؍ بلیڈ والے پاور سسٹم کے ساتھ تیار کیا گیا تھا اور اس کی زیادہ سے زیادہ رفتار تقریباً  ۵۰ ؍کلومیٹر فی گھنٹہ  بتائی گئی تھی۔ 
نئے طیارے کی موجودہ کارکردگی کے بارے میں دستیاب اطلاعات کے مطابق یہ تقریباً  ۱۵؍ منٹ تک مسلسل پرواز  کر سکتا ہے اور اس کی آپریٹنگ اونچائی تقریباً  ۳۰؍ میٹر  بتائی گئی ہے۔ اس وجہ سے اسے فی الحال طویل فاصلے کے سفر یا روزمرہ آمدورفت کے بجائے  سیاحت، تفریح، فضائی مظاہروں اور مختصرسائٹ سینگ فلائٹس   کے لیے زیادہ موزوں سمجھا جا رہا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:معیشت میں نجی سرمایہ کاری رفتار پکڑ رہی ہے : سیتا رمن

اس اڑن طشتری کی سب سے دلچسپ خصوصیات میں سے ایک اس کی amphibious capability  ہے  یعنی اسے اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ یہ زمین کے علاوہ پانی کی سطح سے بھی پرواز بھر سکے اور پانی پر اتر سکے۔ اس خصوصیت کی وجہ سے مستقبل میں جھیلوں، ساحلی علاقوں اور سیاحتی مقامات پر مختصر فضائی تفریح کے لیے اس کے استعمال کے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔ چین میں اس ٹیکنالوجی کے ابتدائی تجربات میں بھی پانی سے ٹیک آف اور پانی پر لینڈنگ کا مظاہرہ کیا جا چکا ہے۔ 
رپورٹس کے مطابق یہ طیارہ چین کے  ییوو گلوبل ڈجیٹل ٹریڈ سینٹر  میں نمائش اور فروخت کے لیے پیش کیا گیا ہے۔ مینوفیکچرر کے مطابق اس کی قیمت تقریباً  ۸؍ لاکھ یوآن  ہے، جو تقریباً ۱ء۲؍ لاکھ امریکی ڈالر  کے برابر ہے۔ ہندوستانی کرنسی میں یہ رقم تقریباً ۱ء۱؍ کروڑ روپے کے آس پاس   ہے، جبکہ مختلف زرِ مبادلہ کی شرح کے حساب سے اسے تقریباً ۱.۱ ؍کروڑ روپے بھی بتایا جا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK