• Mon, 28 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

کلیان: پیدائش و اموات کے ریکارڈ کی عدم دستیابی سے شہری پریشان!

Updated: September 28, 2026, 11:01 AM IST | Ejaz Abdul Ghani | Kalyan

ریکارڈ کی درستگی میں غیر معمولی تاخیرکے سبب شہریوں کو مشکلات کا سامنا، مقامی کارپوریٹر نے فوری طور پر سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔

Kalyan-Dombivli Municipal Corporation headquarters. Photo: INN
کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن کا صدر دفتر۔ تصویر: آئی این این

کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن (کے ڈی ایم سی) کے انتظامی نظام کی سست روی اور مبینہ لاپروائی کا خمیازہ اب عام شہریوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔بالخصوص پیدائش اور اموات کے ریکارڈ میں درستگی اور ضروری ترمیم کے عمل میں غیر معمولی تاخیر نے شہریوں کیلئے شدید مشکلات پیدا کردی ہیں۔قانونی دستاویزات کے حصول کیلئے ضروری ان ریکارڈ کی بروقت درستگی نہ ہونے کے باعث ہزاروں شہری سرکاری دفاتر کے چکر لگانے اور در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں جس سے شہریوں میں انتظامیہ کے تئیں ناراضگی اور بے چینی بڑھتی جارہی ہے۔

اطلاعات کے مطابق کارپوریشن کی عدم توجہی کے باعث پیدائش اور موت کے ریکارڈ کے حصول میں شدید تاخیر ہو رہی ہے۔ طلبہ اسکولوں اور کالجوں میں داخلوں سے محروم ہو رہے ہیں جبکہ شہریوں کے پاسپورٹ، وراثت، جائیداد کی منتقلی اور اہم سرکاری اسکیموں سے متعلق کام رک چکے ہیں۔صورتحال اس قدر سنگین ہے کہ ایک معمولی این او سی کیلئے عوام کو ۱۰؍ سے ۱۵ ؍دن تک انتظار کرنا پڑ رہا ہے ستم بالائے ستم یہ کہ سسٹم میں ریکارڈ موجود ہونے کے باوجود شہریوں سے حلف نامے مانگے جا رہے ہیں اور نام و تاریخ کے معمولی ردوبدل کیلئے انہیں دفاتر کے نا ختم ہونے والے چکر لگوائے جا رہے ہیں۔ ڈیجیٹلائزیشن جس کا مقصد عوام کو سہولت پہنچانا تھا آج کارپوریشن کے عملے کی غیر سنجیدگی کی بدولت شہریوں کے لئے ایک مستقل درد سر بن چکا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:کالا تالاب پر فلوٹنگ جیٹی کے منصوبہ پرمیئر برہم

عوامی مشکلات اور روز بروز بڑھتی شکایات کے پیش نظر مقامی کارپوریٹر رمیز منیار نے کے ڈی ایم سی کے سسٹم منیجر کو ایک باضابطہ مکتوب ارسال کرتے ہوئے سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے خط میں واضح کیا کہ وارڈ نمبر ۸ ؍سمیت شہر بھر سے لوگ روزانہ اپنی شکایات لے کر ان کے پاس پہنچ رہے ہیں جنہیں پیدائش و اموات کی نقول کے حصول میں غیر معمولی تاخیر کا سامنا ہے۔رمیز منیار نے اپنے مکتوب میں کہا کہ پیدائش کا سرٹیفکیٹ کسی بھی شہری کی بنیادی سرکاری شناخت اور انتہائی اہم ترین دستاویز ہے جس کے بغیر شہری حقوق مفلوج ہو کر رہ جاتے ہیں۔

انہوں نے انتظامیہ کو متنبہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اگر نظام میں کوئی تکنیکی خرابی ہے یا افرادی قوت کی کمی آڑے آ رہی ہے تو اسے عذر بنا کر شہریوں کو نہ ستایا جائے بلکہ اعلیٰ حکام کو فوری آگاہ کر کے اضافی عملہ تعینات کیا جائے۔انہوں نے زور دیا کہ تمام ریکارڈ کو ترجیحی بنیادوں پر سسٹم میں اپلوڈ کرکے شہریوں کو بلا تاخیر اور باآسانی سرٹیفکیٹس فراہم کئے جائیں بصورت دیگر انتظامیہ کے اس غیر ذمہ دارانہ رویے کے خلاف عوامی سطح پر آواز بلند کی جائے گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK