• Wed, 23 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

معیشت میں نجی سرمایہ کاری رفتار پکڑ رہی ہے : سیتا رمن

Updated: September 23, 2026, 12:07 PM IST | New Delhi

وزیر مالیات نرملا سیتا رمن نے کہا کہ معیشت میں اس وقت نجی شعبے کی سرمایہ کاری میں اضافہ واضح طور پر نظر آ رہا ہے اور سرکاری کام کاج کی آج کی رفتار نے اس پرانے تصور کو بدل دیا ہے کہ انتظامی کام ہے تو تاخیر ہوگی ہی۔

Nirmala Sitharaman.Photo:INN
نرملا سیتارمن۔ تصویر:آئی این این

وزیر مالیات نرملا سیتا رمن نے منگل کے روز کہا کہ معیشت میں اس وقت نجی شعبے کی سرمایہ کاری میں اضافہ واضح طور پر نظر آ رہا ہے اور سرکاری کام کاج کی آج کی رفتار نے اس پرانے تصور کو بدل دیا ہے کہ انتظامی کام ہے تو تاخیر ہوگی ہی۔   سیتا رمن یہاں مینجمنٹ کے شعبے کے اعلیٰ ادارے - آل انڈیا مینجمنٹ ایسوسی ایشن (اے آئی ایم اے) کی ۵۳؍ویں آل انڈیا مینجمنٹ کانفرنس سے خطاب کر رہی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کے اندازاً سرمائے کے اخراجات کو ۲۷۔۲۰۲۶ء میں بڑھا کر ۱۲؍ لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کر دیا گیا ہے۔ مؤثر سرمائے کا خرچ، جس میں ریاستوں کو سرمائے کے اثاثے بنانے کے لیے مرکز کی طرف سے دی جانے والی گرانٹس بھی شامل ہیں، ۱۷؍ لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ ہو گیا ہے۔ 
سیتا رمن نے کہا’’حکومت نے نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی اور اسے راغب کرنے کے مقصد سے عوام کے سرمائے کے اخراجات کا حکمت عملی کے تحت استعمال کیا ہے اور اس کے نتیجے میں نجی سرمایہ کاری میں اضافہ واضح طور پر دکھائی دے رہا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ مالیاتی سال۲۷۔۲۰۲۶ء کی پہلی سہ ماہی میں مجموعی مستحکم سرمائے کی تشکیل مجموعی گھریلو پیداوار کے ۳۴؍ فی صد سے زیادہ ہو گئی۔ اس میں حقیقی طور پر تقریباً ۱۲؍ فیصد کا اضافہ ہوا ہے، جب کہ مینوفیکچرنگ کے شعبے میں صلاحیت کا استعمال بڑھ کر ۷۵؍ فی صد ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروبار کو اس آپریشنل رفتار سے دوہری (بینکوں اور کمپنیوں کی) بیلنس شیٹ کے مسئلے (بینک کا قرض نہ چکا پانے والی کمپنیوں کو بینکوں سے قرض پر قرض ملنے کا مسئلہ) کے حل سے طاقت ملی ہے۔ انہوں نے کہا، "آج ہندوستان دُہری بیلنس شیٹ کے فائدے کی صورتحال میں ہے-تجارتی بینکوں کے پاس قرض دینے کے لیے کافی سیالیت ہے اور کمپنیوں کی مالی حالت سرمایہ کاری کرنے کے لیے کافی مضبوط ہے۔‘‘ 
وزیر مالیات نے کہا کہ صنعت کے شعبے کے لیے بینک قرض کی نمو میں بھی تیزی آئی ہے۔ اس سال جون میں بینکوں کے قرض کے کاروبار میں سالانہ بنیادوں پر ۱۹؍ فیصد کا اضافہ درج کیا گیا۔ قرض ان لوگوں اور شعبوں تک پہنچ رہا ہے جنہیں اس کی ضرورت ہے۔ مسز سیتا رمن نے کہا کہ دوسرے ملکوں کے ساتھ ہندوستان کے آزادانہ تجارتی معاہدے (مختلف ایف ٹی ایز) ہندوستان کی محنت طلب اشیاء اور خدمات کے لیے نئی منڈیوں کے دروازے کھول رہے ہیں۔ انہوں نے تجارتی شعبے کو اس موقع کا فائدہ اٹھانے کی ترغیب دی۔ 

یہ بھی پڑھئے:ایشین گیمز:ہندوستانی مردوں کی بیڈمنٹن ٹیم نے تمغہ پکا کیا، خواتین ٹیم کوارٹر فائنل میں باہر

سیتا رمن نے اس کانفرنس کے موضوع   مستقبل کے لیے تبدیلی: ثبات کے ساتھ نمو  پر اپنے خطاب میں حکومت کے مختلف شعبوں میں کام کی رفتار میں تیزی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اہم بندرگاہوں پر جہازوں میں اینٹری اور ایگزٹ کا وقت ایک دہائی میں تقریباً آدھا ہو گیا ہے، ریل نیٹ ورک اب تقریباً پوری طرح سے برقی ہو چکا ہے اور مال برداری بڑھ کر ریکارڈ۶۷ء۱؍  کروڑ ٹن تک پہنچ گئی ہے نیز ڈجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کے ذریعے اگست ۲۰۲۶ء میں روزانہ اوسطاً تقریباً ۷۹؍ کروڑ لین دین ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستیں سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے ایک دوسرے سے مقابلہ کر رہی ہیں اور اس مقابلے کے نتیجے میں اعلیٰ قدر والی سرگرمیاں کوئمبٹور، وڈودرا، وشاکھاپٹنم، اندور، بھوبنیشور اور جے پور جیسے ٹائر-۲؍اور ٹائر-۳؍مراکز تک پھیل رہی ہیں۔ سیمی کنڈکٹر مشن ۰ء۲؍ بھی اسی ماڈل پر مبنی ہے، جس میں مرکز کے تیار کردہ فریم ورک کے ساتھ ریاستوں کے ذریعے مؤثر عمل آوری کو جوڑا گیا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:مارک ووڈ کا بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ

انہوں نے کہا کہ جولائی ۲۰۲۴ء میں اقتدار میں واپس آنے کے بعد نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) حکومت نے اپنے پہلے بجٹ میں اصلاحات اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے پر زور دیا، جس سے بالآخر روزگار اور روزی روٹی کے مواقع بڑھتے ہیں۔ اس سے ہمیں ترقی اور مضبوطی مل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے پہلی بار نوکری دینے پر انسیٹو دیا، آلات کار کے ریٹائرمنٹ کنٹری بیوشن کا کچھ حصہ بھرا اور کارپوریٹ انٹرنشپ شروع کی - یہ تمام روزگار سے جڑے انسیٹو  (ای ایل آئی) اسکیموں کے تحت کیے گئے۔ 
وزیر مالیات نے کہا کہ مالیاتی سال ۲۶۔۲۰۲۵ء کے بجٹ میں انکم ٹیکس کی شرحوں میں کٹوتی کی گئی اور سلیب کا دائرہ بڑھایا گیا، جس سے خرچ کرنے کے قابل آمدنی اور کل مانگ میں اضافہ ہوا۔ ہمارا مقصد صرف اپنانا نہیں، بلکہ قیادت کرنا ہونا چاہیے۔ انہوں نے مینجمنٹ کی دنیا کو نئی سوچ کے ساتھ آگے بڑھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا’’دہائیوں سے ہم نے کائیزن سے لے کر لین مینوفیکچرنگ  تک دوسری جگہوں پر تیار کردہ مینجمنٹ کے طریقوں سے سیکھا ہے۔ اگلا قدم اپنے یہاں مینجمنٹ کے ایسے طریقے بنانا ہے جن کا دنیا مطالعہ کرے اور ایسے معیارات قائم کرنے ہیں جو عالمی اصول بن جائیں۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK