فرانس نے ہندوستانی آئی ٹی کمپنی انفوسس پر ملازمین کے کام کے اوقات کی نگرانی سے متعلق مقامی لیبر قوانین کی خلاف ورزی پر۱۷۵۰۰۰؍ یورو (تقریباً۲؍کروڑ روپے) کا جرمانہ عائد کیا ہے۔
EPAPER
Updated: July 28, 2026, 5:04 PM IST | Paris
فرانس نے ہندوستانی آئی ٹی کمپنی انفوسس پر ملازمین کے کام کے اوقات کی نگرانی سے متعلق مقامی لیبر قوانین کی خلاف ورزی پر۱۷۵۰۰۰؍ یورو (تقریباً۲؍کروڑ روپے) کا جرمانہ عائد کیا ہے۔
فرانس نے ہندوستانی آئی ٹی کمپنی انفوسس پر ملازمین کے کام کے اوقات کی نگرانی سے متعلق مقامی لیبر قوانین کی خلاف ورزی پر۱۷۵۰۰۰؍ یورو (تقریباً۲؍کروڑ روپے) کا جرمانہ عائد کیا ہے۔کمپنی نے ۲۵؍ جولائی کو اسٹاک ایکسچینج کو دی گئی اطلاع میں بتایا کہ فرانس کے لیبر ریگولیٹر DRIEETS Île-de-France نے اس کے ملازمین کے اوقاتِ کار ریکارڈ کرنے کے نظام کو مقامی قوانین کے مطابق نہ ہونے پر جرمانہ عائد کیا۔تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ انفوسس کے ورکنگ آورز ریکارڈنگ سسٹم میں قابلِ اعتماد ہونے، آڈٹ کے لیے موزوں ہونے اور مؤثر نگرانی کے حوالے سے بعض خامیاں موجود تھیں، خاص طور پر ملازمین کی کچھ مخصوص کیٹیگریز کے لیے۔ اس کے باعث ریگولیٹرز اور آڈیٹرز کے لیے ملازمین کے اصل کام کے اوقات کی تصدیق کرنا مشکل ہو رہا تھا۔
یہ بھی پڑھئے:ممبرا میں دوسری منزلہ کی چالی کا حصہ پہلے منزلہ پر گرا، ۱۵؍سالہ لڑکی کی موت
فرانس کے سخت لیبر قوانین
فرانس کے لیبر قوانین کے مطابق ملازمین کے لیے عام طور پر ہفتے میں ۳۵؍ گھنٹے کام مقرر ہیں جبکہ بعض شعبوں میں یہ مدت زیادہ سے زیادہ ۴۸؍ گھنٹےتک بڑھائی جا سکتی ہے۔ ایسی صورت میں کمپنیوں کے لیے ملازمین کے کام کے اوقات کی مکمل نگرانی لازمی ہوتی ہے تاکہ اضافی کام کی صورت میں قانون کے مطابق اوور ٹائم ادا کیا جا سکے۔قانون کے تحت اگر ملازم ۳۵؍ گھنٹوں سے زیادہ کام کرتا ہے تو ابتدائی آٹھ اضافی گھنٹوں کے لیے۱۲۵؍ فیصد شرح سے اوور ٹائم ادا کیا جاتا ہے جبکہ اس کے بعد ۱۵۰؍ فیصد شرح لاگو ہوتی ہے۔ انفوسس نے یہ واضح نہیں کیا کہ کن ملازمین کی کیٹیگریز اس معاملے سے متاثر ہوئیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ نگراں ادارہ کے فیصلے کا جائزہ لے رہی ہے اور اس جرمانے سے اس کی مالی حالت، کاروباری سرگرمیوں یا آپریشنز پر کوئی نمایاں اثر نہیں پڑے گا۔
یہ بھی پڑھئے:کون ہیں محمد عرفان جن سے ملنے راہل گاندھی اُن کی جھوپڑی میں گئے
سوشل میڈیا پر ردعمل
اس خبر کے بعد سوشل میڈیا پر بھی بحث چھڑ گئی، خاص طور پر اس لیے کہ انفوسس کے بانی نارائن مورتی ماضی قریب میں ہندوستان میں۷۰؍ گھنٹے فی ہفتہ کام کرنے کی وکالت کر چکے ہیں۔ کئی صارفین نے فرانس کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ملازمین کو ضرورت سے زیادہ کام پر مجبور کرنا ان کی ذہنی صحت اور خاندانی زندگی پر منفی اثر ڈالتا ہے، اس لیے ایسے قوانین کارکنوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں۔