• Wed, 23 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

راستوں پر پٹاخے پھوڑنے پر ہائی کورٹ نے پابندی عائد کردی

Updated: September 23, 2026, 4:31 PM IST | Shahab Ansari | Mumbai

جلوس کے دوران ’ڈی جے‘ اور ’لیز بیم‘ کے استعمال کو بھی غیر ضروری قرار دیا۔

Bombay High Court. Picture: INN
بامبے ہائی کورٹ۔ تصویر: آئی این این

تہواروں کے دوران بے انتہا صوتی آلودگی کا از خود نوٹس لیتے ہوئے مفاد عامہ کی عرضداشت پر سماعت کے دوران منگل کو بامبے ہائی کورٹ نے عوامی راستوں پر پٹاخے پھوڑنے پر پابندی عائد کردی ہے اور ساتھی ہی ’ڈی جے‘ اور ’لیزر بیم‘ کے استعمال کو بھی غیرضروری قرار دیا ہے۔ ججوں نے واضح کیا ہے کہ یہ حکم تمام تہواروں پر نافذ ہوگا۔

جسٹس گریش کلکرنی اور جسٹس نیلا گوکھلے نے پیر کو ہی گنیش اتسو کے دوران بے انتہا صوتی آلودگی کا از خود نوٹس لیتے ہوئے مفاد عامہ کی عرضداشت شروع کی تھی اور منگل کو اس پر سماعت ہوئی۔ شنوائی کے دوران ججوں نے کہا کہ ’’ممبئی جیسے شہر میں عوامی راستوں پر پٹاخے پھوڑنے کی اجازت کیوں دی جائے؟ یہی وقت ہے جب ممبئی میں فضائی آلودگی بڑھنے لگتی ہے، کہرا جمع ہونے لگتا ہے۔ اسے تھمنا چاہئے۔ دن ہو یا رات عوامی راستوں پر پٹاخے نہیں پھوڑے جاسکتے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: اسکول کی سرکاری عمارت کوایک سال کیلئے نجی تعلیمی ادارے کوکرایہ پر دینے کی مخالفت

سماعت کے دوران حکومت مہاراشٹر کی جانب سے ایڈوکیٹ جنرل ملند ساڑھے نے کہا کہ ممبئی پولیس نے پہلے ہی حکم جاری کر رکھا ہے جس کے تحت ۹؍ ستمبر سے ۲۶؍ ستمبر ۲۰۲۶ء کے درمیان بغیر اجازت ۵؍ افراد کا ایک جگہ جمع ہونا، پٹاخے پھوڑنا اور لائوڈ اسپیکر کا استعمال کرنا ممنوع قرار دیا گیا ہے۔

اس پر ججوں نے پوچھا کہ کیا اس حکم پر عملدرآمد ہورہا ہے؟ انہوں نے مزید کہا کہ ’’یہ سب صرف کاغذات پر اچھا لگتا ہے۔ حقیقت میں ان سب احکام کی خلاف ورزی واضح ہے۔‘‘

ججوں نے کہا کہ تمام تہواروں میں جلوس نکالنے کیلئے جو بھی اجازت نامے حاصل کئے جاتے ہیں اب سے انہیں نمایاں طور پر ظاہر کرنا ضروری ہوگا۔ پولیس کو متعلقہ افسران کو حکم دینا ہوگا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ راستوں پر پٹاخے نہ پھوڑے جائیں اور آواز کی سطح اجازت سے زیادہ نہ ہو۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK