سپلائی میں خلل اور قیمتوں میں اضافہ: مغربی ایشیا کی جنگ کے باعث خام مال کی قیمتوں میں ۵۰؍ فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے مینوفیکچرنگ سیکٹر کے لیے پرانی قیمتوں پر قائم رہنا تقریباً ناممکن ہو گیا ہے۔
EPAPER
Updated: April 06, 2026, 6:06 PM IST | Mumbai
سپلائی میں خلل اور قیمتوں میں اضافہ: مغربی ایشیا کی جنگ کے باعث خام مال کی قیمتوں میں ۵۰؍ فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے مینوفیکچرنگ سیکٹر کے لیے پرانی قیمتوں پر قائم رہنا تقریباً ناممکن ہو گیا ہے۔
اس سال کی گرمی صرف درجہ حرارت ہی نہیں بلکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے بھی لوگوں کو پریشان کر رہی ہے۔ مغربی ایشیا اور ایران میں جاری جنگ کے باعث خام تیل اور گیس کی سپلائی چین شدید متاثر ہوئی ہے، جس کا براہِ راست اثر اب ہندوستان میں صارفین کی اشیاء کی قیمتوں پر نظر آ رہا ہے۔ بوتل بند پانی سے لے کر ایئر کنڈیشنر (اے سی) بنانے والی کمپنیوں نے خام مال اور ان پٹ لاگت بڑھنے کے باعث اپنی مصنوعات مہنگی کر دی ہیں۔
شیشے سے پلاسٹک تک سب مہنگا
مغربی ایشیا کے بحران نے پیکیجنگ انڈسٹری کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔ بیئر اور کولڈ ڈرنکس استعمال کرنے والوں کے لیے آنے والے دن مہنگے ہو سکتے ہیں۔بریورس اسوسی ایشن آف انڈیا کے مطابق، شیشے کی بوتلوں اور کین کی سپلائی متاثر ہونے سے لاگت میں ۲۰؍ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ کمپنیاں اب کین درآمد کرنے پر غور کر رہی ہیں، جس سے قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔ اسی طرح مہاراشٹر بوٹلڈ واٹر مینوفیکچرس سوسی ایشن نے ۱۲؍ لیٹر پانی کے باکس پر۲۵؍ روپے اضافے کا اعلان کیا ہے۔ پیٹ ریزن اور پلاسٹک بوتلوں کی قیمتوں میں ۵۰؍ فیصد تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔لاہور جیراجیسے مشہور برانڈز نے بھی کچھ پیک سائزز کی قیمتیں بڑھا دی ہیں۔ کمپنیوں کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ لاگت کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے ضروری تھا۔
اے سی کی قیمتوں میں ۱۵؍تک اضافہ
خام مال کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور روپے کی قدر میں کمی کے باعث اے سی بنانے والی کمپنیوں نے بھی قیمتیں بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔پیناسونک مرحلہ وار اپنی قیمتوں میں ۱۲؍ سے۱۵؍ فیصد تک اضافہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔بلیو اسٹار پہلے ہی۸؍ فیصد اضافہ کر چکی ہے اور اب مجموعی طور پر۱۳؍ فیصد تک بڑھانے کی تیاری میں ہے۔گودریج نے بھی اس ماہ کے آغاز سے مختلف کیٹیگریز میں ۵؍ سے۱۰؍ فیصد تک قیمتیں بڑھا دی ہیں۔ کمپنیوں کے مطابق ایل پی جی، پولی پروپلین اور پولی اسٹائرین کی کم دستیابی کی وجہ سے پیداواری لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:آئی پی ایل ۲۰۲۶ء: راجستھان رائلز تیسری فتح کی تلاش میں، ممبئی انڈینز کو واپسی کی امید
بے موسم بارش سے مانگ میں کمی
مارچ کے دوران ملک کے وسطی اور شمالی حصوں میں ہونے والی بے موسم بارش کے باعث اے سی اور کولنگ مصنوعات کی فروخت کچھ سست رہی۔ تاہم کمپنیاں آنے والے مہینوں میں مانگ بڑھنے کی توقع کر رہی ہیں۔ اسی لیے کمپنیاں اپنی پیداواری صلاحیت بڑھا رہی ہیں تاکہ گرمیوں کے عروج کے دوران طلب کو پورا کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھئے:چیتک اسکرین ایوارڈز: ’’ہوم باؤنڈ‘‘ بہترین فلم ، ’’دُھرندر‘‘ کا غلبہ
ان پٹ لاگت اور سپلائی چین کا بحران
مغربی ایشیا کی جنگ کے باعث نہ صرف تیل بلکہ پلاسٹک بنانے میں استعمال ہونے والے کیمیکلز اور پیکیجنگ کے لیے درکار کارڈ بورڈ بکس کی قیمتیں بھی تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ کچھ خام مال کی قیمتوں میں ۵۰؍ فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے، جس سے مینوفیکچرنگ سیکٹر کے لیے پرانی قیمتوں پر برقرار رہنا ممکن نہیں رہا۔