فرانس نے اسرائیلی کابینہ کے وزیر اتمار بین گوئیر کے ملک میں داخلے پر پابندی عائد کردی ہے، یہ اقدام غزہ کے لیے جانے والے ایک امدادی بحری قافلے فلوٹیلا کے کارکنوں کے ساتھ اس کے وحشیانہ سلوک کے بعد کیا گیا ہے۔
EPAPER
Updated: May 23, 2026, 9:01 PM IST | Paris
فرانس نے اسرائیلی کابینہ کے وزیر اتمار بین گوئیر کے ملک میں داخلے پر پابندی عائد کردی ہے، یہ اقدام غزہ کے لیے جانے والے ایک امدادی بحری قافلے فلوٹیلا کے کارکنوں کے ساتھ اس کے وحشیانہ سلوک کے بعد کیا گیا ہے۔
فرانس نے اسرائیلی کابینہ کے وزیر اتمار بین گوئیر کے ملک میں داخلے پر پابندی عائد کردی ہے، یہ اقدام غزہ کے لیے جانے والے ایک بحری قافلے فلوٹیلا کے کارکنوں کے ساتھ اس کے وحشیانہ سلوک کے بعد کیا گیا۔ فرانسیسی وزیر خارجہ نے یورپی یونین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیلی وزیر پر پابندیاں عائد کرے، کیونکہ اس قافلے میں شامل یورپی شہریوں کے ساتھ بدسلوکی کے واقعات پیش آئے ہیں۔فرانس نے کہا ہے کہ اتمار بین گوئیر، جو اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا اتحادی ہے، کو فرانسیسی سرزمین میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ فرانسیسی وزیر خارجہ جین نویل باروٹ نے اس اقدام کو ان کے ’’ناقابلِ قبول اقدامات‘‘ قرار دیا۔
🇮🇱🇵🇸 Israeli Minister of National Security Ben-Gvir visited detainees from the Global Sumud Flotilla.
— Mario Nawfal (@MarioNawfal) May 20, 2026
"Welcome to Israel, we are in charge here.”
He seems to take real pleasure in trolling them… https://t.co/ekLbk8cO5D pic.twitter.com/iXLr0Fb7aW
بعد ازاں باروٹ نے کہا کہ فرانس اپنے شہریوں کو دھمکانے ، ڈرانے یا ان کے ساتھ بدسلوکی کو برداشت نہیں کرے گا، خاص طور پر جب یہ کسی سرکاری وزیر کی طرف سے ہو۔باروٹ نے مزید کہا کہ بین گویر کے خلاف بہت سے اسرائیلی حکومتی اور سیاسی شخصیات نے بھی احتجاج کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین گوئیر فلسطینیوں کے خلاف نفرت اور تشدد پر اکسانے والے بیانات اور اقدامات کا ارتکاب کرتا رہا ہے ۔ ساتھ ہی باروٹ نے یورپی یونین سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اتمار بین گوئیر پر پابندیاں عائد کرے۔ واضح رہے کہ فرانس کایہ فیصلہ ایک ویڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد کیا گیا جس میں بین گوئیر کو گرفتار کارکنوں کے درمیان اسرائیلی جھنڈا لہراتے اور ان کا مذاق اڑاتے دکھایا گیا ہے۔
اس سے قبل اطالوی وزیر خارجہ نے یورپی یونین سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ بین گویر کے خلاف پابندیوں پر غور کرے۔ اسی طرح آئرش وزیر اعظم نے بھی یورپی یونین کے اجلاس میں اس معاملے پر باقاعدہ بحث کی درخواست کی ہے۔واضح رہے کہ یہ بحری قافلہ، جس میں۴۴؍ ممالک کے۴۲۸؍ افراد سوار تھے، ترکی سے غزہ کے لیے روانہ ہوا تھا تاکہ اسرائیل کی طرف سے۲۰۰۷ء سے غزہ پر لگائی گئی بحری ناکہ بندی کو توڑا جا سکے۔