Inquilab Logo Happiest Places to Work

’ون رانی ‘افتتاح کے پہلے ہی ہفتے میں بند پڑگئی!

Updated: March 26, 2026, 10:47 PM IST | Mumbai

سنجے گاندھی نیشنل پارک میں اس پروجیکٹ کی تجدید کاری پر ۴۳؍کروڑ روپے خرچ کئے گئےہیں

The toy train named One Rani in Sanjay Gandhi National Park
سنجے گاندھی نیشنل پارک کی ون رانی نامی ٹوائے ٹرین

سنجے گاندھی نیشنل پارک میں طویل انتظار کے بعد شروع ہونے والی ’ون رانی‘ نامی ٹوائے ٹرین  افتتاح کے ایک ہفتے کے اندر ہی بند پڑگئی۔ بتایا گیا کہ انجن میں تکنیکی خرابی کے باعث ٹوائے ٹرین سروس عارضی طور پر بند  ہے۔ اس باعث پارک آنے والے سیاح اس سواری سے لطف اندوز ہوئے بغیر مایوس ہو کر واپس لوٹنے پر مجبور ہیں۔
 ایس جی این پی  کے  ڈپٹی ڈائریکٹر کرن پاٹل نے کہا کہ ’’انجن کے ایک پرزے میں خرابی کی نشاندہی ہوئی ہے جسے احمد آباد سے منگوایا جائے گا۔ توقع ہے کہ ایک دو دن میں  دونوں ٹرینوں میں اسے تبدیل کر دیا جائے گا، جس کے بعد سروس دوبارہ شروع ہونے کا امکان ہے۔‘‘ایک اہلکار کے مطابق’ریل انڈیا ٹیکنیکل اینڈ اکنامک سروس لمیٹیڈ‘، جسے یہ پروجیکٹ دیا گیا تھا، سے اس مسئلے پر تحریری وضاحت طلب کی گئی ہے جس کی وجہ سے سروس عارضی طور پر معطل کرنی پڑی۔ 
 خیال رہے کہ اس منی ٹرین اور اس سے متعلقہ تعمیراتی کاموں پر۴۳؍کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے گئے ہیں۔ نئی ٹرین بیٹری سے چلتی ہے اور اس میں وِسٹا ڈوم کوچز ہیں، جن کے ذریعے سیاح پارک کے خوبصورت مناظر دیکھ سکتے ہیں۔ اس ٹرین کے تین ڈبوں میں تقریباً۷۰؍ سے۸۰؍ افراد سفر کر سکتے ہیں، اور اس سروس سے ایس جی این پی  کی آمدنی میں اضافہ متوقع ہے۔ جب یہ ٹرین فعال ہوتی ہے تو صبح۹؍ بجے سے دوپہر۱۲؍بجے تک ہر۳۰؍ منٹ بعد چلتی ہے، جبکہ دوپہر میں ڈیڑھ بجے سے شام ۳۰:۵؍بجے تک اسی وقفے سے چلتی ہے۔
 ون رانی کا افتتاح۱۴؍ مارچ۲۰۲۶ء کو ہوا تھا اور ابتدائی چند دنوں میں یہ سروس بخوبی چلتی رہی۔ اس دوران پارک آنے والے بہت سے سیاحوں نے منی ٹرین کی سواری کا لطف اٹھایا اور اس  تجربہ پر خوشی کا اظہار کیا۔
۱۹۷۰ء سے یہ ٹرین چل رہی ہے
 خیال رہے کہ  یہ ٹوائے ٹرین پہلی بار۱۹۷۰ء میں چلائی گئی تھی اور ابتدا میں ڈیزل انجن سے چلتی تھی۔ یہ بچوں اور نوجوانوں میں بے حد مقبول تھی، اور اس کے تین ڈبے۲ء۷؍کلومیٹر کے راستے پر چلتے تھے۔ تاہم مئی ۲۰۲۱ء میں آنے والے سائیکلون تاکتائے کے دوران اس ٹرین اور اس کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا، جس کے باعث یہ سروس بند ہو گئی تھی۔
  پارک میں آنے والے ایک شخص نے نام ظاہر کرنے کی شرط پر کہا کہ ’’ٹرین سروس دو دن سے زائد عرصے سے معطل ہے۔ مجھے ایک دوست نے بتایا کہ ایک ٹرین دورانِ سفر تکنیکی خرابی کا شکار ہو گئی تھی اور اسے ریورس میں واپس اسٹیشن لانا پڑا۔‘‘ڈاکٹر انیتا رانے کوتھارے، جو آٹھ دیگر افراد کے ساتھ سنجے گاندھی پارک  نیشنل پارک آئی تھیں، نے کہا’’یہ بہت افسوسناک ہے۔ ہم خاص طور پر نئی شروع ہونے والی ون رانی کی سواری  کے لئے آئے تھے، لیکن یہ جان کر حیرت ہوئی کہ تکنیکی مسائل کی وجہ سے سروس بند ہے۔ ہمارے جیسے بہت سے لوگ صرف اسی مقصد کے لیے آئے تھے۔‘‘ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK