Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’اسمارٹ سٹی مشن پر ۴۸؍ہزار کروڑ خرچ مگر کیا تبدیلی آئی؟‘‘

Updated: March 31, 2026, 10:51 PM IST | New Delhi

راہل گاندھی کا مرکزسے چبھتا ہوا سوال ،کہاکہ اربوں روپے خرچ ہوگئے لیکن عام شہری کی زندگی جوں کی توں ہے

Congress leader Rahul Gandhi
کانگریس لیڈ ر راہل گاندھی

 اسمارٹ سٹی مشن کو لے کر ایک بار پھر سیاسی بحث تیز ہو گئی ہے  جہاں کانگریس کے  لیڈرراہل گاندھی نے حکومت سے اس منصوبے کے حقیقی نتائج پر سوال اٹھاتے ہوئے اسے عوام کے ساتھ ’دھوکہ‘ قرار دیا۔ انہوں نے اپنی فیس بک پوسٹ میں کہا کہ کوئی بھی شہر اس وقت تک ’اسمارٹ‘ نہیں کہلا سکتا جب تک وہ اپنے شہریوں کو صاف پانی، بہتر فضا اور بنیادی تحفظ فراہم نہ کرے۔راہل گاندھی نے کہا کہ وزیر اعظم اس منصوبے کی مسلسل تعریف کرتے رہتے ہیں لیکن جب یہ منصوبہ اپنے اختتام کے قریب پہنچ رہا ہے تو اس کے نتائج مایوس کن نظر آتے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھاتے ہوئے جاننا چاہا کہ اسمارٹ سٹی کی تعریف کیا ہے، کامیابی کا معیار کیا رکھا گیا، کتنے شہر واقعی بدلے اور عام لوگوں کی زندگی میں کیا ٹھوس بہتری آئی۔
 حکومت کی جانب سے د ئیے گئے جواب کے مطابق اسمارٹ سٹی مشن کے تحت مرکز نے تقریباً ۴۸؍ ہزار کروڑ روپے مختص  کئے جن میں سے ۴۷؍ ہزار کروڑ سے زیادہ کی مالی مدد جاری کی جا چکی ہے اور تقریباً ۴۶؍ ہزار کروڑ روپے استعمال بھی ہو چکے ہیں۔ جواب میں یہ بھی بتایا گیا کہ اس منصوبے کے تحت ۱۰۰؍ شہروں میں ۸؍ہزار سے زیادہ پروجیکٹ شروع کئے گئے، جن میں سے ۹۷؍فیصد مکمل ہو چکے ہیں جبکہ کچھ منصوبے ابھی عمل درآمد کے مرحلے میں ہیں۔وزیر مملکت برائے شہری امور توکھن ساہو نے اپنے جواب میں وضاحت کی کہ اسمارٹ سٹی مشن کا مقصد پورے شہر کی یکساں ترقی نہیں بلکہ مخصوص علاقوں میں جدید سہولیات فراہم کرنا تھا تاکہ وہ ماڈل اپنایا جائے۔ 
 تاہم راہل گاندھی نے اس دعوے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر واقعی ۹۷؍ فیصد منصوبے مکمل ہو چکے ہیں تو پھر شہروں میں بنیادی مسائل کیوں برقرار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زمینی حقیقت یہ ہے کہ کئی شہروں میں آلودہ پانی، کھلے نالے، گرتے پل اور دھنستی سڑکیں عام ہیں، جو اس منصوبے کی ناکامی کو ظاہر کرتی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK