Updated: October 07, 2026, 6:50 PM IST
| Paris
فرانس کے کئی شہروں میں منگل کو طلبہ تحریک کی حمایت میں ہونے والے مظاہروں میں تقریباً ۵؍ لاکھ مظاہرین نے شرکت کی، جبکہ۴۸۸؍ افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ منتظمین کے مطابق یہ احتجاج ملک گیر سطح پر پھیل چکا ہے اور اس نے ایک بڑی عوامی تحریک کی شکل اختیار کر لی ہے۔
فرانس میں طلبہ کے اھتجاج کی ایک تصویر۔ تصویر: ایکس
فرانس کے کئی شہروں میں منگل کو طلبہ تحریک کی حمایت میں ہونے والے مظاہروں میں تقریباً ۵؍ لاکھ مظاہرین نے شرکت کی، جبکہ۴۸۸؍ افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ منتظمین کے مطابق یہ احتجاج ملک گیر سطح پر پھیل چکا ہے اور اس نے ایک بڑی عوامی تحریک کی شکل اختیار کر لی ہے۔حکام کے مطابق یہ تحریک مجموعی طور پر بڑی حد تک پرامن رہی ہے، تاہم بعض مقامات پر پرتشدد واقعات بھی پیش آئے ہیں، جن میں آگ لگانا، املاک کو نقصان پہنچانا اور عملے اور پولیس پر حملے شامل ہیں۔ دو ہفتوں سے زیادہ عرصے سے جاری کلاس بائیکاٹ، اسکولوں کی ناکہ بندی اور پولیس کارروائی کے نتیجے میں۶۵۰۰؍ سے زائد گرفتاریاں ہو چکی ہیں، جن میں اکثریت نابالغ طلبہ کی ہے۔
واضح رہے کہ طلبہ کی قیادت میں یہ تحریک ستمبر کے آخر میں عملے کی کمی، کلاس رومز میں حد سے زیادہ بھیڑ اور اسکولوں کی ناکافی سہولیات کے خلاف شکایات پر شروع ہوئی تھی۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ برسوں سے تعلیمی نظام میں سرمایہ کاری کی کمی، اساتذہ کی کمی اور خستہ حال عمارتوں نے تعلیم کے معیار کو شدید متاثر کیا ہے۔بعد ازاں طلبہ، والدین کے گروپس اور ایمنسٹی انٹرنیشنل جیسی انسانی حقوق کی تنظیموں نے حکام پر الزام لگایا ہے کہ وہ نابالغوں کے خلاف غیر متناسب طاقت کا استعمال کر رہے ہیں۔ دوسری جانب حکومت کا مؤقف ہے کہ احتجاجی تحریک کو باہر کے عناصر نے ہائی جیک کر لیا ہے اور بعض مقامات پر یہ شہری تشدد میں بدل گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل خانہ جنگی کا شکار ہو سکتا ہے: امریکی خفیہ رپورٹ
مزید برآں حالیہ دنوں میں پولیس تشدد کے دو سنگین واقعات نے عوامی غم و غصے کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ایک واقعے میں فساد روکنے والی پولیس کی کارروائی کے دوران گرنیڈ پھٹنے سے۱۵؍ سالہ لڑکے کا ہاتھ اڑ گیا، جبکہ دوسرے واقعے میں پولیس کی جانب سے ربڑ کی گولیاں چلانے سے۱۶؍ سالہ نوجوان کی آنکھ زخمی ہو گئی۔ حکام کے مطابق پولیس کے رویے کی تحقیقات کے لیے کل۱۰؍ عدالتی انکوائریاں شروع کی گئی ہیں۔جبکہ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ تحریک اب صرف تعلیمی مطالبات تک محدود نہیں رہی بلکہ فرانس میں نوجوانوں میں پائی جانے والی بے چینی اور حکومتی پالیسیوں پر عدم اعتماد کی علامت بن گئی ہے۔